شیو سینا کی تاریخ اور تشدد کی داستان

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کی دہائیوں سے فطری اور نظریاتی اتحادی جماعت شیو سینا نے اب لگتا ہے کہ اب اپنی توپوں کے دہانوں کا رخ مودی انتظامیہ کی جانب کردیا ہے کیونکہ حکومت میں چند اعلیٰ شخصیات نے بال ٹھاکرے کے حمایتیوں اور وفاداروں کی جانب سے چند روز قبل بھارتی کرکٹ بورڈ پر حملے کے خلاف لب کشائی کی ہے۔ شیوسینا کے کام کرنے کا یہی انداز ہے اور وہ خود پر تنقید برداشت نہیں کرتی۔ اس نے بالی وڈ اسٹار شارخ خان اور عظیم کرکٹر سچین ٹنڈولکر کو بھی ہراساں کیا۔ صنعت کار سرجھکاتے، عدالتیں فرماں بردار اور ریاستی مشنری کم از کم مہاراشٹر میں ٹھاکرے خاندان کی تابع دار ہے۔ کوئی نافرمانی برداشت نہیں کی جاتی۔ شیوسینا (شیوا کی فوج )ایک ہندو قوم پرست سیاسی تنظیم ہے جسے 19 جون1966 کو بالا صاحب ٹھاکرے نے ممبئی میں قائم کیا۔ بال ٹھاکرے جو ایک انگریزی روزنامے میں کارٹونسٹ تھے۔ انہوں نے 1960 میں یہ ملازمت ترک کردی اور اپنا سیاسی ہفت روزہ 146146مرمیک145145 نکالا وہ اپنے والد کیشو سیتا رام ٹھاکرے سے متاثر تھے جو یونائیٹڈ مہاراسٹر موومنٹ میں نمایاں رہے، ان کا مطالبہ لسانی بنیادوں پر ریاست کا قیام تھا جس کا دارالحکومت ممبئی ہو۔ ان کے کارٹون گجراتی اور جنوبی بھارتی مہاجرین کی مخالفت کے عکاس تھے۔ شیو سینا نے پہلے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت کی۔ کانگریس کے خیال میں یہ نئی تنظیم ممبئی کی مزدور سیاست میں کمیونسٹ ٹریڈ یونین تنظیموں کے خلاف معاون ثابت ہوگی۔ اس کے نتیجے میں شیو سینا اور کمیونسٹ ٹریڈ یونینوں میں تصادم شروع ہوگیا۔1970 کی دہائی میں اس پر ایک مقامی سیاست دان کو قتل کرنے کا الزام لگا۔ عدالتیں بائومیں تھیں، لہذا بال ٹھاکرے کاکچھ نہیں بگڑا۔ اب شیوسینا نے ممبئی اور اس کے نواح میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ بمبئی کا نام ممبئی مہاراشٹر میں شیوسینا کی بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت کے دور میں پڑا۔ جولائی1999 میں بھارتی الیکشن کمیشن نے بال ٹھاکرے پر ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے پر پابندی عائد کردی۔ ان پر مذہب کے نام پر ووٹ طلب کرنے کا الزام تھا۔ جولائی2005 میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ نارائن رین کوشیوسینا سے خارج کردیا گیا۔ دسمبر2005 میں بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے شیوسینا سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی پارٹی قائم کرلی۔ اپنے طویل عوامی کیریئر میں بال ٹھاکرے صرف ایک بار1970 میں گرفتار ہوئے ۔ ان پر منافرت پھیلانے کا الزام تھا، تاہم فوراً ہی ان کی ضمانت بھی ہوگئی۔ بال ٹھاکرے کا17 نومبر2012 کو حرکت قلب بند ہونے سے ممبئی میں انتقال ہوگیا۔ لیکن مرنے سے پہلے ہی انہوں نے شیوسینا کی باگ ڈور اپنے بیٹے اودھے ٹھاکرے کے حوالے کردی تھی جس کا بیٹا ادیتا ٹھاکرے شیوسینا کے یوتھ ونگ یو وا سینا کا سربراہ ہے۔شیوسینا کی اس وقت بھارتی ایوان زیریں545 رکنی لوک سبھا میں18 نشستیں245 رکنی راجیہ سبھا میں3 نشستیں اور 288 رکنی مہاراشٹر ریاستی اسمبلی میں63 نشستیں ہیں۔ شیوسینا کی فاشزم اور سفاکی کا جہاں تک تعلق ہے، اسے 1970 اور1984 میں ممبئی کے علاقے بھیونڈی اور1992 ،1993 میں ممبئی فسادات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ مئی1988 میں اورنگ آباد میں شیوسینا اور مسلمانوںکے درمیان تصادم میں26 افراد ہلاک ہوئے۔ شیوسینا لوٹ مار اور آگ لگانے کی وارداتوں میںبھی ملوث رہی۔ اکتوبر1988 میں اتر پردیش کے علاقے مظفر نگر میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی ریلی کے جواب میں شیوسینا نے ہڑتال کی کال دی۔ چند مسلمان دکانداروں نے اسے نہیں مانا۔ جس کاغصہ غریب رکشتہ والوں پر اتارا گیا۔87 افراد ہلاک ہوئے۔ انمیں60 مسلمان اور27 ہندو تھے۔ 1991 میں شیوسینا نے پاک بھارت کرکٹ سیریز کے خلاف احتجاجاً وانگھیڈاسٹیڈیم کی پچ کھود ڈالی۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد6تا12 دسمبر1992 شیوسینا کی جانب سے فتح کے جلوس نکالے جانے پر ممبئی سمیت مہاراشٹر میں فسادات ہوئے۔ ممبئی میں210 اور دیگر علاقوں میں57 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 400 تک بھی ہلاکتیں بتائی جاتی ہیں۔ ممبئی میں دسمبر1002 اور جنوری1993 میں ہونے والے خونریز فسادات میں(900)(575 مسلمان، 275 ہندو،45نامعلوم اور5دیگر) افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر تخمینوں کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ ہزار رہی۔ دسمبر2003 میں شیوسینا کے کارکنوں نے آگرہ اسٹیڈیم کی پچ کھود ڈالی جہاں پاکستان اور اور بھارت کے درمیان میچ ہونے والا تھا۔ اپریل2005 میں شیوسیناکے اسٹوڈنٹس ونگ نے نئی دہلی میں پاک بھارت میچ روکنے کی کوشش کی۔20نومبر2009 کو شیوسینا نے ممبئی میں مراٹھی اور ہندی چینلز کو نشانہ بنایا جنہوں نے ٹنڈولکر پر تنقید کی وجہ سے بال ٹھاکرے کی مذمت کی تھی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بال ٹھاکرے نے 2002 میں مسلمانوں پر حملوں کے لئے خود کش دستے تیار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ -
;
شیو سینا کی تاریخ اور تشدد کی داستان شیو سینا کی تاریخ اور تشدد کی داستان Reviewed by Khushab News on 1:30:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.