خشونت سنگھ کی پہلی اور آخری محبت

محمد علی اسد بھٹی پنجابی اور اردو کے لکھاری اور شاعر ہیں ،ماہنامہ سرگزشت، سچی کہانیاں، تکبیر ٹائمز سمیت کئی قومی و مقامی ادبی رسائل و جریدوں میں انکی تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں اور انکو کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں بین الااقوامی ادبی کانفرسوں میں پاکستان کی نمانئدگی کا بھی انہیں اعزاز حاصل ہے سرگودھا کے ایف ایم ریڈیو سے ہفتہ وار پنجابی پروگرام بھی کرتے ہیں۔علی سفیان آفاقی ، خشونت سنگھ ، استاد دامن ،عطا الحق قاسمی ،فرخ سہیل گوئندی سمیت جانے کتنے بڑے بڑے ناموں سے انکے ذاتی تعلقات لیکن سادگی اور گمنامی میں رہنا انکا خاصہ ہے۔ تعلق انکا ضلع خوشاب کے قصبہ ہڈالی سے ہے انہیں دیکھیں تو پہلا تاثر یہ ملتا ہے کہ کوئی کسان کھیتوں میں پانی لگاتے لگاتے یا کھالوں کے بنے بنا تے بناتے اپنا کام چھوڑ کر آپ کے سامنے آ کھڑا ہواہے ۔گفتگو ہمیشہ میں سے خالی بلکہ دوسروں کی اچھائیوں، علمی موضاعات یا روزمرہ کے سماجی مسائل پر مبنی ہوتی ہے۔

ایسے میں انکے ساتھ دو دہائیوں سے زائد عرصہ پر محیط ذاتی تعلق ہونے کے باوجود بڑے لوگوں کیساتھ انکے گزرے وقت کے اہم و دلچسپ واقعات قارئین تک پہنچانے کی خاطر قائل کرنے کیلئے ان سے کئی ملاقاتیں کرنا پڑیں اور وہ ہر بار مزیدار سی چائے ، کوئی تحریر یا کوئی نادر سی کتاب تھما کر طرح دے جاتے۔
لیکن یہ معلوم ہونے کے باجود کہ لوگ تماش بین کی طرح چسکا زیادہ پسند کرتے ہیں اگریہاں میونسپل کمیٹی جوہرآباد کے کس امیدوار کو کس کے حق میں دستبرادر کرانے کیلئے مخصوص نشست اور وائس چیئرمین کی ضمانت کس کی موجودگی میں کس کس نے دی اور کیوں دی ،ضلع کونسل خوشاب کا چیئرمین کس کس کو بنانے کیلئے مسلم لیگ ن کے کونسے کونسے اراکین اسمبلی کس کس طرح دھڑے بندی کا شکار ہیں، یونین کونسل بندیال سے ہارون بندیال کے مقابلے میں پی ٹی آئی کیوں امیدوار سامنے نہ لاسکی جس کا میں چشم دید ہوں کے بارے میں لکھا جائے تو اسکو بہت پڑھا جائے گا اور شاید مجھے کوئی طرم خان قسم کا باخبر بھی سمجھا جائے

بات کسی اور طرف نکل گئی بہرحال میں ذاتی تسکین کے لئے کچھ لکھنے کی لگن کیساتھ بھٹی صاحب سے ایک دلچسپ واقعہ سننے میں کامیاب ہوہی گیا۔جو انہی کی زبانی سنیے یہ مارچ2003کی بات ہے ہم پنجابی ادبی کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارت (مشرقی پنجاب) کے شہر چندی گڑھ گئے ۔ چندی گڑھ بھارت کے دو صوبوں ہریانہ اور پنجاب کا دارالحکومت ہے۔کانفرنس میں ہریانہ کے اس وقت کے وزیر اعلی کے علاوہ بھارت کے مشہور پنجابی ادیبوں شاعروں کے علاوہ پنجابی پس منظر رکھنے والے بالی ووڈ کے معروف اداکا ردھرمیندر، ہیما مالنی،تبو، امرتا سنگھ ، امریش پوری، اور گلوکار مہندر کپور بھی شریک تھے۔دن کے دس بجے ہونگے جب میں نے کانفرنس کی انتظامیہ سے پوچھا کہ بھارت کے مشہور صحافی ، ادیب اور سیاستدان خشونت سنگھ بھی کسی سیشن میں تشریف لائینگے تو انہوں نے کہا کہ شیڈول میں نہیں ہے، وہ تو بہت بڑے اور مصروف آدمی ہیں وزیراعظم بھی ان سے وقت لیکر ملاقات طے کرتا ہے۔ مجھے قدرے مایوسی ہوئی ۔ میزبان سے کہا میں خشونت سنگھ سے دہلی جاکر ملنا چاہتا ہوں ، جواب ملا کہ آپ کا ویزہ چندی گڑھ کا ہے دہلی تو نہیں جاسکتے۔اچھا رابطہ ہوسکتا ہے؟ جواب ملا کوشش کرتے ہیں۔کچھ دیر بعد لینڈ لائن فون پر منتظمین کا رابطہ ہو گیا اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے محمد علی بھٹی نام کے ایک شاعر ، ادیب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو خشونت سنگھ نے کہا فورا میری بات کراؤ ، فون مجھے تھما دیا گیا ۔ میں نے روانی میں کہا السلام علیکم دوسری طرف سے جواب آیا وعلیکم السلام میں نے بتا یا دہلی کا ویزہ مل نہیں سکتاآپ سے ملنا بھی تھا۔ دوسری طرف سے دو تین منٹ خاموشی کے بعد جواب آیا ،،ِ تو کتھے آ گیاں،، میں بیمار ہو ں اور شملہ میں ہوں۔ فکر نہ کر جواناں۔اور فون کٹ گیا۔

کوئی شام پانچ ساڑھے پانچ کا وقت ہو گاکہ جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے وہاں ہلچل سی شروع ہوگئی اور امرتا سنگھ کے ہمراہ دھرمیندر،امریش پوری ،تبو، ہیما مالنی وغیرہ میرے کمرے میں آگئے اور امرتا سنگھ نے مجھ سے پوچھا محمد علی بھائی آپ ہڈالی سے ہیں ؟ باقی لوگ بھی میرے ساتھ ایسے پیش آرہے تھے جیسے میں کوئی وی آئی پی ہوں ۔ اس اچانک صورتحال پر میں ابھی حیرانی کے عالم میں ہی تھا کہ اچانک میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور خشونت سنگھ اپنے بیٹے راہول اور بیٹی مالا کیساتھ داخل ہوئے اور پوچھا توں ہڈالی دا؟ جیسے وہ تسلی کرنا چاہتے ہوں کیونکہ یہ انکے ساتھ میری بالمشافہ پہلی ملاقات تھی۔

بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اداکارہ امرتا سنگھ اصل میں خشونت سنگھ کی سگی بھتیجی ہیں اور انہوں نے امرتا کو میرے پاس پہنچنے کی اطلاع کردی تھی ۔ 

خشونت سنگھ سے تعلق بارے ایسا ہے کہ چونکہ انکا تعلق ہڈالی سے ہے اور میٹرک تک تعلیم بھی انہوں نے ہائی سکول ہڈالی سے ہی حاصل کی تھی اور بعد ازاں بھارت شفٹ ہوگئے تھے۔ تحقیق پر مائل طبعیت کے باعث میں نے انکے نام اردو میں ایک خط لکھا ، پتہ معلوم نہیں تھا لہذا لفافے پر لکھ دیا خشونت سنگھ رائٹر دہلی بھارت۔اور پھر کچھ عرصہ بعد میرے خط کا جواب آگیا جو کہ انگریزی میں تھا اور اسطرح ہماری خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

خشونت سنگھ میرے کمرے میں موجود تھے ۔پنجابی میں بات کررہے تھے لہجہ انکا ہمارے علاقے اور کچھ انڈیا کی پنجابی کا مکسچر تھا، انہوں نے پہلے میرے خاندان بارے پوچھا کہ اور میرے بتانے پر انہوں نے میرے دادا ، چچا تک کے نام خود لے د یئے۔انہوں کہا آج میری عید ہے کیونکہ آج میری اپنے وطنی سے ملاقات ہورہی ہے۔خشونت سنگھ نے پوچھا چراغ بالی اور مدو بالی کی دشمنی کیا اب بھی چل رہی ہے۔سنا ہے چرغ بالی تو بڑا نامی گرامی ڈاکو بن گیا تھا۔وہ ایک بات پوچھتے کئی کئی منٹ خاموش رہتے اوربڑبڑاتے ہڈالی ۔۔ ہائے ہڈالی اور رونا شروع کردیتے، پوچھا کیا اب بھی ہڈالی کے باہر ٹبے( ٹیلے) ہیں ؟ ہم وہاں سے گھاڑاں( سبز چنے) توڑ کر کھاتے تھے۔بڑی بڑی ٹالیاں ہیں؟ہردال( ایک فصل) کماد اب بھی ہو تا ہے زمینیں اسی طرح زرخیز ہیں؟ پھر اچانک پوچھا بندے اجے وی مجھلے(تہمد) باندھتے ہیں ؟ میں نے بتایا کہ کچھ پرانے بزرگ چادر باندھتے ہیں تو بولے، بھٹی ،چادر نئیں مجھلہ مجھلہ۔مسلمان عورتیں عموما کالے اور سکھنیاں نیلے و چٹے مجھلے اور چوناں والے کرتے پہنتے جبکہ ہندو عورتیں شلوار پہنتی تھیں۔

کہنے لگے میں نے زندگی میں شراب بہت پی ہے اور بہت سی عورتوں سے میرے ہر قسم کے تعلقات بھی رہے لیکن پتہ ہے میری پہلی اور آخری محبت کون ہے؟ میری پہلی اور آخری محبت صرف ہڈالی ہے۔
خشونت سنگھ روتے جارہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ مر جاؤں تو میری ارتھی ہڈالی سے اٹھے ، مجھے ہڈالی کے قبرستان میں دفن کیا جائے لیکن ایسا ہو نہیں سکتا مگر بھٹی اگر میری راکھ وہاں پہنچ جائے تو کیا تم میری راکھ کو تو ہڈالی میں دفن کرسکتے ہو؟ میں نے ہامی بھرلی اور انہوں نے وہاں موجود اپنے بیٹے راہول اور بیٹی مالا کو وصیت کردی کہ مرنے کے بعد انکی راکھ کو ہڈالی بھیجا جائے۔ساری رات محفل جمی رہی اور وہ ہڈالی کی ایک ایک جزئیات کا پوچھ رہے تھے۔
اور پھر جب وہ 2014میں فوت ہوگئے توانکی راکھ ہڈالی پہنچ گئی( ایچی سن کالج لاہور کے پرنسپل فقیر سید اعجاز الدین اور انکی اہلیہ شہناز جو کہ معروف لکھاری ہیں راکھ لیکر 22اپریل کو ہڈالی آئے تھے) ۔میرے لیے خشونت سے اپنا وعدہ نبھانا مشکل ہوگیا۔ اور تواور میرے عزیز واقارب اور خاندان والے کہنے لگے ہمارامذہبی گھرانہ ہے اور تم خود بھی جماعت اسلامی ہڈالی کے امیر رہ چکے ہو قبرستان میں ایک سکھ کی راکھ دفن کرنے سے خاندان اور ایمان کا بیڑا غرق کرنے ہم نہیں دینگے۔ میں نے کہا کہ میں اپنے ذاتی رقبے میں دفن کردیتا ہوں لیکن اس کی بھی مخالفت ہوئی 
ایک مسلمان نے ایک سکھ سے جو وعدہ کیا تھا، ایک پاکستانی نے ایک بھارتی کو جو زبان دی تھی قدرت نے میرا ساتھ دیا میری لاج رکھ لی اور اسکا یہ حل نکالا کہ سنگ مرمر کی ایک تختی بنوائی گئی جس کا عنوان تھا دی سن آف ہڈالی اور اس تختی کو خشونت کی مادر علمی ہائی سکول ہڈالی کے ہال کے باہر نصب کیا گیا اور تختی کی تنصیب کے لیے سیمنٹ کا جو مصالحہ تیار کیا گیاخشونت کی راکھ کو اس میں ملا دیا گیا اور اپنی جنم بھومی کے سچے عاشق کی مٹی کو اسکے وطن میں محفوظ کردیا گیا۔
اس کے بعد بھٹی صاحب افسردہ خاموش ہو گئے۔ بھٹی صاحب کی کیفیت اور سکوت کے طویل وقفے کو چھوڑ کر میں بھی خاموشی سے اٹھ آیا۔
;
خشونت سنگھ کی پہلی اور آخری محبت خشونت سنگھ کی پہلی اور آخری محبت Reviewed by Khushab News on 4:01:00 PM Rating: 5

1 تبصرہ:

  1. ھریرے بدن، سانولے رنگ ، پگڑی کرتے اور تہبند میں ملبوس دوست محمد محب سے اگر کبھی آپ کی ملاقات ہو توآپ یہ گمان بھی نہیں کر سکتے کہ یہ سیدھاساد ہ زمین دار آدمی اردو زبان میں شاعری بھی کرتا ہے لیکن رفتہ رفتہ ان کے جوہر آپ پر کھلنے شروع ہو جائیں گے۔
    جناب دوست محمد محب 6 اپریل 1920 کو وادی سون سکیسر خوشاب علوی اعوان قبیلہ کے گاؤں موضع چٹہ میں پیداہوئے جو جناب آحمد ندیم قاسمی صاحب کے گاؤں انگہ سے پانچ میل مغرب میں جھیل اوچھالی کے کنارے ایک عمودی پہاڑ کے اوپر پھیلا ہوا ہے اور اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بہت خوبصورت ہے۔ دوست محمد محب نے مڈل تک تعلیم حاصل کی پھر خانگی مجبوریوں کے پیش نظر محکمہ تعلیم میں بحیثیت پرائمری سکول ٹیچر ملازمت کر لی۔ تیس سال تک یہ خدمت سرانجام دینے کے بعد ابھی چند سال پہلے ریٹائر ہوئے اور اب اپنے ہی گاؤں میں اقامت پذیر ہیں۔ بچپن ہی میں اردو ادب اور خصوصا اردو شاعری سے بہت شغف تھا۔ گو اس شوق کو پورا کرنے اورپروان چڑھانے اور نکھارنے کے وسائل کبھی مہیا نہ ہو سکے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ یہ صاحب علی الصبح گھر سے پیدل روانہ ہوتے جس گاؤں میں تعینات ہوتے وہاں پہنچ کر بچوں کو پڑھاتے اور شام کوگھر پہنچتے۔ گرمیوں، سردیوں، بارشوں اورطوفانوں میں یہ سفر جاری رہتااور اس کے ساتھ حسرت موہانی کی طرح مشق سخن بھی جاری رہی۔
    حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسا شخص جو زندگی بھر وادی سون کے پرائمری سکولوں میں شگفتہ پھولوں کی آبیاری کرتا ہے اور جو لاہور یا کراچی تک بھی کبھی شاید ہی گیا ہو اتنی نستعلیق اور سکہ بند اردو میں شاعری کس طرح کرتا وہ بھی غزل کی شاعری۔ کہاں وادی سون سکیسر میں گڈریوں کے میٹھے رسیلے علاقائی ڈھولے ماہیئے اور ٹپے اور کہاں یہ مہذب اور رچا ہواانداز غزل۔ گو محب نے ماہیئے ا ورڈھولے بھی لکھے لیکن ان کے شاعرانہ ذوق کا محور و مرکزاردو غزل ہی رہی۔
    مزیدحیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ محب جیسا منفرد شاعر جس نے بڑے مخصوص حالات زندگی میں اردو غزل کی مخلصانہ خدمت کی ہے۔ وہ نہ تو اردو ادب سے تعلق رکھنے والے حلقوں میں متعارف ہے اور نہ ہی اس کا کلام کسی اخبار یا ادبی مجلے میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا ہے اس کے باوجوداردو ادب کا یہ گمنام سپاہی، صلہ و ستائش کی تمنا سے بے نیاز اپنے عظیم مقصد کی لگن میں آگے بڑھتا چلاجاتا ہے۔ محب کااسلوب بادی النظر میں اردو غزل کا روایتی اسلوب محسوس ہوتا ہے لیکن ذرا سا غور کیا جائے تو اس میں محب کی انفرادی خصوصیات بھی جھلکتی نظر آتی ہیں۔ یہ اسلوب بہت شستہ اور سلجھا ہوا ہے ۔انتہائی شریفانہ بھی محب کی شاعری کا موضوع محبت اور انسانیت ہے۔ یہ محبت روحانیت طہارت اور پاکیزگی سے ترکیب پائی ہے۔ سادگی شرافت خلوص اور انکسار اس کے بنیادی عناصر ہیں اور اس میں کہیں بھی فکری انتشار یا ابہام کا کوئی شائبہ نظر نہیں آتا۔ محب کی محبتوں کا محور و مرکز ختمیء مرتبت حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ چنانچہ ان کی شاعری کا بیشتر حصہ سردار عالم ﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پر مشتمل ہے۔چند شعر پیش خدمت ہیں۔
    جو بھی تیرے قریب ہوتے ہیں

    ان کے ارفع نصیب ہوتے ہیں
    کتنا کیف و سرور ملتا ہے

    باب احمد پہ سر جھکانے سے
    راحت ہو رنج ہو کہ عروج و زوال ہو


    یاد حضور رونق بزم خیال ہو
    جھلکتی ہے خدائی جہاں بٹتی ہے خدائی


    وہ صلی علی احمد بے میم کا درہے



    Back to Conversion Tool

    Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home
    Back to Conversion Tool

    Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.