چراغ بالی کا بیٹا ہونے پر فخر ہے، ظفر اللہ بالی


خوشاب نیوز ڈاٹ کام) میونسپل کمیٹی ہڈالی کے وارڈ نمبر ایک سے جنرل کونسلر کا ایک امیدوار قومی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہو ا ہے یہ امیدوار پنجاب کے افسانوی کردار جسے تاریخ میں ڈاکو کے نام سے جانا جاتا ہے چراغ بالی کا بیٹا ظفر اللہ ہے۔ ظفر اللہ بالی نے کہا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ میں چراغ بالی کا بیٹا ہوں کیونکہ میرا والد ڈاکو نہیں غریبوں کا مسیحا تھا البتہ دشمنوں کیلئے خطرناک تھا ۔ اصل میں ہماری آپس میں خاندانی( بالی قوم کی ہی ) دشمنی شروع ہوئی اور اس دشمنی کی وجہ سے ہی میرے والد چراغ بالی کی پولیس سے آنکھ مچولی ہوتی رہی اور حقیقت سے زیادہ انکے بارے میں خود ساختہ کہانیاں مشہور ہوئیں اور تاریخ کا حصہ بن گئی۔گزشتہ روز فون پر خوشاب نیوز ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ظفر اللہ بالی نے انکشاف کیا کہ 1964میں انکی پیدائش ہوئی تو انکا نام نذر حیات رکھا گیا۔اکبربگٹی اور چراغ بالی میانوالی جیل میں قید کے دوران دوست بنے تھے جب حالات زیادہ خراب ہوئے تو 1971میں والد چراغ بالی مجھے نواب اکبر بگٹی کے پاس چھوڑ آئے جہاں میں اکبر بگٹی کے خاندان کا حصہ بن گیا جہاں پولیس اور دشمنوں سے میری شناخت چھپانے کیلئے میرا نام ظفر اللہ رکھدیا گیا اور نواب اکبر بگٹی نے میری مکمل سرپرستی کی میری پرورش خاندان کے ایک فرد کے طور پر کی یہی وجہ ہے کہ بلوچستان اور کراچی میں لوگ مجھے ظفر اللہ بگٹی کہتے ہیں۔ میرے والد جب مجھے ڈیرہ بگٹی چھوڑنے گئے تو انہوں نے مجھے نصیحت کی کہ میں چاہتا ہوں کہ تم پڑھ لکھ کر کوئی مقام حاصل کرو اور میرا نام زندہ رکھو نہ کہ دشمنی راہ پر چل کر۔لکھنے پڑھنے کا مجھے بچپن سے شوق تھا اس لئے میں میں نے تعلیم کا راستہ ہی چنا۔ کوئٹہ سے ایف ایس سی کی اور گریجو ایشن کراچی سے کی۔بارہ سال کا تھا جب میرے والد فوت ہوئے لیکن نواب اکبر بگٹی نے کئی برس تک مجھے اسکا علم نہیں ہونے دیا کہ کہیں میں انتقام کی آگ میں بھٹک نہ جاؤں۔مگریجوایشن کے بعد جب میں نے محسوس کیا کہ اب میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو گیا ہوں تو میری خودداری نے گوارا نہ کیا میں نواب صاحب پر مزید بوجھ بنوں اسلئے میں نے ان سے اجازت چاہی تو انہوں نے مجھے ایسے ہی اجازت دی جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو۔ انہوں نے بلوچستان کے انتہائی معزز و خوشحال کرد خاندان میں میری شادی کرائی ، میری بیوی اعلی تعلیم یافتہ ہے۔ ظفر اللہ بالی نے بتا یا کہ میں کراچی شفٹ ہوگیا جہاں میں پراپرٹی کے
بزنس سے وابسطہ ہوگیا ۔ اور میں نے اپنا پروڈکشن ہاوس بھی بنایا اور پی ٹی وی کیلئے متعدد ڈرامے بطور پرڈیوسر و ہدائت کار بنائے۔ ان میں لاڈالا،پناگاہ، دوزخ، ڈیڈی ،وردی، نصف ایمان، رتی ماشہ تولہ مشہور ہوئے۔ پرائیویٹ چینل پر بھی ایک ڈرامہ پانی چلا جسے کارا فلم فیسٹول میں ایوارڈ بھی ملا۔ چھوٹے بیٹے اسد اللہ نے ڈرامہ سیریل لاڈلا کا ٹائیٹل رول بھی ادا کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میری تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ تینوں بیٹیاں بزنس میں ماسٹرز کی ڈگری ہولڈر ہیں۔ بڑا بیٹا احسان اللہ بالی بی کام ہے۔ چھوٹا بیٹا اسد اللہ بیکن ہاوس اسلام آباد میں او لیول کا طالب علم ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی وفات کے بعد مجھے والد کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی ور کراچی میں دل اچاٹ ہوگیا لہذا میں اسلام آباد شفٹ ہوگیا کیونکہ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور یہاں بھی پراپرٹی کا کام شروع کیا۔ر چار سال قبل خود اپنے گاؤں ہڈالی آکر اپنی آبائی زمینوں پر زمینداری شروع کردی۔سیاست میں آمد کے حوالے سے ظفر اللہ بالی نے بتا یا اگرچہ میری سیاسی تربیت نواب اکبر بگٹی نے کی اور میں نے ان سے ہی سیاست سیکھی لیکن میرا سیاست میں آنے کائی ارادہ نہیں تھاتاہم جب میں نے ہڈالی کی حالت زار دیکھی جو بلوچستان کے پس ماندہ علاقوں سے بھی بد تر ہے تو صرف اور صرف اپنے شہر کی بہتری و خدمت کی خاطر بلدیاتی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ میونسپل کمیٹی ہڈالی کی کل چھبیس وارڈز میں سے12وارڈز میں ہمارے امیدوار عوام دوست اتحاد کے نام سے ہیرے کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑرہے ہیں جبکہ دیگر پانچ وارڈز میں ہم پانچ آزاد امیدواروں کی حمائت کررہے ہیں ۔ہمارا منشور ہڈالی میں پینے کے صاف ستھرے پانی کی فراہمی، سیوریج، پختہ گلیاں، گرلز و بوائز کالج، منشیات کی لعنت کا خاتمہ اور شہر کو خوبصورت بنا نا ہے کیونکہ مجھے ذاتی طور پر تو اللہ تعالی نے عزت، دولت شہرت سے نوازا ہے۔ سیاست سے اپنے لئے کچھ حاصل کرنا میری نہ تو ضرورت ہے نہ خواہش۔۔
;
چراغ بالی کا بیٹا ہونے پر فخر ہے، ظفر اللہ بالی چراغ بالی کا بیٹا ہونے پر فخر ہے، ظفر اللہ بالی Reviewed by Khushab News on 11:10:00 PM Rating: 5

4 تبصرے:

  1. یہ انٹرویو دیکھ کر مجھے بھی بہت ساری باتیں یاد آ گئین کیسے یہ لوگ ڈاکو بن جاتے ہیں ان کے ساتھ کیسے کیسے ظلم ہوتے ہیں اور پھر وہ باگی ہو جاتے ہیں اور پھر تاریخ ان کو ڈاکو کا خطاب دیتی ہے حالانکہ یہ لوگ ڈاکو نہیں ہوتے ظلم ان کو ڈاکو بننے پر مجبور کر دیتاہے اور مقامی جاگیرداروں کا ان کو ڈاکو بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ محمد خان تھا میں نے اسے بچپن میں دیکھا مین ایک واقع سنانا چاہتا ہوں میں اور غلام محمد ہم دونوں دوست کھبیکی میں جنگل میں بکریاں چرا رہے تھے تو یہ دونوں بھائی ائے اور ہمیں پوچچھا کہ ہم کون ہیں ہم نے اپنا تعارف کروایا تو ہمارے والد صاحب غیر معروف انسان تھے لہذا وہ خاموش ہو گیا بعد میں ہم نے کھانا مانگا ہم نے اپنا کھانا پیش کیا اور ساتھ ہی بکریوں کا تازہ تازہ دودھ ان کو پلایا انہوں نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور کہ کہ تم لوگ بچے تو ہمیں نہیں جانتے ہم محمد خان اور ہاشو خان ہیں ہم خاموش ہو گئے اور ان کو دیکھتے رہے اور اہستہ اہستہ وہ چلے گئے۔ ان کیتاریخ بھی ظلموں کا ایک نمونہ ہے ان کے ساتھ بھی ظلم ہوئے اور پوولیس اور مقامی جاگیرداروں نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ہماری تاریک کا حصہ ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.