سمیرا ملک اور جاوید اعوان بھی آمنے سامنے


خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ضلع خوشاب یونین کونسل نلی میں بلدیاتی انتخابات کیلئے تمام امیدوار سرگرم ہو گئے ہے ۔تفصیلات کے مطابق یونین کونسل نلی میں چار گروپ آمنے سامنے ہے جن میں ایک گروپ پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ رہا ہے جبکہ دوامیدوار جو کہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے خواہشں مند تھے لیکن ان کو مسلم لیگ ن نے ٹکٹ نہ دیا بلکہ یونین کونسل نلی کو اوپن کر دیا ایک آزاد امیدوار سابقہ چئیرمین ملک نور محمد اگرال ہے پہلا گروپ پی ٹی آئی امیدوار برائے چئیرمین ملک احمد رزاق اعوان ہے جو کہ الیکشن میں پہلی دفعہ حصہ لیں رہے ہے جو کہ ملک عمر اسلم اعوان کے قریبی ساتھی ہے دوسراآزاد گروپ امیدوار برائے چئیرمین ملک نور محمد اگرال ہے جو کہ پہلے بھی یونین کونسل نلی کے چئیرمین رہ چکے ہے۔تیسرا آزاد گروپ امیدوار برائے چئیرمین ملک خداداد اعوان جوکہ ایک دفعہ ممبر ضلع کونسل رہ چکے ہے ایم پی اے ملک جاوید اعوان کے گروپ کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔چوتھا آزاد گروپ ملک خلاص خان بلہہ جو کہ سیاست میں پہلی دفعہ نمودار ہوئے ہے ان کو سمیرا گروپ کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔یونین کونسل نلی کی سیاسی صورتحال بہت عجیب ہو گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کے نظریاتی ووٹر اب سوچ رہے ہے کہ کس کو ووٹ دیا جائے کیونکہ یونین کونسل نلی میں شیر کے نشان کی بجائے بوتل،بکری اور مرغی ہے دیکھا جائے تو وہاں زیادہ تر فائدہ پی ٹی آئی کے امیدوار ملک احمد رزاق اعوان کو فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ جاوید گروپ ملک خداداد کو سپوٹ کر رہا ہے اور سمیرا گروپ ملک خلاص خان بلہہ کو سپوٹ کر رہا ہے جسکی وجہ سے دونوں امیدوار شکست کی طرف جا رہے ہے عوامی رائے کے مطابق آزاد امیدوار ملک نور محمد اگرال اور پی ٹی آئی امیدوار ملک احمد رزاق اعوان کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا سکتی ہے اور اس سیاسی صورتحال میں ملک خداداد اعوان اور ملک خلاص خان بلہہ بہت کمزور ہو چکے ہے مسلم لیگ ن کے غلط فیصلے کی وجہ سے یونین کونسل نلی سے بہت بڑا دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ اگر ملک جاوید گروپ اعوان اور ملک سمیرا گروپ کے ووٹر ایک دوسرے کی مخالفت کریں گے تو یقیناًیہ دونوں امیدوار ہار سکتے ہے اسکا فائدہ ملک رزاق اعوان اور ملک نور محمد اگرال کو پہنچ سکتا ہے واضح رہے کہ یونین کونسل نلی میں بہت سی برادریوں کی ملک احمد رزاق اعوان کو حمایت حاصل ہے 
;
سمیرا ملک اور جاوید اعوان بھی آمنے سامنے سمیرا ملک اور جاوید اعوان بھی آمنے سامنے Reviewed by Khushab News on 9:05:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.