چوہدری ارشد نے الیکشن میں ڈاکٹر غوث نیازی کے کارنامے بیان کردیئے



خوشاب نیوز ڈاٹ کام)پاکستان مسلم لیگ ن ضلع خوشاب کے سینئر نائب صدر اور ضلعی زکوٰۃ و عشر کمیٹی کے چیئرمین چوہدری ارشد محمود ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلدیاتی معرکہ آرائی کے دوران ضلع خوشاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی شاندار کامیابی مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت کی شبانہ روز جدوجہد ‘ مدبرانہ پالیسیوں اور مربوط حکمت عملی کا ثمر ہے۔ اس شاندار کامیابی پر مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر سینیٹر ڈاکٹر غوث محمد نیازی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ضلعی سیکرٹریٹ جوہرآباد میں پارٹی عہدیداروں و کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غوث محمد نیازی نے گذشتہ عام انتخابات میں ضلع خوشاب کے قومی و صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اب بلدیاتی انتخابات میں بھی اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اُنھوں نے مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں کی کامیابی ضلع خوشاب کے مکینوں کی جانب سے ڈاکٹر غوث محمد نیازی کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ ڈاکٹر غوث محمد نیازی کی قیادت میں ضلع خوشاب میں پاکستان مسلم لیگ ن مزید مضبوط اور مستحکم ہو گی۔
;
چوہدری ارشد نے الیکشن میں ڈاکٹر غوث نیازی کے کارنامے بیان کردیئے چوہدری ارشد نے الیکشن میں ڈاکٹر غوث نیازی کے کارنامے بیان کردیئے Reviewed by Khushab News on 8:30:00 PM Rating: 5

1 تبصرہ:


  1. عورت کی آزادی
    تحریر : علامہ محمد یوسف جبریل
    آج کل عورتوں کے حقوق کے حصول کی مہم دنیا کے ہر پیش رفتہ اور پسماندہ ملک میں زوروں پر ہے اور عموماً پسماندہ ملکوں کی عورتیں پیشرفتہ ملکوں کی عورتوں کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی جدوجہد کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوتی ہیں۔ اس معاملے میں ہماری رائے کچھ اچھی نہیں۔ جاننا چاہیئے کہ پیش رفتہ کیا ہے اور پسماندہ کیا ہے ؟ یورپین ممالک دستکاری اور سائنس میں تو مانا کہ مشرقی ممالک کے مقابلے میں پیش رفتہ ہیں لیکن یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ عورتوں کے حقوق کے معاملے میں بھی ان کی روش قابل تقلید ہے ؟ تو پھر یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ مذہب بھی ان ہی کا قبول کر لینا چاہیئے کہ وہ ایک پیش رفتہ اورترقی یافتہ قوم ہیں۔ یاد رکھیئے کہ مشرق کی عورت اور مغرب کی عورت اور دونوں کے حالات و ماحول میں کوئی مشابہت اور مطابقت نہیں کم از کم تفاوت ضرور ہے۔ جن دشواریوں اور مشکلوں کے پیشِ نظر مغربی عورت کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے پیش قدمی کرنی پڑتی ہے۔ مشرقی عورت کو اس کی کوئی حاجت نہیں یا کم از کم حاجت ہے ۔ جن لوگوں کو یورپین ممالک دیکھنے اور ان کے معاشرتی، معاشی، سماجی، اخلاقی، مذہبی اور اقتصادی حالات کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے وہ ہمارے اس دعوے کوسرسری نہیں کہیں گے اور تھوڑی بہت ردوقدح کے بعد اتنا ضرور مان لیں گے کہ مشرق میں عورت ذات کو ایسی مہم پر کمربستہ ہونے کی کوئی ایسی ضرورت تو نظر نہیں آتی، البتہ انجام اس مہم کا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہو گا۔ ہاں یہ بات ہم مانیں گے مشرقی ممالک میں عورتیں کئی لحاظ سے مظلوم ہیں مگر ھندوستان اور پاکستان کا اس زمرے میں شمار نہیں ہو سکتا ۔ جن مشرقی ممالک میں لڑکیاں پیسے کے بدلے بیاہی جاتی ہیں یا جہاں عورتوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے یا جہاں مردوں کو بغیر کوئی جرمانہ یا حق ادا کئے محض اپنی مرضی پر عورت کو نکال دینے کا جواز ہے یا جہاں عورت کو محض لونڈی غلام بنا کر رکھنے کا رواج ہے، ان ممالک میں عورتوں کوحق پہنچتا ہے کہ اپنی بہتری کے لئے کوئی مطالبہ کریں مگر سخت نا امُید لہجے میں کہنا پڑتا ہے کہ ایسے ممالک میں عورتوں کے لئے کوئی ایسا میدان تیار نہیں ہو سکتا یا بہت مشکل سے تیار ہو گا مگر ھندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں نہیں۔ یہاں صرف تین ہی شکایات مناسب معلوم ہوتی ہیں۔ ایک خاوند کی بدسلوکی، مارپیٹ ،بد چلنی، آوارگی، لاپرواہی اور دوسری عدمِ حق طلاقِ اور تیسری خاوند کی ایک سے زیادہ شادیوں کا جواز۔ تینوں شکائتیں بجا ہیں اور تینوں کا حل اسلام میں موجود ہے ۔ حکومتوں کو چاہیئے کہ ان امور میں اسلامی فرامین کی روشنی میں قانون وضع کریں اور اس کمزور مخلوق کو ظالموں کے پنجے سے نجات دلائیں۔ اگر ان تینوں شکائیتوں میں سے کسی ایک کے لئے بھی ہماری مائیں بہنیں کوئی اقدام کریں تو ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ خدا انہیں کامیابی عطا کرے اور ہمیں عقل و انصاف ۔باقی عرض یہ ہے کہ یہ تینوں شکائتیں مردوں کی جہالت کے سبب پیدا ہوئیں۔ اگر عوام تعلیم یافتہ اور فراخ دل ہوں گے تو عورتوں کو مارنے پیٹنے اور عذاب دینے سے باز رہیں گے۔ دوسرا ہے طلاق کا مسئلہ ۔ سو اسلام نے عورت کو چند وجوہ کی بنا پر شرعاً طلاق لینے کا جواز دیا ہے۔ اسلام طلاق کی اجازت دیتا ہے مگر طلاق کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ باقی رہا ایک سے زیادہ شادیوں کا سوال سو کوئی آدمی جو قرآن پر صحیح معنوں میں ایمان رکھتا ہے اور اس کی تعلیم پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے وہ کبھی ایک سے زیادہ شادی کی جرات نہیں کرے گا ۔ ہاں اگر کرے گا تو اس صورت میں جس میں اسے دوسری شادی نہ کرنے کی صورت میں کسی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جانے کا احتمال نظر آتا ہو۔ کیوں کہ قران حکیم کی ہدایت یہ ہے کہ تم چار تک شادیاں کر سکتے ہو اور شرط یہ ہے کہ تم سب کے ساتھ انصاف کرسکو اور اگر ایک سے زیادہ بیویوں والے مرد کی ہرعورت اس سے انصاف پاتی ہے تو پھر شکائیت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ محمد یوسف جبریل ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی
    www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

    Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.