عالمی امن کی ضمانت کے لیئے باہمی تنازعات کا خاتمہ ...وقت کی ضرورت ہے




دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا ملک عالمی امن کی ضمانت نہیں دے سکتا ۔ویسے بھی عالمی امن کے ٹھیکیدار چھوٹے ملکوں میں قتل و غارت کا جوبا زار گرم رکھے ہوئے ہیں کیا ان کا یہ عمل امن کی ضمانت بن سکے گا۔۔؟؟یہ بات مفروضے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔آج کے اس دور میں طاقت کا وہ توازن جو قائم تھا نا انصافیوں اور بربریت کی وجہ سے وہ بدل چکا ہے ۔پوری دنیا میں تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں پر عوام نے انقلابی اقدامات نہ اٹھائے ہوں اور ملک میں انقلاب نہ آیا ہو ۔دراصل اس بات کے اسباب کیا ہوتے ہیں ،ہم ان پر غور کرنے کی بجائے اور لوگوں کی بات سننے کی بجائے گولی کی زبان سمجھانا آسان سمجھتے ہیں ۔

کسی بھی حکومت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب تک کسی قوم یا طبقے کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے ، امن کی ضمانت کسی بھی صورت نہیں دی جا سکتی ۔اگر بھارت نہتے کشمیریوں کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم رکھے گا تو وہ یہ کیسے جان لے گا کہ اس کو اس نا انصافی کی سزا نہیں ملے گی ۔دنیا کے مہا چوہدری یہ بات جانتے ہیں لیکن اس کے باوجود پوری دنیا کو رنگ و نسل ، مذہب، حدبندی اور ملکوں کے مابین پائے جانے والے مسائل کو ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان سے اسلحہ کو ن خریدے گا۔۔۔؟؟اربوں ڈالرز سے بننے والی اسلحہ ساز فیکٹریاں اگر بند ہوں گی تو ان کا کاروبار کیسے چلے گا۔۔۔؟؟
اس نظریے نے ان لوگوں کو صر ف پاگل بنا رکھا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا بنایا ہوا اسلحہ ایک دن انہی کے خلاف استعمال ہو گا۔دنیا کو جتنا بھی اخلاقی پسماندگی کا شکار کر دیاجائے، انٹر نیٹ اور دوسرے ذرائع سے بے حیائی کی یلغار کر دی جائے تو پھر بھی اس بے غیرتی کے مقابلے میں غیرت کا سورج کسی نہ کسی طرح ضرور طلوع ہوتا رہے گا۔کوئی بھی طاقت برائی کے مرتکب ہونے کی کوشش پر حق کے راستے پر چلنے والوں کو نہیں روک سکتی، یہی وجہ ہے کہ ہم محسوس کر رہے ہیں کہ روز بروز حالات درست ہونے کی بجائے خرابی کی طرف سفر کر رہے ہیں ۔ ملکوں میں پائی جانے والی بے چینی کی بڑی وجہ نا انصافی ، بربریت اور کرپشن ہے ۔جتنی بھی کوشش کر لی جائے یہ لعنتیں کسی نہ کسی صورت ملک میں موجود ہیں اور ملک کے حاکم آنکھیں بند کر کے خوابِ غفلت کے مزے لے رہے ہیں ۔
اگر اپنے وطن عزیز کو ہی دیکھا جائے تو صدرِ پاکستان سے لے کر کسی ضلع کے ڈی۔سی ۔ او تک بلکہ تحصیل دار تک اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کرپشن کہاں اور کن ذرائع سے ہو رہی ہے۔۔۔؟؟یہی وہ عوامل ہیں جو احساس محرومی پیدا کرتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ جعلی مقدمات قائم کرنے والے پولیس افسران ملک میں اس بے چینی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔کیا صدرِ پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، اور وزرائے اعلیٰ ان چیزوں سے نا واقف ہیں۔۔۔؟؟اور اگر واقف ہیں تو ایسے لوگوں کے خلاف بھر پور کارروائی کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟؟دراصل بات یہ ہے کہ شیشے کے گھر میں رہنے والے لوگ دوسروں پر پتھر پھینکنے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔اسی طرح مختلف ممالک کا بھی یہی حال ہے 
مختلف ممالک کے مابین پائے جانے والے باہمی جھگڑے جوں کے توں پڑے ہیں ۔ان جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیئے دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ قائم کی گئی تھی تو کیا اقوام متحدہ ان باہمی جھگڑوں کو ختم کروا سکی ہے۔۔۔؟؟اس کا جواب نفی میں ملے گا۔دنیا کے بڑے ممالک اس غلط فہمی میں ہیں کہ وہ جب چاہیں اقوام متحدہ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیئے استعمال کر لیتے ہیں اور چھوٹے ممالک کو احساس محرومی کا شکار کردیتے ہیں ۔حکومتوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے کی تلقین کر دیتے ہیں، اور اپنی مرضی کے حکمران ملکوں پر مسلط کر دیتے ہیں ۔اب حالات کروٹ لے چکے ہیں ، وہ اب پہلے جیسے نہیں کہ کوئی جو چاہے کرتا رہے اور انہیں برداشت کرنے کا عمل جاری رہے۔
اگرکوئی حکومت کسی بڑی حکومت سے مرعوب ہو کر خاموش ہو جاتی ہے تو اس ملک کے عوام مجبوراً ہتھیار اٹھا لیتے ہیں اور وہ فیصلہ جو حکومت کر نہیں پاتی وہ فیصلہ عوام طاقت کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جس سے عالمی امن قائم رہنے کی بجائے بربادی کی طرف بڑھتا ہے ۔بڑے ممالک پوری دنیا کی ٹھیکیداری سے ہاتھ اٹھا لیں تو مسائل اقوام متحدہ کے ذریعے راتوں رات حل ہو سکتے ہیں، مگر وہ ایسا نہیں کر رہے ۔کشمیر اور فلسطین کے علاوہ بھارت اور چین کے سرحدی مسائل کی بے چینی پیدا کرنے میں اضافہ کر رہے ہیں ۔پوری دنیا میں پائے جانے والے تنازعات جوں کے توں ہیں ۔کشمیریوں اور فلسطینیوں کے خون کو کتنا ارزاں سمجھ لیا گیا ہے کہ جیسے اس کی کوئی قیمت نہیں اور جب چاہو اور جتنا چاہو خون بہا لو، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
امن کے ٹھیکیدار وں نے کچھ ممالک کو غنڈا گردی کے لائسنس جاری کیے ہوئے ہیں او رانہیں دھڑا دھڑ اسلحے کی سپلائی کرتے ہیں ۔ کیا یہ سب مسلم اقوام کو ختم کرنے کے لیے ہے۔۔۔؟؟؟؟یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ یہ بات درست ہے کہ مسلمان حکومتیں اور ان کے بر سر اقتدار لوگوں کو اپنی مرضی سے مسلط کیا جا سکتا ہے ، مگر ظلم اور بربریت کے خلاف انقلابی اقدامات کرنے والے عوام کا راستہ کوئی بھی نہیں روک سکتا ۔محسوس یہ ہو رہا ہے کہ وہ آگ جسے بار بار طاقت کے ذریعے بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، وہ پوری دنیا میں پھیل جائے گی اور اس وقت جب جن بوتل سے باہر آ جا ئے گاتو امن کے ٹھیکیداروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
کائنات میں سپر پاور صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے ، وہ ذات کسی کی مدد یا مشورے کی محتاج نہیں ہے ۔ظلم جب حد سے بڑھتا ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ وہ مٹ جاتا ہے ۔اگر ہم دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو یہ بات مناسب ہو گی کہ پوری دنیا میں کرپشن کے خاتمے کے لیئے مشترکہ جدوجہد کی جائے اور تمام ممالک کے مابین پائے جانے والے باہمی جھگڑوں کو فوری طورپر حل کیا جائے تاکہ اقوام عالم میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم ہو سکے۔
*****
نوٹ: خوشاب نیوز ڈاٹ پر شائع ہونے والے مضامین، کالموں یا سیاسی تجزیوں میں پیش کیے گئے خیالات صاحب تحریر کے ذاتی ہیں ان سے ادارہ کا کلی یا جزوی طور پر متفق ہونا ضروری نہیں
;
عالمی امن کی ضمانت کے لیئے باہمی تنازعات کا خاتمہ ...وقت کی ضرورت ہے عالمی امن کی ضمانت کے لیئے باہمی تنازعات کا خاتمہ ...وقت کی ضرورت ہے Reviewed by Khushab News on 4:01:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.