ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے




قارئین محترم: 21دسمبر 2015 ؁ بروز سوموار صبح تقریبا 08:30بجے کے قریب مجھے ملک صابر اگرال لیب ٹیکنیشن نے فون پر اطلاع دی کہ اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ جنا ب وسیم خان اچانک الکرم ہسپتال آئے ہیں اور زبردستی آپریشن تھیٹر کھلوا کر فوٹو بنا رہے ہیں موقع پر موجود ڈیوٹی ڈاکٹر اور عملہ کی بے عزتی کی ہے اور فوراً آجائیں اطلاع ملتے ہی راقم آگیا اور گفتگو کی اس موقع پر صرف TMOسید امیر احمد شاہ ہمدانی اور پولیس گارڈز موجود تھے۔ اے سی صاحب نے ہیلتھ کےئر کمیشن کا سرٹیفیکیٹ طلب کیا تو راقم نے فوری طور پر اکاؤیٹنٹ کو بلوا کر فائل پیش کی جس میں رجسٹریشن نمبر موجود تھا۔ 3ستمبر 2015کو کیس ہیلتھ کےئر کمیشن لاہور میں رجسٹرڈ ہو چکا تھا ۔ساتھ ہی پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن کے بائی لاز کی کاپی بھی پیش کی جس میں PHCکی لاز IV پر واضع لکھا ہو ا ہے کہ 

"If a person fulfills the requirments of this section, The Commission shall issue a Certificate of registration to the person within fourteen days otherwise the applicant shall be considered as having provisionally registered."

مذکورہ بائی لاز کی رو سے ہسپتال sealنہیں ہو سکتا ۔نیز آپکے ساتھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا کوئی نمائندہ نہ ہے۔ ہمارا کیس ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے ڈسکس کر لیں اگر قانون اجازت دیتا ہے تو مجھے بتائیں میں از خود قانون پر عمل درآمد کروں گا ۔ الحمد اللہ آج تک کبھی قانون شکنی نہیں کی۔ الکرم ہسپتال تلہ گنگ کے پلیٹ فارم سے عرصہ سے غریب اور نادار مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کر رہاہوں۔ الکرم ویلفےئر ٹرسٹ (رجسٹرڈ) ادارہ ہے۔ اور فری کیمپوں کے ذریعے اب تک ہزاروں مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کر چکے ہیں۔ جس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔ اعلیٰ آرمی افسران ، سول آفسران ، سینئر بیورو کریٹس، سیاستدانوں ، کاروباری ، سماجی ، مذہبی شخصیات ہماری فری میڈیکل ، کیمپوں کا Visitکر چکے ہیں۔ گائنی، سرجری، سکن سپیشلسٹ ، فزیوتھراپی کی سہولیات ایک چھت کے نیچے فراہم کی جارہی ہیں۔ مستحق نادار مریضوں کیلئے باقاعدہ سرجری کی مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ سینکٹروں مریضوں کا ریکارڈ موجود ہے جو ادارہ مستفید ہو چکے ہیں۔ 
بہر حال اے سی تلہ گنگ کو جناب قاضی عبدالقادر صاحب، جنرل سیکرٹری پریس کلب اور کونسلر ملک زاہد اعوان (نمائندہ اوصاف) اور دیگر عملہ کی موجودگی میں بتایا کہ قانونی طور پر ہسپتال سیل نہیں ہوسکتا ہے اگر بنتا ہے آپ وضاحت کر یں۔ اے سی صاحب چلے گئے اور ٹی ایم او تلہ گنگ سید امیر احمد ہمدانی کی مدعیت ہیں تھانہ سٹی تلہ گنگ میں FIRدرج کرا دی گئی ایف آئی آر نمبر 216زیر دفعہ 186/506-IIمیں سید امیر احمد ہمدانی TMOتلہ گنگ نے بتایا کہ اے سی تلہ گنگ وسیم خان کی ہدایت پر وہ 21دسمبر 2015ہمراہ میاں انیس عباس TOR اور غلام رسول انورسمنٹ انسپکٹر کے ہمراہ الکرم ہسپتال گئے اور سرٹیفیکٹ طلب کیا اور مزاحمت ہوئی۔ مزاحمت 8مسلح نا معلوم افراد نے کی ، دلچسپ امر یہ کہ TMOصاحب سے گفتگوہی نہیں ہوئی ۔اے سی وسیم خان خود موقعہ پر موجود تھا۔ ایف آئی آر میں جن گواہان کے نام ڈالے گئے وہ موقعہ پر موجود ہی نہ تھے۔ جھوٹی FIRدرج ہونے سے پہلے رات 12بجے مذاکرات ہوتے رہے مختلف شرائط پیش کی گئی جنہیں بوقت ضرورت اعلیٰ عدالت میں پیش کروں گا۔ 21دسمبر 2015وقوعہ کی رات پونے بارہ بجے کونسی شخصیت کیا پیغام لے کر آئی ، انشاء اللہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے یا اعلیٰ عدالت کے سامنے پیش کروں گا۔ اس کارروائی کے پیچھے کن کن شخصیات کا ہاتھ ہے اور وہ راقم سے کیوں رنجیدہ ہیں صحافت کے میدان میں آنے والے نئے نئے کھلاڑیوں کو آگاہ کرتا چلوں کہ راقم ماسٹر ان IR، ماسٹر ان جرنلزم، اور لاء گریجویٹ ہے۔ 
1992 ؁ سے خبریں سے صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا 1997 ؁ سے مقامی جریدہ نکالا۔ بلاخوف و خطر ملک و سماج دشمنوں کو بے نقاب کیا تلہ گنگ ضلع کی تحریک میں ہرا ول دستہ کے طور پر کام کیا اور کر رہا ہوں تلہ گنگ کے مسائل (تلہ گنگ کا مقدمہ) کے نام سے تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں ٹی ایم اے میں رمضان المبارک بازار کے نام پر لاکھوں روپے (36لاکھ سے زائد) کی کرپشن کا ذمہ دار کون ہے اس کے پیچھے کن کن کا ہاتھ ہے سب جانتے ہیں اینٹی کرپشن میں راقم کیس لے کر گیا تو کن کن شخصیات نے خود ذمہ دار ان کو بچانے کیلئے منتیں کیں ضرورت پڑی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ 
ٍ الکرم ہسپتال تلہ گنگ میں اے سی وسیم خان کی آمد سے پہلے کس جگہ کہاں میٹنگ ہوئی اور کس نے ٹارگٹ دیا۔ راقم کو لاتعداد دوستوں نے جب استفسار کیا کہ TMOسید امیر احمد شاہ ہمدانی سے آپ کے تعلقات دیرینہ تھے تو FIRمیں مدی کیوں بنے ۔۔۔۔۔ 
ہم بھی شامل ہو صف اعداد میں شمشیر بکف 
تیرے بارے میں تو ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا 
ذرا سی دیر میں انداز دوستاں بدلے 
شجر کٹے تو پرندوں نے آشیاں بدلے 
وہ ابتدا سے ہی میرے ہمدموں میں شامل تھا
ٍ سزا کے خوف سے جس شخص نے بیاں بدلے 
مجبوریوں کی زنجیر وں میں جکڑے دوست سے کوئی گلہ نہیں البتہ حیران ہو ان پر ؔ 
جن ستھروں کو عطا کی تھی ہمیں نے دھڑکنیں 
ملی زبان تو ہمیں پر برس پڑے 
اس سے پہلے بھی کئی بار طاقتوروں نے اپنی طاقت کا مظاہر ہ کیا۔ ظلم و جبر کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر الکرم پلازہ کے تجاوز کے متعلق گفتگو کرنے والوں کو صرف اتنا ہی عرض کرتا ہوں کہ 1935 ؁ کا عکس شجرہ ، محکمہ ہائی وے (پراونشل ) کا NOCاور ریکارڈ موجود ہے قبل ازیں میاں منظور وٹو (C.M) کے دور میں اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں چھان بین ہو چکی ہے اب بھی قانون قاعدہ کے تحت مکمل چھان بین کی جائے اور الکرم پلازہ سمیت چکوال روڈ ، راولپنڈی روڈ پر نئی تعمیرات کا از سر نو جائزہ لیا جائے اگر پراونشل ہائی وے تجاوز ثابت کر دے تو بہر صورت تجاوزات کو گرا دینا چاہیے ہم اس کے حق میں تھے اور اب بھی ہیں ۔ تلہ گنگ پریس کلب، تحصیل پریس کلب ، ایڈیٹر کونسل، لاوہ پریس کلب، چکوال کے تمام صحافیوں اور بالخصوص اسلام آباد بار کونسل ، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کونسل مقامی ، سیاسی، سماجی ، کاروباری، مذہبی تنظیموں کا ممنون و مشکور ہوں جنہوں نے حق و سچ کا ساتھ دیااور بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ 
قانون کے دائرہ میں رہ کر ہم جھوٹی FIR کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہینگے ۔ مخالف قوتوں کا ساتھ دینے والوں کیلئے عرض ہے 
جو آج میں ذر میں ہوں تو خوش گمان تو بھی نہ ہو 
بھجے گئے تیرے دئیے بھی یہ ہوائیں کسی کی نہیں 
ہم حق و سچ لکھتے رہینگے مظلوم و بے سہارا کا ساتھ دیتے رہینگے پروش لوح و قلم کرتے رہینگے 
عزم محکم ہوں تو ہوتی ہیں بلائیں پسپا 
کتنی موجوں کو پلٹ دیتا ہے ساحل تنہا 
(وما علینا اللہ بلاغلمبین )
(بشکریہ تلہ گنگ ٹائمز ۔ چوہدری غلام ربانی سے اظہار یکجہتی کے لیے شائع کیا گیا)
;
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے Reviewed by Khushab News on 7:34:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.