بلدیاتی الیکشن دھاندلی و بد نظمی




الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ انتخابات منصفانہ اور غیر جانبدارانہ منعقد کروائے جائیں اور اس ضمن میں وہ ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہا ہے کہ کسی قسم کی بد نظمی نہ ہونے پا ئے مگر اس کے باوجود یہ لمحہ فکریہ ہے کہ صوبے میں جس کی حکومت ہوتی ہے وہ ہر جائز ، ناجائز طریقے سے اپنے امیدواروں کی مدد کرنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری پارٹیاں یا دوسرے لوگ انتخابات میں اپنا شفاف رویہ دکھاتے ہیں بلکہ کوشش سب کی یہی ہوتی ہے کہ اپنے امیدواروں کو کامیاب کروانے کے لیئے ہر ممکن کوشش کی جائے اور یہ چھوٹی چھوٹی باتیں خاندانی جھگڑوں اور قتل و غارت کی صورت میں نظر آتی ہیں ۔

حالیہ انتخابات میں بھی پہلے مرحلے کی طرح بد نظمی کی بہت سی مثالیں سامنے آئی ہیں جن سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ حکومت کا فرض الیکشن کمیشن کی مدد کرنا ہے ۔اگر ملاح خود ہی کشتی میں سوراخ کرنا شروع کر دے تو مسافروں کو دوسرے کنارے کس طرح لے جائے گا؟؟؟دوسرے گیارہ اضلاع کی طرح منڈی بہاؤالدین میں بھی انتخابات کے لیئے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے لیکن کتنے دکھ کی بات ہے کہ منڈی بہاؤالدین کی یونین کونسل واسو میں جو بدترین مثال سامنے آئی ہے ، اس کی نذیر پوری دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں دکھائی نہیں دیتی۔خود قانون نافذ کرنے والا ایک اہلکار جب جعلی ووٹ ڈال رہا تھا تو اس کو ایک امیدوار ارشد نیلا نے جو یونین کونسل کا الیکشن لڑ رہا تھا ، اس اہلکار کو منع کیا اور اسے پکڑ کر باہر لے آیا ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس اہلکار کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جاتی ، یہ کرنے کی بجائے اس کے پیٹی بھائیوں نے ارشد نیلا اور اس کے ساتھیوں پر وحشانہ تشدد شروع کر دیا جس سے عوام میں زبردست خوف و حراس پیدا ہو گیا۔
اس بدترین ہنگامہ آرائی کو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیانے عوام کو براہِ راست دکھانے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا ، یہ انتہائی گھٹیا تصویر نہ صرف پاکستان کی عوام نے دیکھی ، بلکے پوری دنیا میں منصفانہ انتخابات کی کلعی کھل گئی ،جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اہلکار موصوف ڈسٹرکٹ حافظہ آباد پولیس سے منڈی بہاؤالدین ڈیوٹی دینے آیا تھا مگر اس کو بچانے کے لیے حکومتی حلقے اور خود اس کے ہم منصب افسران میدان میں آگئے ، اس کو معافی دے دینا یا نہ دینا مسئلے کا حل نہیں ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ شفاف انتخابات کا بھانڈا توڑنے والے ایسے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جاتی؟؟؟
محکمہ پولیس صرف حکومت یا حکومت کے اہلکاروں اور پارٹی کے ورکرروں کو تحفظ دینے کے لیئے نہیں ہے اور یہ بھی کہیں نہیں لکھا گیا کہ حکومت کے نامزد امیدواروں کو سرکاری افسران مدد کر کے کامیاب کروائیں گے۔آخر اس نے یہ کام کس کے کہنے پر کیا اور کیو ں کیا ۔۔؟؟؟اس کی اعلیٰ سطح تحقیقات کا ہونا اشد ضروری ہے ۔پہلے ہی حکومت الیکشن کے معاملے میں مخالف پارٹیوں کی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے ، ایسے حالات میں ایک بدترین مثال کا پیدا کیا جانا اور اس کو مسلسل تحفظ دینا الیکشن کمیشن کے لیئے کھلا چیلنج ہے ۔اگر اس قسم کے انتخابات کاسلسلہ یونہی جاری رہا تو مستقبل میں بھی شفاف انتخابات کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ایسے حالات میں فیصلے بیلٹ پیپروں کی بجائے زبردست احتجاج کی شکل میں سڑکوں اور گلیوں میں ہونگے ، جس سے ملکی پراپرٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان واقعات کو سنجیدگی سے لے، اور کم از کم ایسے لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کے دلوں میں حکومت کے خلاف جو شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ، ان کا ازالہ ہو سکے، جہاں تک منڈی بہاؤالدین کے انتظامات کے بارے میں میں نے اندازہ لگایا ہے ،وہ انتہائی منضم تھے، تمام ریٹرنگ آفیسروں نے انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا ۔چوہدری ظفر گوندل ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر تھے، اور ان کے عملے میں چوہدری غلام رسول ایکسین ، عاطف وڑائچ، آصف رضا اسسٹنٹ کمشنرملکوال، کاشف رضا اعوان کے نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔
انتظامی امور کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ڈی پی او منڈی بہاؤالدین راجہ بشارت ، اور مظفر خان سیال ڈی سی او منڈی بہاؤالدین ، افضال وڑائچ ADCGمنڈی بہاؤالدین نے اہم رول ادا کیااور یونین کونسل واسو میں ہونے والی اس بد نظمی کو ایک بہت بڑے خون خرابے سے بچا لیا، اب جب سے الیکشن ختم ہو چکا ہے ، ڈی سی او منڈی بہاؤالدین مظفر خان سیال اور ڈی پی او راجہ بشارت کی ذمہ داری ہے کہ ضلع بھر کے جن جن علاقوں میں کسی قسم کی بد نظمی ہوئی ہے اس کا سختی سے نوٹس لیں اور جن لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، ان کا ازالہ کریں اور خصوصاً یونین کونسل واسو میں جس گندی اور بدترین مثا ل کو دہرایا گیا ہے ، اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائیں تاکہ آئندہ اس طرح کی گھٹیا مثالیں منظر عام پر نہ آ سکیں اور اس اہلکار کے خلاف جو حافظہ آباد سے ڈیوٹی دینے کے لیئے یہاں آیا تھا ، سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اسی طرح دوسرے باقی گیارہ اضلاع میں بھی جہاں جہاں بد نظمی کی شکایات منظر عام پر آتی ہیں ، ان کا ازالہ کیا جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی دور ہو سکے اور تیسرے مرحلے کے انتخابات کے لیئے راہنما اصول مرتب کئے جائیں تاکہ ان انتخابات کو غیر جانبدارانہ اور منصفانہ بنانے میں اہم کردارادا کیا جا سکے۔



نوٹ: خوشاب نیوز ڈاٹ پر شائع ہونے والے مضامین، کالموں یا سیاسی تجزیوں میں پیش کیے گئے خیالات صاحب تحریر کے ذاتی ہیں ان سے ادارہ کا کلی یا جزوی طور پر متفق ہونا ضروری نہیں
;
بلدیاتی الیکشن دھاندلی و بد نظمی بلدیاتی الیکشن  دھاندلی و بد نظمی Reviewed by Khushab News on 11:25:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.