بلند فشار خون ایک خامو ش قاتل بیماری ہے




تحریر:ہومیو ڈاکٹر محمد حنیف اعون

 (ایلو پیتھک ادویات کے نقصانات اور ہومیو پیتھی علاج کی شفا یابیاں
 ایلو پیتھک اور ہومیو پیتھک کا تقابلی جائزہ
   دوران خون کے وقت خون کی نالیو ں پر خون کا جو دباو ¿ پڑتا ہے اسے ہم بلڈ پریشر کہتے ہیں ۔یہ دو طرح کا ہوتا ہے۔
نمبر 1: سسٹالک (Systolic)۔
   یہ وہ زیادہ سے زیادہ پریشر ہے جو دل کی سکڑنے کی حالت میں خون کی نالیوں میں موجودتقریباً 120ملی میٹر مرکری ہوتا ہے
نمبر 2: ڈایا سسٹالک (Diasystolic)۔
   یہ خون کی نالیوں میں کم سے کم پریشر ہوتا ہے ۔ یہ اس وقت مو جود ہوتا ہے جب پھیلنے کی حالت میں ہوتا ہے ۔ یہ عموماً80ملی میٹر مرکری ہوتا ہے ۔خون کے دباو ¿ پر فعلیاتی تغیرات ۔
عمر (Age):
   خون کا دباو ¿ عمر کے ساتھ بڑھتاہے ۔ بلوغت میں سسٹالک پریشر 120-110اور بڑھاپے میں 150-140ایم ایم۔ ایس جی ہوتا ہے۔ 
جنس (Sex):
   مردوں کی نسبت عورتوں میں سسٹالک اور ڈایا سسٹالک پریشر تھوڑا سا کم ہوتا ہے ۔سسٹالک پریشر جسمانی طور پر موٹے آدمی کو زیادہ ہو تا ہے ۔
ورزس (Exercise) :
   ورزش کے دورا ن تھوڑا سا سسٹالک دباو ¿ بڑھ جاتا ہے ۔ اگر ورزش سخت کی جائے تو 180تک بھی بڑھ سکتا ہے۔
 پوزیشن (Position) :
   ڈایا سسٹالک پریشر بیٹھنے کی حالت میں بڑھا ہوا ہوتا ہے ۔
نینڈ (Sleep) :
   نیند کے دورا ن20-15ملی میٹر کم ہو جاتا ہے ، اس کے علاوہ کھانے کے بعد سسٹالک پریشر میں معمولی سا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ جب بھی جذبات میں سسٹالک پریشر زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔اس کی زیادتی مندرجہ ذیل حالتوں کی طرف نشاندہی کرتی ہے ۔ مثلاً دل کتنی قوت سے کام کر رہا ہے اور شریانی دیواروں پر کتنا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ ڈایا سسٹالک پریشر : اس میں اتار چڑھاو ¿ کم ہوتا ہے اور تندرستی کی حالت میں یہ اپنی نارمل حدود میں رہتا ہے ۔ ڈایا سسٹالک پریشر میں زیادتی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دل بند ہونے والا ہے یا ہو جائے گا۔
بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والے محرکات (Factor Controlling the B.P): 
   بلڈ پریشر کا انحصار دو چیزوں پر ہے۔ نمبر 1: کارڈیک اوٹ پٹ (Cardic Output) یعنی ایک ہی منٹ پر دل خون کتنا باہر پھینکتا ہے ۔ نمبر 2: پیری فیرل ریزسٹینس (Peripheral Resistence) یعنی خون کو جسم میں گردش کرنے کے لیئے کس قدر مذاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اوٹ پٹ بذات خود دو چیزوں پر منحصر ہوتا ہے ۔
نمبر 1: سٹروک والیم (Stroke Volume) یعنی دل ایک مرتبہ دھڑکنے میں کتنا خون باہر پھینکتا ہے ۔
نمبر 2: دل کی حرکت کی شرع کہ دل ایک منٹ میں کتنی دفعہ دھڑک رہا ہے۔
دوسرا (Factor)جو کہ پیری فیرل ریزسٹنس ہے ، یہ بھی کئی باتوں پر انحصار کرتی ہے ،عموماً اس کا تعلق چھوٹی نالیوں سے ہے جتنی نالیاں سکڑیں گیں اتنی ہی خون کے دوڑنے کی رفتار تیز ہو جائے گی۔اس کے علاوہ خون جتنا گاڑھا ہو گا ، اس سے گردش کرنے میں اتنے وقت کا سامنا ہو گا ۔ گاڑھے خون کی کیفیت پولی سائی تھیمیا ہو جاتی ہے۔یہ ایک بیماری ہے جس میں خون کے سرخ جسیمو ں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور خون کو گردش کرنے میں دقت پیش آتی ہے تب ہی بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے ، اس کے علاوہ اگر کسی انسان میں خون کی مقدار زیادہ ہوتب بھی بلڈ پریشر زیادہ ہو گا۔
    جسم کی تمام بافتیں اپنی بنیادی ضروریات کی ترسیل اور ناکارہ مادوں کے اخراج کے لیئے خون کے ہی محتاج ہیں اور ان کی یہ سپلائی بلڈ پریشر پر انحصار کرتی ہے ، لیٹے ہونے کی حالت میں دل کو دماغ کی طرف خون بھیجنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی لیکن کھڑے ہونے اور بیٹھے رہنے کی صورت میں دل کو دماغ کی طرف کشش ثقل کے خلا ف خون (Pump)کرنا پڑتا ہے جبکہ دماغ کو مستقل خون کی سپلائی بند ہو جائے تو دماغ کے خلیات مر جاتے ہیں اور کچھ میں ناقابل تلافی خرابی پیدا ہو جاتی ہے لہٰذا دل کے ٹھہر جانے کی صورت میں فوراً ہی مریض کو علاج دینا چاہیے تاکہ جلد دوبارہ حرکت شروع کر دے۔
(اشتہار) 
    عالمی ادارہ صحت کا موقف ہے کہ امراض قلب و گردہ فالج نا بینہ پن ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا اصل محرک بلند فشار خون ہے ۔ ایک سروے کے مطابق کسی بھی ڈاکٹر کے کلینک میں آنے والے مریض بلند فشار خون کے ضرور آتے ہیں اور ان میں اوسط ً ہر مریض کو دل اور گردوںکے کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا پایا گیا ۔جو مریض کسی ڈاکٹر کے پاس ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو کر آتا ہے وہ اپنے اس مرض سے نا واقف ہوتا ہے کیونکہ ان افراد میں اس مرض کی علامات محسوس نہیں ہوتیں مگر نتیجہ تن یہ خاموش قاتل ان گنت زندگیاں نگل جاتا ہے اور خبر تک نہیں ہوتی۔حقیقت تو یہ ہے کہ بلڈ پریشر بذات خود کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ کسی دوسری بیماری کا پیشے خیمہ یا علامت ہے۔جب کبھی بھی قلبی خرابی یا بڑھاپے کی وجہ سے خون کی شریانیں اور وریدیں سخت ہو جاتی ہیں یا جگر اور گردے کی خرابی لاحق ہو تو شریانوں میں خون کا دباو ¿ بڑھ جاتا ہے ۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان کی عمر میں نوے عدد کا اضافہ کر دیا جائے تو اس انسان کا بلڈ پریشر معلوم کیا جا سکتا ہے ۔یہ بات پوری طرح ثابت ہو چکی ہے کہ اگر بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن کو کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ واضح طورپر بڑھاتا ہے مثلاً ایک چالیس سا ل کا آدمی جس کا بلڈ پریشر 146 MMاسے کسی نارمل بلڈ پریشر والے فرد کے برعکس اگلے سات برس کے دوران ہارٹ اٹیک یا سٹروک کا خطرہ پانچ گنا زیادہ رہتا ہے ۔ ڈاکٹر راجر ولیم اور ان کے ساتھیوں نے ایک سروے کے دوران امریکہ کے ایک ہائی سکول کے 15475طلبا ءکے والدین کے کوائف جمع کئے اعداد و شمار کا نتیجہ ظاہر کرنا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر رکھنے والے والدین کا کولیسٹرول زیادہ رہتا ہے ۔ان مریضو ں میں ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی اور شوگر کا مرض اور بڑھاپے کا رجحان بھی رکھتی تھی ۔ عام فہم انداز میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو نارمل بلڈ پریشر رکھنے والے فرد کے مقابلے میں کئی رسک فیکٹرز سے واسطہ پڑ سکتا ہے ۔ظاہرہے کسی فرد میں رسک فیکٹرز یادہ ہوں گے اس کو ہارٹ اٹیک کا خطرہ اسی قدر زیادہ ہو گا۔لیپڈ ریسرچ کلینک کے مشاہدات بھی تصدیق کرتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر رکھنے والے افراد میں نارمل بلڈ پریشر رکھنے والے افراد کی نسبت کولیسٹرول کی بے قادگیاں چار گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ بذات خود بلڈ پریشر کے علاوہ بیٹا بلاکر اور پیشاب آور تھایا زائیڈز ادویات جو ہائی بلڈ پریشر میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں اپنے استعمال کے نتیجے میں کولیسٹرول لیول بڑھاتی ہیں ، کسی بالغ فرد میں دوسو ملی گرام سے کولیسٹرول لیول کو نارمل سمجھا لیکن ہائی بلڈ پریشرمریض میں 182ملی گرام کولیسٹرول لیو ل بھی دل کے مرض کا سبب بن جاتا ہے ۔امریکہ اور اسٹریلیا میں جاری ہونے والی رپورٹیں بھی اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر رکھنے والے افراد کو اپنے بلڈ کولیسٹرول لیول کے بارے زبردست احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بالغ افراد میں ہائی بلڈ کولیسٹرول لیول اور ہائی بلڈ پریشر دونوں ہی عام طور پر پائے جاتے ہیں ۔ برصغیر کی آبادی کا 15سے 25فیصد (بالغ حصہ) ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے ۔ اسی طرح 20سے 30فیصد بالغ افراد کو کولیسٹرو ل لیول 200ملی گرام سے زیادہ رہتا ہے ۔
دیگر بیماریاں: ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے علاوہ بھی کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو بلڈ کولیسٹرول لیول میں اضافہ کا سبب بنی ہیں جن کا ذکر اگلی سطور میں کیا جا رہا ہے۔
تھائی رائیڈ : تھائی راکسن نامی ہارمون تھائی رائیڈ گلینڈانتہائی معمولی مقدار میں خارج کرتاہے لیکن اس ہارمون کا کردار پوری بدن میں بہت اہم ہوتا ہے اور تمام اعضا ءکو یہ متاثر کرتاہے ۔ بعض اوقات تھائی رائیڈز گلینڈز غیر فال ہو جاتا ہے اور تھائی راکسن ہارمو ن کا اخراج بند ہو جاتا ہے چناچہ جسم کے کیمیائی افعا ل سست ہو جاتے ہیں ۔ اس کیفیت کو ہائیو تھائی رائیڈ از م کہتے ہیں ۔ اس کا مریض عموماً بڑھاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔ دل ، دماغ حتٰی کہ نظام ہضم بری طرح متاثر ہوتا ہے اور نتیجیتاً بلڈ کولیسٹرول پر منفی اثرپڑتا ہے ۔ ہائیو تھائی رائیڈ ازم کے مریضوں میں ہائی کولیسٹرول لیول عموماً 250سے 350ملی گرام تک پایا جاتا ہے ۔ ماہرین کی تحقیق کے مطابق غیر فعال تھائی رائیڈ کا مریض دل کی شریانوں کی بیماری کی ضد میں رہتا ہے ۔حال ہی میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ تھائی راکسن ہارمون کی عدم موجودگی خلیوں میں ایسی بے قاعدگی پیدا کر دیتی ہے کہ جسم آسانی سے اضافی کولیسٹرول سے نجات نہیں پا سکتا ۔ تھائی راکسن کی کمی موٹاپہ بھی طاری کرتی ہے ۔ یہ بات طے ہے کہ موٹاپا اور کو لیسٹرول کی اضافی مقدار کے ساتھ تھائی رائیڈ گلینڈ بھی غیر فعال ہو جائے گا تو پھر دل کی بیماری کے امکانات قوی تو ہو جاتے ہیں ۔بعض اوقات تھائی رائیڈ گلینڈ زیادہ فعال ہو جاتا ہے چناچہ تھائی راکسن ہارمون کی پیداوار بڑھ جاتی ہے اس صورتحال کو ہائپرتھائی رائیڈازم کہتے ہیں ۔اس کے نتیجے میں جسم کے کیمیائی افعال میں تیزی آ جاتی ہے اور بلڈ کولیسٹرول میں کمی پیدا ہو جاتی ہے ۔ پچیس تیس سال پہلے جب تھائی رائیڈ کی کارکردگی جانچنے کے لیئے زیادہ درست ٹیسٹ ایجاد نہیں ہو ئے تھے تب بھی کولیسٹرول لیول میں بے قاعدگی کو تھائی رائیڈ گلینڈ کی کارکردگی کا ہی نتیجہ سمجھا جاتا تھا ۔ 
گردوں کے امراض : نیفراٹک سینڈ روم کے نتیجہ میں کم ا ز کم پچاس قسم کی گردوں کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ نیفراٹک سینڈ روم کے مریضوں میں پیشاب کے ذریعے پروٹین کا نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ایک صحت مند فرد پیشاب کے ذریعے 24گھنٹوں میں 100ملی گرام سے بھی کم پروٹین خارج کرتا ہے ، جبکہ نیفراٹک سینڈروم کا مریض ایک دن میں 5سے 20گرام تک پروٹین کے نقصان سے دوچار ہوتا ہے ۔پروٹین کی مقدار ختم ہو جاتی ہے ایسے تمام مریضوں کی ٹانگیں اور پاو ¿ں سوج جاتے ہیں ۔نیفراٹک کے مریضوں میںبلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے۔70فیصد سے زائد مریض ہائی بلڈ کولیسٹرول LDLکولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائید میں اضافے میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ بلڈ پروٹین کی کمی کی وجہ سے جگر اپنی فطری رغبت کے سبب کولیسٹرول او ر ٹرائی گلیسرائیڈ زیادہ مقدار میں پیدا کرنے لگتا ہے ۔ کولیسٹرول کی پیداوار کے درست میکنزم کے قطع نظر نیفراٹک مریض دل کی شریانوں کی بیمار ی کے خطرے کے میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار برابر رہتی ہے ۔علاوہ ازیں ٹانگوںکی اضافی سوجن کی وجہ سے ایسے مریض پیشاب آور ادویات لیتے ہیں ۔ یہ ادویات بھی کولیسٹرول میں اضافہ کرتی ہیں۔
لبلبہ کا مرض اور ہائی کولیسٹرول : لبلبہ(PANCREAS)ہمارے جسم کا انتہائی اہم گلینڈ(غدود) ہے۔اس کا بنیادی کردار انسولین خارج کرنااور بلڈ پریشر لیول کو کنٹرول میں رکھنا ہے ۔بعض اوقات لبلبہ سوج جاتا ہے ، اس کی کارکردگی میں بے قاعدگی آ جانے سے خون میں کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے تاہم اس طرح کا ہائی بلڈ کولیسٹرول لیول دل کی بیماری کا خطرہ پیدا نہیں کرتا کیونکہ جب لبلبہ سوج جاتا ہے، اس کی کارکردگی میں بے قاعدگی آ جانے سے خون میں کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے ۔ تاہم اس طرح کا ہائی بلڈ کولیسٹرول لیول دل کی بیماری کا خطرہ پید ا نہیں کرتا کیونکہ جب لبلبہ صحت مند ہو جاتا تو خون میں کولیسٹرول کی مقدار بھی ٹھیک ہو جاتی ہے ۔ لبلبہ کی بے قاعدگی عموماً دس روز میں ختم ہو جاتی ہے جب ہمیں یہ علم ہو چکا ہے کہ ذیا بیطس ہائی پرٹینشن (بلڈ پریشر)او ر تھائی رائیڈ کی بے قاعدگی جیسے امراض کولیسٹرول لیول میں اضافہ کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان بیماریوں سے تحفظ یا ان کے علاج میں کوئی کوتاہی نہیں کرنا چاہیے کسی اہم مرض کو کوئی دوسرا مرض پیدا کرنے کی اجازت دینا خود کشی کے مترادیف ہے ۔
کولیسٹرول بڑھاپے والی ادویات: ایسے امراض جن کا علاج صرف اور صرف ادویات ہی سے ممکن ہے ، مریض کو بعض اوقات مشکل صورتحال سے دوچار کر دیتے ، کچھ ایسے ہیں جن کے علاج میں بہت سی ادویات اپنے زہریلے اثرات کی وجہ سے ہائی کولیسٹرول کا سبب بنتی ہیں ۔
پیشاب آور ادویات: ہائی بلڈ پریشر اور ہارٹ فیلیور کے علاج کے دوران زیادہ زیادہ پیشا ب کے اخراج کے لیئے ادویات کا ایک ایسا گروپ ہے جو کولیسٹرول میں اضافہ کرتا ہے لیکن مزکورہ امراض کے علاج کے لیئے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں ۔ ان پیشا ب آور ادویات میں کلور تھایا زائیڈ، ہائیڈو کلو ر تھایا زائیڈ(ESIDREX)، کلور تھالیڈون (HYTHALTON)، فروسا مائیڈ(LASIX)، بو می ٹائیسنائیڈ (BUMET) اور ایتھا کرینک ایسڈ شامل ہیں ۔مجموعی کولیسٹرول میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیشاب آور ادویات LDLکولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ لیول میں بھی اضافہ اور HDLلیول میں کمی کرتی ہیں ۔ اگر آپ کا کولیسٹرول لیول ہائی ہے اور آپ کوئی پیشاب آور دوا لے رہے ہیں تو آپ کا معالج دوا تبدیل کرنے کے بارے میں سوچے گا یا دوا کی مقدار کم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
بیٹا بلاکر: ادویات کا یہ خصوصی گروپ 1970کے ابتدائی عشرے میں متعارف کروایا گیا تھا ۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ہائی بلڈ پریشر ، انجائنا اور دل کی بے قاعدگیوں کے لیےءبیٹا بلاکر ادویات لے رہے ہیں ۔ گزشتہ بیس برسوں میں بیٹا بلاکرز ادویات نے بلا شبہ لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں لیکن تمام دیگر ادویات کی طرح بیٹا بلاکرز کے بھی ذمنی اثرات ہیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہی ہے کہ ا ن کے استعمال سے کولیسٹرول میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ عام طورپر استعما ل میں آنے والی بیٹا بلاکرز ادویات میں ”پرووویرانولول (انڈرال )“،”میٹا پروپرانولول (میٹو لر ) “،”ایٹینو لول (لونول )“،”ٹیمو لول “،”لیبیسٹیالو ل(نارماڈیٹ )“،”پینڈولول (وسکن)“شامل ہیں۔مندرجہ بالا تمام ادویات برصغیر میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ کیا کوئی بیٹا بلاکرایسی ہے جو اس قباحت سے آزاد ہو؟بد قسمتی سے زیادہ تر تو کولیسٹرول بڑھانے کا سبب بنتی ہیں البتہ ٹمولول شاید ایسی بیٹا بلاکر ہے جو یہ مسئلہ پیدا نہیں کرتی ۔پیشاب آور ادویات کی طرح بیٹا بلاکر بھی LDLکولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ ز میں اضافہ اور LDL(مثبت کولیسٹرول ) میں کمی کرتی ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کے لیئے خصوصی ادویات: بیٹا بلاکرز اور پیشاب آور ادویات کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیئے استعما ل ہونے والی کچھ اور عام ادویات بھی کولیسٹرول میں بے قاعدگی اور دیگر لیپو پروٹیز میں گڑ بڑ کرتی ہیں ۔پرازوسین ، کیپٹوپرل (ایسی ٹن) اور میتھائل ڈوپا (ایلڈومٹ)بلڈ پریشر کم کرنے کے لیئے عموماً زیر استعمال لائی جاتی ہیں اور یہ تمام کولیسٹرول لیول میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں ۔
دیگر ادویات: ہائی بلڈ پریشرانجائنا ۔ ہارٹ فیلیور کے علاج کے لیئے استعمال ہونے والی ادویات کے علاوہ کئی اورادویات بھی مبینہ طور پر کولیسٹرول میں اضافہ کرتی ہیں ان میں :
نمبر 1: اینابالک سٹیرائیڈز (Anabolic Steroids)۔
نمبر 2: اینڈروجن ہارمونز 
نمبر 3: کارٹیکو سٹیرائیڈز (دمہ، جوڑوں کی سوجن، الرجی کے لیئے استعمال میں آتے ہیں)۔
نمبر4: مانع حمل گولیاں ۔
خوش قسمتی سے ان سب کے ضمنی اثرات مزکورہ ادویات کی طرح لازمی طورپر منفی نہیں ہیں ۔ خون کا تجزیہ ہی آپ کو اور آپ کے ڈاکٹر کو بتا سکتا ہے کہ ان میں کوئی دوا آپ کے کولیسٹرول کو کم کر رہی ہے یا نہیں اگر کوئی دوا آپ کا کولیسٹرول بڑھا رہی ہے تو اس کا متبادل اور محفوظ حل اپنایا جا سکتا ہے ۔کسی دوا کی وجہ سے کولیسٹرول میں اضافہ برقرار رہنااچھی بات نہیں ہے ۔ چاہے یہ ہائی بلڈ پریشر اور ہارٹ فیلیور یا کسی بھی اور مرض کے لیئے مفید علاج ہو۔
ایلو پیتھک میں قانون بالمثل کا استعمال: قانون بالمثل کے مطابق آج بہت سی دوائیں ایلو پیتھک طریقہ علاج میں استعما ل کی جاتی ہیں ۔Immunology اورSerumtherapyکی بنیاد ہی قانون بالمثل پر ہے ۔Allegologyمیں تو اسے ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی دوسری دوائیں ہیںجو محض قانون بالمثل کی بنیاد پر موثر ثابت ہوئی ہے ۔ایلو پیتھی میں بہت سے کیسوں پر لا شعوری طور پر اسی قانون کے تحت دوائیں استعمال کی جاتی ہیں ۔Jennerکے چیچک کی ویکسین کے ٹیکے کی دریافت کے بعد میڈیکل سائنس اس بارے میں اپنے سارے تجربات اور مشاہدات کے باوجود بالمثل کے طریقہ کو ایک غیر منتقی قانون کے طور سے تسلیم کرتی رہی ۔ تاآنکہ Pasteurنے ایلو پیتھی کے مروجہ نظریات کے برعکس جب قانون بالمثل کل کھوج لگایا تو یہ عین ہومیو پیتھی کے بانی ڈاکٹرسیموئل ہانیمن کے نظریہ کے مطابق تھا ۔الرجی ایک وسیع تر موضوع ہے جس کو بطور ایک عمدہ مثال کے پیش کیا جا سکتا ہے کہ الرجی جن عوامل سے پیدا ہوتی ہے جیسےPollenیا House Dustچناچہ ان ہی کے عوامل کے جوہر الرجی کی حساسیت کو کم کرنے کے لیئے بطور اینٹی الرجک دوا کے استعمال کیئے جاتے ہیں جو صریحاً ہومیو پیتھی کے قانون بالمثل کے مطابق ہے ۔ ان اصولوں کے تحت استعمال کی جانے والی چند ادویات درج کی جاتی ہیں ۔
قانون بالمثل کے مطابق دواو ¿ں کا استعمال :
Marijuanaبھنگ ہومیو پیتھک میںیہ دواCannabisکے نام سے انیسویں صدی کے وسط سے استعمال ہو رہی ہے۔ اس دوا کی آزمائش میں آنکھوں پر پیچھے سے دباو ¿ محسوس ہوتا ہے ایسے جیسے ڈھیلے باہر کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں ۔آنکھ کا پردہ دھندلا ہو جاتا ہے ۔ نزول الما ، موتیا بند اور (Glaucoma)سبز موتیا میں مفید ہیں۔
Copperعام طورپر تانبے کی اس دھات کو ایک مخصوص طریقے سے IUDیعنی مائع حمل کے طور سے عورت کے رحم میں داخل کیا جاتا ہے اور اس دھات سے الگ ہونے والے اس کے خفیف اجزا ءکام میں مدد دیتے ہیں ۔ہومیو پیتھک آزمائش میں 
(Cuperum Metallicum)سے سکڑن اینٹھن اور زنانہ امراض میں ماہواری کے بند ہونے کی علامات دیکھنے میں آئی ہیں۔
(Rauwulfa Serpentina)کی آزمائش میں خون کے دباو ¿ کی زیادتی اور دل کی بے قاعدہ ضربات پائی جاتی ہیں ۔ایلو پیتھی اور ہومیو پیتھی دونوں میں یہ دوا خون کا دباو ¿ کم کرنے میں استعمال ہوتی ہے البتہ ہومیو پیتھی آزمائش میں یہ دوا دماغی علامات مثلاً بے چینی ، غصہ،مایوسی ، شدت جذبات، مزاج کے تبدیل ہونے کی کیفیات جیسی علامات پر بھی استعمال کی جاتی ہیں ۔ایلو پیتھی میں نفسیاتی امراض میں اس دوا کا الگلائیں استعمال کیا جاتا ہے ۔
Nitroglycerineسب سے پہلے ہومیو ڈاکٹر Constantineنے متعارف کروایا ۔ ہومیو پیتھک میں یہ دوا گلو نائن کے نام سے لو لگنے اور دل کے بہت سے عارضوں خصوصاً (Anginpectoris)وجہ قلب میں استعمال ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر ہیرنگ کے قریباً سو سال بعد یہ دوا ایلو پیتھک میں شامل کی گئی اور Anginaکے لیئے استعما ل ہونے لگی ۔
Metalic Goldکی آزمائش میں مختلف گھٹیاوی درد مشاہدہ ہوئے ہیں ۔ آج یہ دو ا ایلو پیتھک اور ہومیو پیتھک دونوں میں استعمال ہوتی ہے ۔ یہ دوا 1935ءمیں Forestierنے اپنے مشاہدہ میں ایلو پیتھی میں داخل کی۔ Goldسونے کے نمکیات سے براہ راست بیکٹریا پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور اس طرح یہ دواقوت مدافعت کو تحریک دیتی ہے ۔ Forestierنے 550کیسوں میں یہ دوا استعمال کی اور اسی بنا پر یہ دوا ایلو پیتھی میں دق کی بیماری میں استعمال کی جاتی ہے ۔
Veratrum Virideہومیو پیتھک آزمائش میں اعصابی تناو ¿ ، نبض کی سست رفتاری ،تیز رفتاری مشاہدہ کی گئی ہے ۔ یہ دوا اعصابی تناو ¿ اور مندرجہ بالا علامات پر ہومیوپیتھی اور ایلو پیتھی دونوں میں استعمال ہوتی ہے ۔ویسے ایلو پیتھی میں یہ دوا اس بنا پر متروک ہو رہی ہے کہ مادی خوراکوں میں یہ دوا زہریلے اثرات پیدا کرتی ہے۔ مگر ایلو پیتھی کے برعکس چونکہ ہومیو پیتھی اپنا ایک خاص نظریہ رکھتی ہے لہٰذا اس دوا کو اپنے اصولوں کے مطابق استعمال کرکے بڑے فوائد حاصل کر رہی ہے ۔
Ephedrineکی آزمائشوں میں دمہ کی متعدد علامات ملتی ہیں ۔ یہ دوا آج بھی ایلو پیتھی میں دمہ کے نسخوں میں استعمال ہوتی ہے اور ایلو پیتھی مرکبات میں سب سے بڑا جزو اسی دوا کا ہوتا ہے ۔
Digitalisکی ہومیو پیتھک Provingآزمائش میں بے شمار قلبی علامات ملتی ہیں ۔دل کی رفتار کا دھیمہ ہونا، دل کا تاگ سے لٹکتا ہوا محسوس ہونا، نبز کا بہت کمزور ہونا اور غیر متوازن ہونا وغیرہ وغیرہ۔انہی علامات پر یہ دوا تقریباً دو سو سال سے د ل کے امراض میں استعمال ہوتی ہے ۔
ایلو پیتھک طریقہ علاج میں کسی دوا کے استعمال سے مریض پر جو طویل زہریلے یا ناموافق اثرات بطور (Side Effects)پیدا ہوتے ہیں ۔ یہی (Side Effects)ہومیو پیتھک کی Provingمیں دوا کی علامت کہلاتے ہیں اور نتیجتاً انہی علامات سے کسی دوا کی کارکردگی اور اثرات کا تعین کیا جاتا ہے۔ایلو پیتھی ہومیو پیتھی کو تکرار کے ساتھ ایک غیر سائینٹیفک علاج تصور کرتی ہے ، بنیادی اختلاف یہ ہے کہ ہومیو پیتھی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جس کی معقو ل ٹھوس اور مستحکم بنیاد نہیں ۔ اگرچہ ہومیو پیتھی کے مما ثل کئی اصول ایلو پیتھی میں پائے جاتے ہیں ، اس کے باوجود یہ ایلو پیتھی سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ہومیو پیتھی اپنے اصولوں کی اتنی سختی سے پابند ہے کہ اگر کوئی بات اس کے اصولوں کے مطابق نہ ہو تو اسے ہومیو پیتھی سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
ایلو پیتھی بالمثل پر عمل تو کرتی ہے مگر اقرار نہیں کرتی جس کی وضاحت اوپر دی گئی چند ادویات سے ظاہر ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی بیماری کا ایلو پیتھی علاج کا (Side Effect)یقینی ہے۔مگر ہومیو پیتھی میں اگر علاج کسی مستند ہومیو ڈاکٹر کی زیر نگرانی میں کیا جائے تو حاد اور مزمن امراض کا علاج بغیر کسی (Side Effect)کے کیا جاتا ہے۔ہومیو پیتھی میں بلند فشار خون کے لیئے مندرجہ ذیل ادویات سے علاج یقینی ہے۔
اگنیشیا اور ایسڈ فاس ، برائٹاکارب ، برائٹا میور ، کونیم ، بیلا ڈونا، گلو نائن ، جیلسی میئم۔
اگنیشیا اور ایسٹ فاس: یہ دونوں دوائیں بلڈ پریشر کی اہم ادویات ہیں ۔مہاتما گاندھی کو بلڈ پریشر کی شکایت رہتی تھی لیکن وہ کبھی بھی دواو ¿ں کا سہارا نہیں لیتے تھے۔ بلڈ پریشر زیادہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے ماتھے پر مٹی کا گاراملتے تھے اور لہسن کا استعمال کیا کرتے تھے۔ خون کے دباو ¿ کو نارمل رکھنے کے لیئے ضروری ہے کہ انسان اپنے آرام کا خیال رکھے ،خوراک میں مناسب کمی رکھے ، پانی زیادہ استعمال کرے اور خود کو رنج و غم سے دور رکھنے کی حتی الامکا ن کوشش کرے۔
برائٹا کارب30،3X: جن کی عمر 50سال سے زیادہ ہو ان کے لیئے بہترین دو اہے ۔
برائٹا میور3X: چہرے کا سرخ ہونا ، سر درد شدید ، آنکھیں سرخ، چکر ، تیز دھڑکن ، اگر یہ تمام علامات ہوں تو یہ دوا بہتر ہے ۔
گلو نائن30: اگر گرمی کے موسم میں یہ عارضہ زور پکڑے ، مریض کو لگتا ہے کہ اس کا سر بڑا ہو گیا ہے تو یہ دوا اچھا کام کرتی ہے ۔
کونیم30: سر کو ہلانے سے چکر ،دھڑکن تیز، کام سے نفرت، ٹانگوں کا کانپنا ۔
جلسی میم 30: ایک کا دو دو نظر آنا ، زبان خشک اور کانپتی ہوئی ، چکر ۔
ایلیم سٹائیواQ : یہ دوا بڑھے ہوئے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتی ، چند منٹ میں نارمل کر دیتی ہے ۔
نیٹرم میور200: علامات کے تحت استعمال کریں ، اس دوا کا مریض زیادہ نمک کھانے کی خواہش رکھتا ہے ۔
ایکو نائیٹ 30 : بے چینی ، گھبراہٹ ، دھڑکن تیز ، موت کا خوف ، تشویش ، نبض تیز اور بھری ہوئی ۔
نکس وامیکا30 : شرابی لوگوں اور ایسے لوگوں کے لیئے یہ دوا موزوں ہے جو غیر فطر ی زندگی گزار رہے ہیں۔
راو ¿ولفیاQ: ہائی بلڈ پریشر کے لیئے بہت بڑی دوا ہے۔
سینگو ینیریا : مریض کے رخسار سرخ، روشنی میں رہنے سے تکلیف میں اضافہ اور اندھیرے میں رہنے سے تکلیف میں کمی ، طلوع آفتاب کے ساتھ ساتھ سر کا درد بڑھتا ہے اور آفتاب غرو ب ہونے پر سر کا درد ختم ہو جاتا ہے ۔
ہومیو پیتھی ایک با کمال علاج بالمثل ہے جس میں تمام بیماریو ں کے علاج معالجہ کا راز پنہاں ہے ۔ تجربہ کار اور اچھے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کے لیئے کسی مرض کا علاج کرنا مشکل نہیں۔ہومیو پیتھی میں ایسی لا زوال ادویات موجود ہیں جن کے ذریعے ہومیو پیتھک ڈاکٹر اپنے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے Cronicیعنی مزمن بیماریوں کا علاج بخوبی شفا یابی سے کر لیتا ہے جب کہ دوسرے طریقہ ہائے علاج کسی کیس کو لاعلاج قرار دے دیں۔
 حوالہ جات : 
۱ ۔  بورک میٹریا میڈیکا 
۲۔ پریکٹس آف میڈیسن ”ڈاکٹر محمد عرفان شیخ علیگی “
۳ ۔ سیلف نالج      
.............................           
  نوٹ: خوشاب نیوز کا مضمون نگار کے خیالات سے کلی جزوی طور پر متفق ہونا ضروری نہیں

;
بلند فشار خون ایک خامو ش قاتل بیماری ہے بلند فشار خون ایک خامو ش قاتل بیماری ہے Reviewed by Khushab News on 8:41:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.