جلے ہوئے لا علاج مریض کی شفایابی


تحریر : ہومیو ڈاکٹر محمد حنیف اعوان 

اشتہار
ایلو پیتھک فلسفہ جلدی امراض کو جراثیم کے حملہ کی شکل میں پرکھتا ہے ۔ جبکہ ہومیو پیتھک میں وائٹل انفیکشن (Vital Infection)کی صورت میں دیکھا جاتا ہے ۔ علاج کے سلسلہ میں ہر مریض میں بیماری کے اصل سبب کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے بلکہ سب سے پہلے اندرونی کیمیائی افعال کو درست کرنا ہو گا تا کہ قوت حیات کے بگاڑ کو صحیح معنوں میں درست کیا جا سکے ۔ ہو میو پیتھی میں چونکہ دوا مریض کی علامات کے مطابق استعمال کرائی جاتی ہے نہ کہ کسی عارضہ کے لیئے مخصوص دی جاتی ہے ۔
ہومیو پیتھی کی بنیاد سنہری اصولوں پر قائم ہے ۔ جو ازل سے ابد تک تبدیل نہیں ہوں گے کیونکہ اصول رہنمائی کرتے ہیں اور تجربہ تائید کرتا ہے۔
میں ہومیو پیتھی کا ادنیٰ سا طالبعلم ہوں ۔ کافی عرصہ خواہش رکھتا تھا کہ میں ایک ایسی بالمثل دوا کا کامیاب تجربہ آپ کی خدمت میں پیش کروں جس نے ہومیو پیتھی طریقہ علاج کو کامیابیوں سے ہمکنار کیا تاکہ ہومیو پیتھی کے نا ماننے والوں کو اعتماد میں لیا جائے جو یہ کہہ کر ہومیو پیتھی طریقہ علاج کو صرف اس لیئے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چند قطرے پانی سے کیا شفا ہو سکتی ہے ۔مگر انہیں کیا معلوم کہ ماد ی جسم کے اندراور باہر پیدا شدہ تمام علامات روح انسانی کا ان مٹ پیغام ہیں۔
دوائیں بہ حکم اﷲ قانون بالمثل کے تحت روح انسانی کی کجی کو دور کر سکتی ہیں اور جب روح انسانی کی کجی دور ہو جاتی ہے تو جسم صحت یاب ہونا شروع ہو جاتا ہے یعنی جسم کا کاروبار رفتہ رفتہ فطری لائنوں پر چلنا شروع ہو جاتا ہے۔
10اپریل 2013ءکو میر ا بھانجا محمد فاروق اعوان ، جو انگہ وادی سون سکیسر ضلع خوشاب سے میرے پاس سرگودھا آیا ہوا تھا ۔کلینک سے آف ٹائم ہم دونوںگپ شپ لگا رہے تھے کہ فاروق کے موبائل فون پر کال آئی ۔ یہ اس کے دوست کی فو ن کال تھی جو اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے اور ریلوے ہسپتال راولپنڈی میں بطور وارڈ ماسٹر سروس کر رہا ہے ۔حال احوال دریافت کرنے کے دوران اس نے فاروق کو بتایا کہ ایک ماہ ہو گیا ہے ، میرا بیٹا جس کی عمر 4سال ہے اوپر چائے گرنے سے بائیں طر ف پسلیوں کے اوپر سے جل گیا ۔مختلف ڈاکٹروں ، حکیموں ، روحانی معالجوں حتیٰ کہ PIMSجیسے بڑے ہسپتالوں سے علاج کرا بیٹھا ہوں مگر بچہ صحیح نہیں ہورہا ہے۔دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔یہ قدرتی بات ہے کہ انسان پریشانی یا کسی تکلیف میں ہو تو اس کی ہر آواز آہوں کا شکار ہوتی ہے اور وہ ہمدردیوں کا طلبگار ہو تاہے۔فاروق نے خان صاحب کی تمام باتیں سن کر فون Holdکرکے مجھ سے پوچھنے لگا کہ ہو میو پیتھی میں ایسے مریضوں کا علاج ہے جو کسی وجہ سے جل گئے ہوں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ اکثر مریض تمام تر علاج کے بعد نا امید ہو کر جب ہو میو پیتھ ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں تو ان کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا ہوپیتھی میںاس بیماری کا کوئی حل ہے ؟؟؟ میں نے فاروق کو کہا کہ ہومیو پیتھی ایسی میڈیکل سائنس ہے جس میں ہر قابل علاج مرض کا حل موجود ہے مگر میں بغیر دیکھے مریض بچے کے بارے میں کیا رائے دے سکتا ہوں۔ فاروق نے ضد کی کہ خان صاحب کو کچھ نہ کچھ تو حوصلہ افزائی کر دیں ۔ یہ کہہ کر فون مجھے تھما دیا اور میں زیارت گل خان سے ہمکلام ہو گیا ۔ اس نے صورت حال سے آگاہ کیا کیونکہ کیس پیچیدہ تھا۔کیس کی علامات کچھ اس طرح تھیں کہ چائے بائیں طرف پسلیوں کے اوپر گری جس سے آبلے پڑ گئے اور پھر زخم بن گئے ۔آبلے والی زخمی جگہ سے خون آلودہ پانی کا اخراج نہایت درد اور جلن کے ساتھ ہوتا ہے۔جلنے والی جگہ پر درد (ٹیسیں )اور شدید جلن تھی او ر شدید سوزش ہو چکی تھی۔ غرض جسم کے ہر حصے میں جلن اور درد کی علامتیں نمایاں تھیں ۔ آبلے دار جلدی ابھار اور زخم بچے کے جسم کی بائیں پسلیوں والی جگہ پر تھے ۔جس سے بیرونی زخم اور تکلیف کے علاوہ جسم کے اندر بھی نقصانات کے قوی امکانات تھے کیونکہ پسلیوں پر گوشت پوست بہت کم ہوتا ہے ۔زیارت گل خان کی زبانی بچے کا حال معلوم ہوا۔کیس کی نوبت پیچیدہ نظر آ رہی تھی اور کچھ لمحے کے لیئے پریشان ہوا۔کیس کی صورت حال کو سمجھتے ہوئے خان صاحب کو تسلی دی کہ دو گھنٹے بعد دوبارہ فون کرنا ۔ اﷲ تعالیٰ مدد کرنے والا ہے۔
تین دوائیں میر ے اس کیس کی عکاسی کرتی نظر آ رہی تھیں جن میں (کیلنڈ ولا، رہسٹاکس اور کینتھرس ) سر فہرست تھیں۔کیونکہ آبلے دار جلدی ابھار اور زخم جو آ گ پر مائعات کے جلنے سے پیدا ہوئے ۔ان میں جلن اور درد پایا جائے اور ٹھنڈک سے آرام ہو۔مجموعہ علامات بالمثل دوا کینتھرس کی نشاندہی کر رہی تھیں ۔
کینھر س ایک زہریلی مکھی ہے ۔اس مکھی کے کاٹنے سے سخت جلن پیدا ہوتی ہے ۔ہومیو پیتھی میں اس کے زہر کو جلنے کی تکالیف دور کر نے کے لیئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے چھالے بہت بڑے نہیں ہوتے۔بڑے چھالوں میں رہسٹاکس کینتھرس سے بہتر کام کرتی ہے۔رہسٹاکس میں بھی بہت جلن ہوتی ہے جبکہ آگ نے پورے بدن کو متاثر کر دیا ہو تو رہسٹاکس 1Mطاقت میں چند بار دینے سے جلن کی غیر معمولی تکلیف میں بہت کمی آ جاتی ہے ۔کیلنڈولا بھی ان دواو ¿ں میں سے ہے جو ایسے موقعوں پر کام آتی ہے۔آرگینن دفعہ 186میں کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ مبینہ مقامی امراض جن کو نمودار ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہواور جن کا سبب خارجی ہو وہ بلا شبہ مقامی امراض کہلاتے ہیں۔اگرباہر سے جسم پر زخم لگے اور یہ زخم سخت ہو تو پورا جسم اس تکلیف میں شامل ہوتا ہے لیکن یہ اسی حد تک صحیح ہے جس حد تک کہ متاثرہ اعضاءکو میکانکی امداد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب زخم اس طرح کے ہوں کہ پورا جسم عملی روحانی امداد کا محتا ج ہو جائے تو اس وقت ہومیو پیتھی کی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے ۔مثال کے طور پر جسم کسی حصے کے کچل جانے یا جسم کا کوئی حصہ جل جائے اور سخت درد ہونے کی صورت میں ہومیو پیتھک علاج سے کام لینا ضروری ہوتا ہے ۔
آرگنن دفعہ 196کے مطابق مرض کی مجموعہ علامات کے لحاظ سے جو دوا ہومیو پیتھی اصول کے مطابق موزوں ہو گی اسے نہ صرف اندرونی طور پر بلکہ بیرونی طور پر بھی استعمال کرنے سے جلد شفا ہو گی کیونکہ مقام ماو ¿ف پر دوا کے استعمال سے جلد فائد ہ ہو گا۔آگنن دفعہ 196کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ جسم عملی امداد کا محتاج ہے اس لیئے کینتھرس اس کیس کی حتمی بالمثل دوا ہے جسے دفعہ 196کے مطابق اندرونی اور بیرونی طور پر استعمال میں لایا جائے ۔
ڈاکٹر عابد حسین نے اپنے مشاہدات میں کینٹ ہومیو گائیڈ اور ہومیو پیتھک کی پہلی کتاب میں کینتھرس کو اندرونی او ر بیرونی استعمال کرنے کو مجرب قرار دیا ہے۔
اسلام آباد سے زیارت گل خان نے فون پر رابطہ کیا ۔میں نے اسے کہا کہ آپ کینتھرس 30کو مندرجہ ذیل ترکیب سے استعمال میں لائیں ۔دو برتنوں میں ڈسٹلڈ واٹر ڈال کر کینتھرس 30کے دس دس قطرے دونوں برتنوں میں ڈال لیں ۔ ایک برتن سے بچے کو ایک گھونٹ ہر گھنٹے کے بعد پلائیں اور دوسرے گلاس کا لوشن کافی حد ٹھنڈا کر کے اس میں صاف پٹی بڑی تہہ کر کے پانی نچوڑ کر زخم پر رکھیں اور یہ عمل دہراتے رہیں ۔اسے ہدایت کی کہ پانی ہر روز تازہ دوا ڈال کر استعمال کریں ۔پٹیاں صاف ستھری ہونی چاہئیں اور جو آدمی یہ عمل کرے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اس کے ہاتھ وغیرہ صاف ستھرے ہونے چاہئیں۔
جب آپ محسوس کریں کہ بچے کو آرام آ رہاہے تو دوا کا دورانیہ زیادہ کر دیں ۔ یہاں تک کہ دوا کا استعمال دن میں تین دفعہ کر لیں ۔ اگر زخم پر جھریاں بنیں اور چھلکا بننے کو آئے قطعاً اتارنے کی کوشش نہ کریں ۔ خان صاحب کو تاکید کی ہے کہ کیس پیچیدہ ہے صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔زیارت گل خان صاحب بڑے بڑے ہسپتالوں کے ستائے ہوئے تھے اور بچے کی تکلیف کی وجہ سے کافی پریشان تھے ۔انہوںنے چند قطرے دوائی کے انمول موتی جان کر ہدایات کے مطابق عمل کیااور بچے کی خوب نگہداشت کی ۔ قدرت کی کرم نوازیاں نچھاور ہونے لگیںاور زیارت گل خان کا بیٹا صحت یاب ہونے لگا۔دوہفتے کے بعد فون آیا کہ جلن اور درد کا اور جو خون ملا پانی کا اخراج تھا وہ سب ٹھیک ہو گیا ہے ۔یعنی آرام آ گیا ہے اور زخم پر جلد کی تہہ آنی شرو ع ہو گئی ہے ۔ مجھے کیس کامیاب ہونے کے آثار نظر آنے لگے اور میں نے دوا کا دورانیہ بڑھانے کی تلقین کی اور پھر میری خوشی کی انتہا نہ رہی ۔5ہفتے کے بعد زیارت گل خان صاحب کا فون آیا کہ بچے کا زخم بالکل ٹھیک ہو گیا ہے اور اس کی تمام تکالیف ختم ہو گئی ہیں ۔تھوڑی دیر بعد میرے بھانجے محمد فاروق اعوان کا فون آیا کہ ماموں خدا نے کرم کیا ہے کہ مریض بچہ ٹھیک ہو گیا ہے ۔ جسے (اسلام آباد ) PIMS جیسے بڑے ہسپتال شفا سے ہمکنار نہ کر سکے، اسے ہومیو پیتھی کی بالمثل دوا کینتھرس کے چند قطروں نے اپنے شفا ئی کمالات دکھائے اور ہومیو پیتھک طریقہ علاج کا بول بالا کیا۔یہ تصور بجا ہے کہ ہومیو پیتھی انسان کی شفا کے لیئے ایک باقائدہ اور منظم اسکیم رکھتی ہے اور یہ سچ ہے کہ ہومیوپیتھی کی حقیقت صرف اﷲ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشاب نیوز کا مضمون نگار کے خیالات سے کلی یا جزوی طور پر متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی دوائی کو ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر ہرگزاستعمال نہ کریں( ادارہ)

اشتہار
;
جلے ہوئے لا علاج مریض کی شفایابی جلے ہوئے لا علاج مریض کی شفایابی Reviewed by Khushab News on 9:14:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.