دنیا ایک نئی آفت کی لپیٹ میں


  فرانس میں دہشت گردی کے حالیہ واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سینکڑوں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔پورے ملک میں خوف و حراس کی فضا کا ہونا ایک یقینی امر ہے ۔ہر فرانسیسی اب خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگا ہے ، اس کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی جس میں امریکہ اور برطانیہ شامل ہیں نے اپنی سیکورٹی بہت سخت کر دی ہے ۔اس سے پہلے روس ، امریکہ ، چائنہ ، پاکستان، ہندوستان اور مشرقی وسطہ کے دوسرے ممالک دہشت گردی کا براہِ راست مقابلہ کر رہے ہیں ۔کیا مستقبل میں اس بات کی ضمانت دی جا سکے گی کہ دنیا کے کسی ملک میں بھی آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے، بظاہر اس کے امکانات نظر نہیں آتے کیونکہ پوری دنیا اس بات کو جانتی ہے کہ بین الاقوامی چوہدری جب تک اسرائیل، بھارت اور اپنے لاڈلے ممالک کی پشت پناہی جاری رکھیں گے، یہ سلسلہ کبھی بھی ختم ہوتا نظرنہیں آ رہا۔
    دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ گذشتہ پچاس سالوں سے بڑے ممالک کا ناروا سلوک اس کا سب سے بڑا سبب ہے ۔اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی آبادی تین ارب کے لگ بھگ ہے ،جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً تیسرا حصہ ہے ،یہ آبادی پوری دنیا میں ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان دہشت گردی چاہتے ہیںاور دنیا کا امن تباہ کر نا چاہتے ہیں ؟؟؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔اسلام اس طرح کی دہشت گردی کے سخت خلاف ہے لیکن اگر کچھ لوگ یہ سمجھ لیں کہ مسلمان قوم کے ساتھ ہر وقت ناروا سلوک رکھنا ضروری ہے اور مسلمانوں کو ختم کرنا منشور کا حصہ ہے اور انہوں نے کچھ ممالک کو صفِ ہستی سے مٹانے کا اجنڈا تیار کر رکھا ہے ، یہ ان کی بھول ہے۔
    دنیا کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ خود جیا جائے اور دوسروں کو جینے کا حق دیا جائے ۔اسرائیل نے گزشتہ پچاس سالوں میں مشرق وسطی میں خون ریزی کا جو سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ، اس کوا س کی خواہشوں نے ہمیشہ جائز قرار دیا ہے اور مسلمانوں کے بہنے والے خون کو بہت ارزاں سمجھا ہوا ہے ۔ مشرقی وسطہ میں اسرائیل نے اسلامی ممالک کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور مسلمانوںکے قبل ِ اول بیت المقدس پر بھی قبضہ کر رکھا ہے اور اس کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن کسی کو یہ نہیں سوجھی کہ اس طرح کی ناروا زیادتیوں پر اسرائیل کی سرزنش کی جائے بلکہ اس کے برعکس ہمیشہ اسرائیل کو اس کی غنڈا گردی پر ہمیشہ شاباش ملتی ہے ،بھارت نے بھی اپنی مغربی سرحدوں پر آٹھ لاکھ فوج لگا رکھی ہے اور پاکستا ن کی سر حدوں کی خلاف ورزی کو اپنے منشور کا حصہ سمجھتا ہے ۔
    پوری دنیا نے آج تک بھارت کی اس غنڈہ گردی کی مذمت نہیں کی بلکہ بھار ت جیسے درندہ صفت ملک کے ساتھ جس نے کروڑوں کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے ، ایٹمی معائدے کئے جا رہے ہیں ۔عراق پر شبِ خون مارا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ وہاں تو کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں ، کیمیاوی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر پورے عراق کو نیست و نابود کر دیا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر چیز برباد کر کے اور لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا کر برطانیہ کا وزیر اعظم ٹونی بلئیر یہ کہتا ہے کہ ہم غلطی پر تھے ، ہمیں جو معلومات ملی تھیں وہ ناقص اور غلط تھیںاور ہم اس پر شرمندہ ہیں اور معذرت چاہتے ہیں ۔
    کیا ٹونی بلئیرکے اس بیان کے بعد مسلمان قوم کے وہ لاکھوں افراد جو اندھا دھند بم باری کا نشانہ بنے ، کیا وہ واپس آ جائیں گے؟؟؟اس طرح کی بیوقوفانہ گفتگوسے مغربی ممالک کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔یہ بات روز ِ روشن کی طرح ایاں ہے کہ لادین قوتیں اسلام کو پھلتا پھولتا نہیںدیکھ سکتیں ۔ان حالات میں جب پوری دنیا میں مسلمان قو م ہر ملک میں آباد اور موجود ہے ، مخصوص علاقوں میں بم باری کرنا اور یہ سمجھنا کہ اس سے امن کی ضمانت مل جائے گی، یہ بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟آج بھی تمام مسائل کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
    جو لوگ ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں میں چلے گئے ہیں اور انہوں نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ اب اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا ، انہیں کون سمجھائے گا کیونکہ وہ تو کسی قانون کو ماننے والے نہیں ہیں ۔ان کا مشن تو ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے ۔شدت پسندی کی اس لہر نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ طاقت کے ذریعے کوئی بڑے سے بڑا ملک بھی اپنے ملک میں امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔امریکہ ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر مغربی وایشیائی ممالک مل بیٹھ کر اپنی غلطیوں پر اظہار ِ افسوس کریں اور مسلمان قوم کو زندہ رہنے کا حق دیں۔مسلمانوں کے خلا ف نفرت انگیز رویے کی صورت بھی امن کی ضمانت نہیںدے سکتی ۔اگر کچھ ممالک کے سربراہوں کو اگر وائسرائے سمجھ کر دنیا کے بڑے ممالک پوری دنیا پرحکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں تو وہ غلط فہمی پر ہیں ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ ازخود نوٹس لے اور بین الاقوامی جھگڑوں کا پر امن اور انصاف پر مبنی فیصلہ کرے تاکہ مظلوم قوموں کی داد رسی ہو سکے اور ظالم قوتوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کی سفارش کرے اور اس پر عمل کروائے تب دنیائے امن کاخواب دیکھا جا سکتا ہے ۔ بین الاقوامی چوہدری اپنے گھروں تک محدو د ہو جائیں ، چھوٹے ممالک کو اسلحہ کی منڈیاں نہ بنائیں، چھوٹے ممالک کو اپنے فیصلے مل کر حل کرنے کا موقع دیں ، اور اسرائیل اور بھارت جیسے غنڈا گرد ی کے مرتکب ممالک کی پشت پناہی ترک کریں ۔اگر بنیادی مسائل اور معاملات کو یونہی پسِ پشت ڈالا جاتا رہا تو امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔
    یہ بات خوش آئند ہے کہ افغانستان اور پاکستان طالبان سے براہِ راست گفتگو کرنا چاہتے ہیں ،جس کا امریکہ کو بھی احساس ہو گیا ہے اور وہ طالبان کو امن کی میز پر لانا چاہتے ہیں، یہ طریقہ ہے جس سے شاندار مستقبل کا خواب دیکھا جا سکتا ہے ۔پوری دنیا اس وقت جس بے چینی میں مبتلا ہے وہ معاشی و معاشرتی ناہمواریوں کا نتیجہ ہے۔

;
دنیا ایک نئی آفت کی لپیٹ میں دنیا ایک نئی آفت کی لپیٹ میں Reviewed by Khushab News on 3:52:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.