”دائم اقبال دائم “ سے ”جمیل ناز “


   
 گزشتہ روز پنجاب کے مختلف ضلعوں کے بارے میں معلوماتی پروگرام شائع کرنے کے سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر منڈی بہاو¿الدین ضلع کو اس کے لیئے میں نے منتخب کیا۔ڈسٹرکٹ منڈی بہاو¿الدین اپنے محل وقوع اور گونا گوں خوبیوں کے سبب پاکستان بھرکے خوبصورت شہروں میں شمارہوتا ہے۔ڈسٹرکٹ منڈی بہاو¿الدین تاریخی اعتبار سے بھی منفرد احیثیت کا حامل ہے۔یہ شہر جہاں گونا گوں خوبیوں کی بدولت مشہور ہے وہاں ملک کے دو نامور شاعر دائم اقبال دائم اور احمد ندیم قاسمی کو پیرو مرشد ماننے والے جمیل ناز کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے بلکہ اگر یو ں کہا جائے کہ جمیل ناز اور دائم اقبال دائم کی وجہ سے ضلع کو خصوصی اہمیت حاصل ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔مرتضیٰ بیگ برلاس کے منڈی بہاوالدین میں اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی کے بعد ضلع بھر میں ادبی سرگرمیوں کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوا۔

     جناب جمیل ناز صاحب کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے ،وہ مرتضیٰ بیگ برلاس کے شاگرد ارجمند ہیں ۔ان کی چار کتابیں (شعری مجموعے )منظر عام پر آ چکے ہیں ، جن میں ،”خفا ہو کر نہیں رہنا“،”اشارہ نہیں کرنا“، ”میں کتنا خوبصورت ہوں“ اور ”مجھے مرنا نہیں آتا “خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔مرتضیٰ بیگ برلاس کی تعیناتی کے بعد منڈی بہاو¿الدین میں نگینہ سینما میں مرتضیٰ بیگ برلاس نے کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا،جس میں جناب احمد ندیم قاسمی صاحب، حفیظ جالندری صاحب، سبنم روبانی، جمیل یوسف،جمیل الدین حالی، جوگی جہلوی ،کلیم جلیسری ، احسان محسن، محسن نقوی، شریف کجائی، مصطفیٰ رائیں، شاکر نظامی ،تنویر سپرا اور دیگر بہت سے شعراءنے شرکت کی ۔جسٹس سرم لائی چوہان نے صدارت کے فرائض سر انجام دئیے۔اس کے بعد شعر و ادب کا یہ سلسلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہا اور مرتضی بیگ برلاس کے منڈی بہاو¿الدین سے چلے جانے کے باوجود ادبی سرگرمیاں مانند نہیں پڑیںاور چھوٹے بڑے درجنوں مشاعرے جاری رہے ۔ گولڈن جوبلی کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام جمیل ناز کے حصے میں آیا جو ان کے لیئے بہت بڑا اعزاز ہے، بعد میں آنے والوں میں پروفیسر اکبر غازی نے ایک تاریخی کتاب ترتیب دی ، ان کا بنیادی تعلق سیالکوٹ سے ہے ، مگر انہوں نے منڈی بہاو¿الدین کے تقریباً 400شاعروں پر مشتمل 600صفحات پر مبنی شعرا ءمنڈی بہاو¿الدین کے نام سے کتاب شائع کر دی ہے جس میں ضلع بھر کے چھوٹے بڑے تمام شاعروں کا تذکرہ موجودہے ۔ ان کی معاونت کرنے والوں میں جمیل ناز، گل شیر گل، ربط عثمانی کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔
     منڈی بہاو¿ الدین ضلع دو دریاو¿ں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے ۔زرخیز اراضی پر مشتمل ہے ۔اس ضلع میں رہنے والی قوموں میں گوندل ، وڑائچ، تارڑ، رانجھا، ساہی ، آرائیں، کمبوہ ، راجپوت ،گجر ، اعوان اور دیگر بہت سی قومیں موجود ہیں۔منڈی بہاو¿الدین ضلع 70کے قریب یونین کونسلوں پر مبنی ہے ۔اس ضلع میں دو (ایم۔این۔اے) اور چار (ایم ۔پی۔اے )موجود ہیں ۔ایم ۔ این۔ ایز میں چوہدری ناصر بوسال، ممتاز تار ڑ کا تعلق ن۔ لیگ سے ہے جبکہ صو بائی چاروں (ایم۔پی۔ایز) میں حمیدہ وحید الدین جو صوبائی منسٹر بھی ہیں کا تعلق بھی منڈی بہاو¿الدین کے چار (ایم۔ پی۔ ایز)میں شامل ہے۔علاوہ ازیں پی۔ ٹی۔ آئی کے عہدہ داروں میں طارق تارڑ،شکیل گلزار، طارق ساہی کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
     دیگر سیاستدانوں میں ظفر اﷲ تارڑ، آصف بھاگٹ، سید طارق ،چوہدری غلام حسین، نواز گوندل بوسانہ، نذر محمود گوندل، حاجی امتیاز، دیوان مشتاق ارشد کوکو کے نام شامل ہیں۔ تقریباً 1200کے قریب سرکار ی ادارے اور 5000کے قریب پرائیوٹ تعلیمی ادارے ، اس ضلع میںمختلف مقامات پر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس ضلع کی تین تحصیلیں منڈی بہاو¿الدین ، پھالیہ اور ملکوال پر مشتمل ہیں۔ڈسٹرکٹ کمپلیکس ضلع بھر کا خوبصورت کمپلیکس ہے۔جس میں مظفر خان سیال (ڈی۔سی۔او) افضال وڑائچ، چوہدری ظفر گوندل، عاطف وڑائچ، میاں ظہیر الدین ظہیرADCGاور اسسٹنٹ کمشنر کے دفاتر موجود ہیں۔ انتظامی امور کو بطریق احسن سرانجام دینے والے (ڈی۔سی۔اوز)میں حافظ محمد الیاس کمبوہ کا نام خصوصیت سے قابل ذکر ہے کیونکہ ان کے دور میں ضلع بھر کے تمام سکولوں ،ہسپتالوں اور دیگر محکموں کے دفاتر کے علاوہ سڑکوں پر دل کھول کر شجر کاری کا حکم جاری کیا گیا تھاجس کی وجہ سے ان کے دور میں تقریباً 300000درخت لگائے گئے اور تمام ضلع کو خوبصورت پودوں اور پھولوں کے ذریعے باغ و بھاڑ بنایا گیا ۔ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے ملحقہ نہروں کے کنارے پر انہوں نے ایک خوبصورت پارک تعمیر کیا جہاں پر آج بھی درجنوں افراد مستفید ہوتے ہیں ۔ ڈسٹرکٹ کمپلیکس منڈی بہاو¿الدین میں یوں تو انتظامی عہدوں پر اور بھی بہت سے افراد یک بعد دیگرے آئے مگر جن لوگوں نے اس ضلع کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا ، ان میں رانی حفضہ کنول، کاشف اعوان، آصف رضا، چوہدری رشید گجر، شہزادی آصفہ ،فریال فخر، راجہ عبدالحمید ، اورچوہدری محمد اسلم کمبوہ کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔
     منڈی بہاو¿الدین کے سیاستدانوں میں حمیدہ وحید الدین، دیوان مشتاق اور امتیاز گجر کے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں۔حمیدہ وحید الدین کا تعلق میاں وحید الدین صاحب سے ہے جو کئی بار (ایم ۔ پی۔ اے) منتخب ہوئے ہیں ۔چوہدری عارف گوندل بھی آج کل منڈی بہاو¿الدین میں رہائش پذیر ہیں ۔ حمیدہ وحید الدین شہر کی خوبصورتی کو بڑھانے اور اپنے والد کے دئیے گئے نعرے کی روشنی میں شہر کو پیرس بنانے میں مصروف ہیں ۔
     فریال فخر اور شہزادی آصفہ کو اختیارات دئیے گئے ہیں کہ وہ مہنگے داموں فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کاروائی کرے جو انتہائی ذمہ داری سے کی جا رہی ہے۔اس طرح ملکوال شہر میں آصف رضااور پھالیہ میں اسسٹنٹ کمشنر حالیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں۔
     محکمہ پویس کے جن افراد کو ان کی خصوصیت کی بنا کر پسند کیا گیا ہے ان میں دار علی خٹک اور راجہ بشارت (ڈی ۔ پی۔او) کے نام شامل ہیں جو انتہائی تن دہی کے ساتھ جرائم کے خاتمے کے لیئے سرگرداں رہے ہیں ۔علاوہ ازیں عنصر گوندل، چوہدری عزیز ، شفقت بٹ کا تعلق بھی محکمہ پولیس سے ہے جن کی کارکردگی قابل ستائش ہے ۔چوہدری ضمیر کمبوہ کی تعیناتی بھی تحصیل پھالیہ میں بطور (ڈپٹی ۔سپریٹنڈنٹ ۔ پولیس) کے طور پر عمل میں آئی اور انہوںنے اس ضلع کے لیئے خاطر خواہ کام کیا، مگر انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی بھی محکمہ پولیس میں ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جنہوں نے رشوت ستانی اور کرپشن کا بازار گرم رکھا ہوا ہے اور بدنام زمانہ لوگوں کی سرپرستی کر کے محکمہ کو بری طرح بدنام کر رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب سے ذاتی طورپردرخواست ہے کہ محکمہ پولیس کو کالی بھیڑوں سے ہمیشہ کے لیئے پاک کیا جائے اور اہم پوسٹوں پر جانبدار اور ذمہ دار افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ ضلع کو جرائم پیشہ لوگوں سے پاک کیا جا سکے۔
     ڈسٹرکٹ منڈی بہاو¿الدین انتہائی خوبصورت شہر ہے جو تقریباً 1500دیہات پر مشتمل ہے ، اس کا صدر گیٹ تاریخی حیثیت کا حامل ہے جو 1934ءمیں ملک کے نامور شاعر ”جوگی جہلوی “نے تعمیر کیا۔علاوہ ازیں اس ضلع میں انتہائی تاریخی مقامات بھی شامل ہیںجوپھالیہ،ھیلاں،مونگ، چیلیاں والا، تھیوااور بادشاہ پور میں موجود ہیں ۔راجہ پورس اور سکندر اعظم کی مشہور جنگ بھی دریائے جہلم کے کنارے مونگ کے علاقہ میں لڑی گئی تھی۔ اس طرح انگریزوں اور سکھوں کے درمیان لڑی گئی جنگ بھی چیلیاں والا کے مقام پرہوئی جہاں آج بھی سکھوں اور انگریزوں کی یادگاریں موجود ہیں ۔ملک کا انتہائی اہم بجلی گھر رسول میں واقع ہے جو منڈی بہاو¿الدین ضلع میں ہی ہے ۔اس طر ح رسول پر انگریزوں اور سکھوں کے درمیان ہونے والی جنگ کی گولیوں کے نشانات موجود تھے بعد ازیں یہ پیڑ تالاب کی نظر ہو گیا تھا ۔
     ٹیکنیکل کالج رسول کو ٹیکنیکل ایجو کیشن فراہم کرنے کے سلسلے میں خصوصیت اہمیت حاصل ہے ۔پاکستان ریلوے کا خوبصورت جنکشن ملکوال بھی اسی ضلع میں موجود ہے ۔ضلع بھر میں تعمیر چھوٹے بڑے پارکوں کی تعداد تقریباً 5کے لگ بھگ ہے، ان میں دامن ِخضر ایک ایسا پارک جسے حاجی محمد نواز گوندل نے خود تعمیر کیا اور یہ پارک دریائے جہلم کے جنوبی کنارے پر ملکوال سے تقریباً دو کلو میٹر شمال میں ہے ۔بعد ازاں حاجی محمد نواز گوندل ملک کے نامور شاعر کی ادبی خدمات کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے پارک جمیل ناز کے نام سے گوشہ ِ ادب آستانہِ خضر تعمیر کیا، یہاں پر شاعر موصوف جمیل ناز اتوارکے روز براجمان ہوتے ہیں اور گرد و نواح سے سینکڑوں افراد ہر اتوار ان کی دعاو¿ں سے مستفید ہوتے ہیں ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: خوشاب نیوز کا کالم نگار کے خیالات سے کلی یا جزوی اتفاق ضروری نہیں
(اشتہار)


;
”دائم اقبال دائم “ سے ”جمیل ناز “ ”دائم اقبال دائم “ سے ”جمیل ناز “ Reviewed by Khushab News on 9:14:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.