ٹیلکم پاوڈر سے خطرناک بیماری کا انکشاف





اشتہار

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)مریکی ریاست میسوری کی ایک عدالت نے جانسن اینڈ جانسن کمپنی کو، ا ±ن کے بے بی پاو ¿ڈر کے استعمال کے باعث مبینہ طو پر کینسر میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے والی خاتون کے اہلخانہ کو سات کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔گذشتہ سال بیضہ دانی کے سرطان کے باعث ہلاک ہونے والی 62 سالہ خاتون جیکی فاکس کا تعلق امریکی شہر الباما سے تھا۔ وہ کئی دہائیوں سے کمپنی کا پاو ¿ڈر استعمال کررہی تھی۔ا ±ن کے خاندانی وکیل کا موقف تھا کہ کمپنی کو ا ±ن کی مصنوعات کے استعمال سے سرطان کے خطرے کا علم تھا لیکن وہ صارفین کو اِس حوالے سے خبردار کرنے میں ناکام رہی۔جانسن اینڈ جانسن نے اِس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنے پر غور کررہے ہیں۔کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’صارف کی صحت اور حفاظت سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور ہمیں مقدمے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔‘’ہماری ہمدردیاں مدعی خاندان کے ساتھ ہیں، لیکن کمپنی سمجھتی ہے کہ کاسمیٹک پاو ¿ڈر کے محفوظ ہونے کے ثبوت کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔‘یہ پہلی بار ہے کہ تین ہفتے زیر سماعت رہنے والے اِس مقدمے کے آخر میں امریکی عدالت کی جانب سے پاو ¿ڈر سے ہونے والے مبینہ نقصان کے ازالے کا کہا گیا ہے۔اِس حوالے سے ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں اور وکلا کا کہنا ہے کہ اب ہزاروں مزید مقدمات درج ہوسکتے ہیں۔فاکس کی ہلاکت کا مقدمہ سننے والے عدالتی بینچ نے جانسن اینڈ جانسن کمپنی کے خلاف دھوکہ دہی، غفلت اور سازش میں ملوث ہونے کا فیصلہ سنانے سے قبل پانچ گھنٹوں تک غور و فکر کیا۔فیصلے میں کمپنی کو نقصان کی مد میں ایک کروڑ امریکی ڈالر اور تادیبی نقصانات کی مد میں چھ کروڑ 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔سٹینفورڈ یونیورسٹی میں قانون کی پروفیسر نورا فری مین کا کہنا ہے کہ ’یہ مقدمہ واضح طور پر ایک رجحان طے کرنے کا مقدمہ تھا۔ عدالت نے واضح ثبوت دیکھے ہیں اور اِن کو درست پایا ہے۔‘’عدالت کے جج کمپنی کے طرز عمل کی وجہ سے پریشان تھے۔‘ا ±ن کا کہنا ہے کہ ’اکثر بڑی بینچ کے فیصلے اپیل کے عمل میں واپس ہوجاتے ہیں اور میرے خیال میں اِس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
اشتہار
;
ٹیلکم پاوڈر سے خطرناک بیماری کا انکشاف ٹیلکم پاوڈر سے خطرناک بیماری کا انکشاف Reviewed by Khushab News on 7:46:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.