صوبائی محتسب پنجاب


حکومت نے کچھ عرصہ پہلے قومی سطح پر وفاقی محتسب اعلیٰ سیکریٹریٹ کا اجراءکیا جس کے بعد صوبہ پنجاب میں بھی صوبائی محتسب اعلیٰ کا سیکریٹریٹ قائم ہوا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب بھر میں صوبائی محتسب کے دفاترسے بہت کم وقت میں بہت اہم فیصلے ہوتے ہیں ۔جس سے صوبہ بھر میں عوام کو سستا انصاف فراہم کیا جا رہا ہے ۔حکومت کی اس کاوش کو جس نام سے بھی پکارا جائے یہ بات روزِ روشن کی طرح ایاںہے کہ صوبے بھر میں صوبائی محتسب کی عدالت سے اہم فیصلے ہوئے ہیں،جس سے ہزاروں افراد کو سستا انصاف فراہم کیا گیا ہے۔اس طرح کے اقدامات سے عوام کی دلجوئی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔ اگر ملک بھرمیں اسی طرح کے بے لوث ادارے قائم کر دئیے جائیں تو عوام کی مشکلات میں بلاشبہ کمی واقعہ ہوتی ہے
 ۔ صوبے میں تمام محکمے حکومت ِ پنجاب کے ماتحت ہیں لیکن کسی نہ کسی طرح کرپشن کی اطلاعات ہمہ وقت موصول ہوتی رہتی ہیں ، اس کی کیاوجوہات ہیں۔۔۔؟؟؟ کوئی بھی ہم میں سے اس سے بے خبر نہیں ہے اور خود حکومت بھی اس سے بخوبی واقف ہے لیکن اس کے باوجود کوئی بھی ایکشن دیکھنے میں نہیں آیا۔جب صوبائی محتسب کے دفتر کی طرف دیکھا جاتا ہے تو نا امید لوگوں کے لیئے وہاں پر امید کی کرن نظر آتی ہے ۔اگر کسی بھی شخص کو صوبے کے کسی بھی ادارے سے کوئی شکایت ہو تو براہِ راست صوبائی محتسب کے دفتر میں اس سلسلے میں درخواست دے سکتا ہے ۔ یہ بات قابل ِ ذکرہے کہ صوبے بھر میں صوبائی محتسب کے دفاتر تحصیل لیول تک کھل چکے ہیں۔گزشتہ دنوں منڈی بہاو ¿الدین جانے کا اتفاق ہوا تو D.C.Oآفس کے بالکل ساتھ صوبائی محتسب کے ضلعی لیول کا دفتر نظر آیا جہاں پر ”نواز بھٹی “ ایک سابق پولیس آفیسر تعینات ہیں جو صوبائی محتسب کی ضلعی آرگنائزیشن کے ہیڈہیں ۔مجھے اس بات کا اشتیاق ہوا کہ اب جب کہ صوبائی محتسب کے دفاتر ضلعی سطح پر بھی آ چکے ہیں تو لوگوں کو اپنی درخواستیں لاہور صوبائی محتسب کے دفتر میں دینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ وہ لوگ ضلعی صدر مقامات پر ہی اپنی درخواستیں دے سکیں گے ۔ جانکاری کے لیئے جب معلوم کیا تو پتا چلا کہ یہ دفاتر تو تحصیل لیول تک بن چکے ہیں جن کے مطابق ملکوال میں ”ساجدہ اقبال“ اور منڈی بہاو ¿الدین میں ”عمبرین مرزا “ آرگنائزر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور ان کی کار کر دگی انتہائی تسلی بخش ہے ۔صوبائی سطح کے محکموں کے خلاف اگر کسی کو کوئی شکایت ہو تو وہ اپنی اپنی تحصیلوں میں متعلقہ محکموں کے خلاف درخواستیں تحصیلی سطح پر جمع کرا سکتے ہیں ،جہاں سے وہ درخواستیں ضلعی صدر مقام پر پہنچا دی جاتی ہیں اور وہاں پر مناسب کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ صوبائی محتسب کے یہ ذیلی ادارے پورے پنجاب میں ہر ضلعی اور تحصیلی صدر مقام پر موجود ہیں جہاں پر درخواست دہندہ کی عرض داشت کے مطابق کارروائی شروع کر دی جاتی ہے اور یہ امر قابل ِ ذکر اور حوصلہ افزا ءہے کہ وہاں پر بڑی سرعت کے ساتھ فیصلے ہوتے ہیں اور عوام کو فوری اور سستا انصاف میسر آتا ہے ۔اگر کوئی فیصلہ کسی وجہ سے درخواست دہندہ کے خلاف ہو جائے تو وہ اس بارے میں گورنر پنجاب سے اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے،عموماً یہ فیصلے تین ماہ کی محدود مدت میں کر دئیے جاتے ہیں جس سے عوام کا زیادہ وقت صرف نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قسم کے بھاری اخراجات انہیں برداشت کرنا پڑتے ہیں ۔ درخواست دائر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سادہ کاغذ پرمتعلقہ محکمے کے خلاف درخواست لکھی جاتی ہے ، ساتھ میں ایک بیان ِ حلفی اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ لف کی جاتی ہے ۔وفاقی حکومت کے ماتحت محکموں کی درخواست صرف وفاقی محتسب کو دی جا سکتی ہے ایسی درخواست صوبائی محتسب کو نہیں دی جا سکتی اور اس میں جو تحریر لکھی گئی ہو وہ درخواست دہندہ کے مطابق درست ہے جس پر کارروائی کی جاتی ہے ۔بیان ِ حلفی میں اپنے محکموں کے خلاف درخواست دینے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے جس کا یہ مطلب لیا جانا بہتر ہے کہ اگر کسی ملازم کو اپنے محکمے کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اپنے محکمہ کے متعلقہ آفیسر کے بارے میں درخواست دینا ضروری ہے تاکہ اس کے مسئلے کا حل محکمانہ قوائد و ضوابط کے مطابق محکمہ کے اندرہی نکالا جائے۔ حکومت کی اس کاوش کی جتنی تائید کی جائے وہ کم ہے کیونکہ پنجاب اور اس کے ضلعی سطح کے دفاتر میں ہونے والی کارروائی کے دوران درخواست دہندہ کو صوبائی محتسب کے متعلقہ دفتر میںبہت کم جانا پڑتا ہے ۔جس کی وجہ سے درخواست دہندہ غیر ضروری اخراجات سے محفوظ رہتا ہے اور اسے سردی او رگرمی کی صعوبتیں برداشت نہیں کرنا پڑتیں لیکن ہر تاریخ کی کارروائی کے متعلق درخواست دہندہ کو باخبر بھی رکھا جاتا ہے اور اگر ضروری ہوتو جواب الجواب کے لیئے درخواست دہندہ سے مزید تحریر ی بیان لے لیا جاتا ہے ۔یہ بیان متعلقہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے بعد درخواست کے متعلق دئیے گئے بیان کی روشنی میں دیا جاتا ہے اور اس کے بعد متعلقہ کیس کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور کمی بیشی کی صورت میں صوبائی گورنر کو درخواست دینے کا کہا جاتا ہے۔
۔


اشتہار
;
صوبائی محتسب پنجاب صوبائی محتسب پنجاب Reviewed by Khushab News on 4:23:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.