مرد کا بچہ

قلم کمان۔۔۔ حامد میر

’’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف پاکستان سے بھاگ گئے، انہوں نے نواز شریف کے ساتھ خفیہ ڈیل کرلی اور اب وہ واپس نہیں آئیں گے تو اپنی اس غلط فہمی کو دور کرلیجئے وہ پاکستان واپس ضرور آئیں گے لیکن کسی اور کی نہیں بلکہ مناسب وقت پر اپنی مرضی سے واپس آئیں گے۔‘‘ یہ الفاظ پرویز مشرف کے ایک قریبی دوست کے تھے۔ دو دن پہلے دبئی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی کافی شاپ میں ان سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے علیحدہ سے ایک تفصیلی ملاقات پر اصرار کیا۔ اگلے دن لنچ پر ملاقات طے ہوئی۔ ان صاحب کا سیاست سے بظاہر کوئی تعلق نہیں لیکن انہوں نے تمام وقت سیاست پر گفتگو کی جس میں وہ بار بار مشرف صاحب کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے کہ کل جنرل صاحب کہہ رہے تھے کہ میں اپنے لوگوں کو چھوڑ کر کبھی نہیں بھاگوں گا، آج صبح جنرل صاحب کہہ رہے تھے کہ نواز شریف نے پاکستان کو برباد کر دیا ہے میں اپنے ملک کو برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ جنرل صاحب یہ کہہ رہے تھے۔ جنرل صاحب وہ کہہ رہے تھے۔ مختصراً یہ کہ دبئی پہنچنے کے بعد سے مشرف صاحب اور ان کے ساتھیوں کی ہنسی نہیں رک رہی۔ ان کا خیال ہے کہ نواز شریف نے ایک سابق آرمی چیف کو طبی وجوہات کی بنیادوں پر پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دے کر فوج کو خوش کردیا ہے او ر وہ باقی دو سال آرام سے حکومت کریںگے لیکن مشرف صاحب یہ عزم کر چکے ہیں وہ نواز شریف کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ پاکستانی میڈیا میں بہت سے مبصرین نے سابق صدر کی دبئی روانگی کو آئین اور قانون کے جنازے میں تبدیل کرکے صف ماتم بچھا نے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ کمانڈو جرنیل اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کئے بغیر طاقتور اداروں کی مدد سے بھاگ گیا لیکن جب یہی کمانڈو جرنیل یہ اعلان کرے گا کہ اوئے نواز شریف سن لے!میں واپس آ رہا ہوں تو نے مجھے جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دے لیکن تو مجھے واپس آنے سے نہیں روک سکتا، تو پھر سوچئے کہ کیا ہوگا؟ پرویز مشرف کی مقبولیت آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگے گی اور جب وہ پاکستان واپس پہنچیں گے تو ان کا استقبال ایک ہیرو کی طرح ہوگا۔ پرویز مشرف کے غیر سیاسی دوست کی یہ سیاسی گفتگو سن کر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال میں پاکستانی عوام کو آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ سے یہ پوچھنے کا کوئی حق نہیں کہ آپ تو بیماری کا بہانہ بنا کر پاکستان سے گئے تھے لیکن دبئی پہنچ کر آپ نے سیاسی سرگرمیاں شروع کردیں، ذرا یہ تو بتایئے کہ آپ کو وہ کونسی بیماری لاحق تھی جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا؟ یہ سن کر پرویز مشرف کے دوست نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ جنرل صاحب اداکار نہیں ہیں، انہوں نے بیماری کا ڈرامہ نہیں رچایا بلکہ وہ واقعی بیمار ہیں اور ان کا باقاعدہ علاج شروع بھی ہو چکا ہے لیکن صحت یاب ہونے کے بعد وہ پاکستان واپس آئیں گےاور اپنے خلاف مقدمات کا سامنا بھی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل صاحب پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ آئین سے غداری کا مقدمہ کم از کم چھ سات سال تک چلے گا، اکبر بگٹی، بے نظیر بھٹو، اور عبدالرشید غازی کے قتل کا مقدمہ ختم ہو جائے گا جس کے بعد جنرل صاحب کی سیاسی ساکھ مزید بہتر ہو جائے گی اور وہ حکومت کی تبدیلی کی بجائے نظام کی تبدیلی کے لئے تحریک چلائیں گے۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ تمام مقدمات ایم کیو ایم کے سینیٹر فروغ نسیم اور سینیٹر محمد علی سیف کی مدد سے ختم کرائے جائیں گے؟ جواب آیا کہ مشرف صاحب کے وکلا کی ٹیم میں یہ صاحبان بھی شامل ہیں ان دونوں کی قانونی خدمات کا ان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ دونوں جنرل صاحب اور ایم کیو ایم میں پل بنیں گے۔ میں نے پوچھا کہ مان لیا مشرف صاحب کو کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوگی لیکن اگر نیب نے ان سے پوچھا کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے یہ بتایئے کہ آپ کے دس سے زیادہ غیر ملکی بینک اکائونٹوں میں اربوں روپے کہاں سے آئے تو پھر کیا ہوگا؟ جواب میں میرے میزبان نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور کہا کہ اول تو ایسا نہیں ہوگا اگر ہوگیا تو ہمارے پاس معقول جواب موجود ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ کبھی آپ کو یہ احساس ہوا کہ قبائلی علاقوں میں آپرشن ضرب عضب یہ کہہ کر شروع کیا گیا کہ جو لوگ پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانتے ان کا احتساب ضروری ہے لیکن آپ انتہائی سنگین مقدمات کو بیچ میں چھوڑ کر پہلے پاکستان سے چلے گئے پھر آپ واپس آنے کا سوچ رہے ہیں اور آپ کو ابھی سے یقین ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف تمام مقدمات ختم بھی ہو جائیں گے فرض کریں کہ یہ مقدمات ختم ہو جاتے ہیں تو کیا پاکستان میں آئین و قانون، منتخب حکومت، پارلیمنٹ، عدالتیں اور دیگر ادارے مذاق نہیں بن جائیںگے اور ریاست کے دشمن غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ مضبوط نہیں ہوںگے؟آپ نے 1973ء کے آئین کی دفعہ چھ کو تو غیر موثر کردیا ہے اگر پورے آئین کا مذاق بن گیا تو پھر پاکستان کا کیا بنے گا؟ میر ی جلی کٹی باتوں پر مشرف صاحب کے دوست مسکرائے اور کہنے لگے کہ آپ کی باتوں میں کچھ وزن تو موجود ہے لیکن پاکستان قائم رہنا چاہئے آئین تو آنی جانی شے ہے آئین تو نیا بھی بن سکتا ہے لیکن ملک روز روز نہیں بنتے اس لئے ملکی سلامتی زیادہ اہم ہے۔ یہ سن کر میں خاموش ہوگیا۔ وہ بولے چلے جا رہے تھے۔ میں ان کے سامنے بیٹھا سر ہلائے جا رہا تھا لیکن ان کی باتیں سننے کی بجائے سوچ رہا تھا کہ 1973ء میں اپوزیشن لیڈر خان عبدالولی خان، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، مولانا مفتی محمود، میر غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل اور دیگر نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود ایک نئے آئین کو تسلیم کرلیا تھا لیکن جو لوگ آج کل ایک نئے آئین اور نئے نظام کی باتیں کر رہے ہیں وہ آئین ساز اسمبلی کہاں سے لائیں گے اور اسفندیار ولی سے لے کر محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو، اختر مینگل، اور دیگر قوم پرستوں سے آئین پر اتفاق کیسے کرائیں گے؟ کیا مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق بھی آسانی سے مان جائیں گے؟ مشرف صاحب واپس آ جائیںگے تو کیا آصف علی زرداری کبھی واپس نہیں آئیں گے؟ نواز شریف کدھر جائیں گے؟ پرویز مشرف کے دوست نے میرے دل و دماغ میں جاری کشمکش اور اضطراب کے آثار میرے چہرے پر دیکھ کر کہا کہ آپ سے صرف یہ وعدہ لینا ہے کہ جب پرویز مشرف پاکستان واپس آئیں تو آپ یہ ضرور کہیں گے کہ مشرف بھاگا نہیں، مرد کا بچہ تھا اس لئے واپس آگیا۔ یہ سن کر میں مسکرادیا اپنے میزبان سے اجازت طلب کی اور واپس چلا آیا۔
اشتہار

;
مرد کا بچہ مرد کا بچہ Reviewed by Khushab News on 10:24:00 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.