‘‘کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا’’


   برملا۔۔۔۔  نصرت جاوید

ڈرامے کی صنف کو جلسے اور جلوسوں کی طرح کسی سیاسی تحریک کا بھرپور اظہار بنانے کے لئے جو ادیب ساری عمر
 جدوجہد میں مبتلا رہا اس کا نام ہے Bertolt Brecht۔ تعلق اس کا جرمنی سے تھا۔ ایک ایسا ملک جو دُنیا میں ڈرامے کے بجائے موسیقی اور فلسفیانہ سوچ بچار اور اختراع کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ وہاں کے سیاسی اُفق پر ہٹلر کے نمودار ہوتے ہی بریخت نے مگر بھانپ لیا کہ اس کے معاشرے میں ایک ایسا کردار پیدا ہوگیا ہے جو اپنے ملک ہی کو نہیں پوری دُنیا کو بربادی کی سمت دھکیل دے گا۔ ہٹلر کے پھیلائے جنون کی راہ روکنے کے لئے بریخت نے تھیٹر کے ہتھیار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں اصل رہ نمائی اس نے ان فن کاروں کے ہنر اور روایات میں دریافت کی جو ہمارے ہاں کئی صدیوں سے ’’بھانڈوں‘‘ نے اپنا رکھی ہیں۔

 ہٹلر کے عروج کی وجوہات ڈھونڈتے ہوئے بریخت نے یہ بھی دریافت کیا کہ آمرانہ سوچ والے ’’دیدہ ور‘‘ ایک دن اچانک نمودار نہیں ہوا کرتے۔ دُنیا کے ہر سماج میں کہیں نہ کہیں ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں کسی ’’مسیحا‘‘ کا بے تابی سے انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ کسی ’’مسیحا‘‘ کا انتظار مگر اس بات کی علامت بھی ہوتا ہے کہ اس معاشرے کے شہریوں نے اپنے فرائض ادا کرنا اور حقوق کے لئے لڑنا چھوڑ دیا ہے۔ اپنے حقوق وفرائض سے یہ بے اعتنائی درحقیقت کسی ’’سورما‘‘ کے انتظار کا جواز بن جاتی ہے۔ اسی بات پر زور دینے کے لئے بریخت کا ایک کردار چیخ پڑا کہ :’’حیف ہے اس قوم پر جو کسی ہیرو کی منتظر رہتی ہے‘‘۔


 کسی مسیحا کے انتظار کی بھد جدید دور کے ایک اور ڈرامہ نگار سمیوئیل بیکٹ نے بھی اڑائی تھی۔
 Waiting for Godotاس کا شہرہ آفاق ڈرامہ ہے۔ جس میں Godotکا انتظار کرتے کرداروں کی بے بسی پر پہلے ہنسی، پھر رحم اور بالآخر اس سے
کراہت آنا شروع ہوجاتی ہے۔

بریخت اور بیکٹ جیسے لکھاریوں کی بے پناہ کوششوں کے باوجود انسانوں کی اکثریت آج بھی کسی ’’مسیحا‘‘ کا انتظار کرنے سے باز نہیں آرہی۔ ہم پاکستانیوں کا ویسے ہی بریخت یا بیکٹ جیسے تخلیق کاروں سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ وسطی ایشیاء سے مسلسل آتے دلاوروں نے بلکہ ہمیں وقتا فوقتاََ نمودار ہونے والے ’’مسیحائوں‘‘ کا دیوانہ بنائے رکھا۔ ہمارے تخلیق کاروں میں غالبؔ ہی شاید وہ واحد شاعر تھا جس نے ’’تیزرو‘‘ افراد کے پیچھے کئی بار چلنے کے بعد اعتراف کرلیا کہ وہ ’’رہبر‘‘ کو ڈھونڈ ہی نہیں پایا۔

میری بدقسمتی کہ اوائل عمری ہی میں بریخت اور بیکٹ کو ضرورت سے کہیں زیادہ پڑھ لیا۔ 1985ء کے بعد سے اسلام آباد کے ایوان ہائے اقتدار میں ہوئی وارداتوں کو بہت قریب سے دیکھ کر رپورٹرنگ کرتے ہوئے پنجابی کے اس محاورے پر بھی ایمان پختہ ہوگیا جو کسی بھی پرندے کی دُم اٹھاکر ایک ہی نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ اس محاورے کو نقل نہیں کررہا تو صرف اس وجہ سے کہ آج کے دور میں اسے حقوقِ نسواں کے چیمپئن Politically Incorrectٹھہرا کر میری مذمت کرنا شروع ہوجائیں گے اور مجھے اپنی مذمت سے اب خوف آنا شروع ہوگیا ہے۔

 بریخت اور بیکٹ کو خوب پڑھنے کے باوجود البتہ میں خود بھی اس وقت بھٹک گیا جب ہمارے سیاسی اُفق پر اپریل 2007ء میں افتخار چودھری کی صورت ایک ’’مسیحا‘‘ نمودار ہوتا نظر آیا۔ بلوچستان کے کوٹے سے سپریم کورٹ تک پہنچے اس پنجابی راجپوت کے ’’مسیحا‘‘ بن جانے پر اگرچہ مجھے حیرت ہی رہی۔ میں شاید ان چند رپورٹروں میں سے ایک تھا جسے پوری خبر تھی کہ اس اصول پسند اور پاک باز دکھتے انسان نے کس طرح وفاقی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ اس کے فرزندِ ہونہار کو جس نے تعلیم تو ڈاکٹری کی حاصل کی تھی مگر اسے FIAمیں Inductکرلے اور بعدازاں اسی فرزند کا نام اُن کورسز میں بھی ڈالے جو امریکی امداد سے ہمارے ہاں دہشت گردی جیسے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے متعارف کروائے گئے تھے۔ افتخار چودھری کے تاریخی ’’انکار‘‘ نے مگر اس کے سب گناہ دھو ڈالے۔ میں بھی اس کے بے شمار جاں نثاروں کی طرح ’’ریاست ہوگی ماںکے جیسی‘‘ والے لمحے کا انتظار کرنا شروع ہوگیا۔

یہ حقیقت دریافت کرنے میں بہت دیر لگی کہ چیف اور اس کے جانثاروں کی جانب سے برپا کی گئی ہلچل فقط ایک وقتی ابال تھا۔ افتخار چودھری اس ابال کی بدولت بحال ہوا تو عوامی پذیرائی کی تمام تر قوت کے باوجود جنرل مشرف کو وردی سمیت عام انتخابات سے قبل اس ملک کا ایک بارپھر ’’آئینی صدر‘‘ منتخب ہونے سے روک نہ پایا۔ اسے اس عمل میں آسانی فراہم کرنے کے لئے اس نے بلکہ ایک اہم قانونی نقطہ پر اپنا فیصلہ سنانے کے بجائے ’’محفوظ‘‘ رکھا۔ مناسب وقت پر ایک واضح فیصلہ نہ دیتے ہوئے اس نے جنرل مشرف کے سرپر آئینی تلوار کو مسلط رکھنا چاہا۔ کمانڈو گومگوکی اس حالت کا فائدہ اٹھاکر ایمرجنسی لگاکر پورے آئین کو دوبارہ معطل کرنے پر مجبور ہوگیا۔

 کھلے دل کے ساتھ ماضی کا جائزہ لیں تو آئین کی اس معطلی نے سیاسی عمل میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں ڈالی تھی۔ مشرف نے اس کے بعد وردی اتار کر فوج کی کمان جنرل کیانی کے سپرد کردی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے باوجود نسبتاََ آزاد اور شفاف انتخابات ہوئے۔ یہ انتخابات نہ ہوئے ہوتے تو نئی منتخب حکومت جنرل مشرف کو ایوان صدر سے رخصت ہونے پر مجبور کرہی نہیں سکتی تھی۔ مشرف سے نجات کا ذریعہ ایک حوالے سے حتمی طورپر روایتی سیاسی عمل ہی بنا۔ چیف کے بے شمار جاں نثار اس ضمن میں کوئی ٹھوس کردار ہرگز ادا نہ کر پائے۔

ٹھوس سیاسی حقائق کی روشنی میں لہذا ٹھنڈے انداز میں سوچا جائے تو نواز شریف کی تیسری حکومت کے پاس جنرل مشرف کو ایمرجنسی لگانے کے الزام میں عدالتوں کے روبرو لانے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ افتخار چودھری نے مگر اس حکومت کو اپنی روایتی دھونس سے اس امرپر مجبور کیا۔ نواز شریف نے مجبور ہوکر قدم بڑھایا تو چیف کے بے شمار جاں نثار معاونت کو ہرگز موجود نہ تھے۔ ٹیلی وژن سکرینوں پر شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک فروغ پارسائی اور سیاپا فروشی کے تماشے لگانے والے بھی ’’جینا ہوگا مرنا ہوگا۔دھرنا ہوگا‘‘ والوں کے ساتھ مل کر ’’گو نواز گو‘‘ کی فضاء بنانے میں مصروف ہوگئے۔ ایسا کرتے ہوئے ہم میں سے کسی کو بھی آئین کی بالادستی وغیرہ یاد نہ آئی اور آج جب پرویز مشرف ایک عمومی طیارے کی فرسٹ کلاس میں بیٹھ کر دوبئی پہنچنے کے بعد سگار سلگاکر اپنے پھیپھڑوںمیں ضرورت سے زیادہ جمع ہوئی آکسیجن کو جلارہے ہیں تو ہم چراغ پا ہوکر چودھری نثار اور پرویز رشید کو خبطی ساسوں کی طرح کوسنے دینے میں مصروف ہوگئے ہیں۔

ٹی وی سکرینوں کی پرویز مشرف کی بیماری کے بہانے اس ملک سے چلے جانے کے بعد جاری سینہ کوبی کے شوروغوغا میں اگر کوئی شخص مستقل خاموش ہے تو نام ہے اس کا افتخار چودھری۔ سنا ہے موصوف کی اب ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بھی ہے۔ اس جماعت کا پرویز مشرف کی رخصت اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کا کردار کے بارے میں کیا مؤقف ہے؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔
اشتہار

;
‘‘کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا’’    ‘‘کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا’’ Reviewed by Khushab News on 1:48:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.