شفقت امانت علی ، قومی ترانہ اور ہمارے رویے

ذراہٹ کے  ۔۔۔۔۔   یاسر پیر زادہ

اللہ کو جان دینی ہے، جیسی آن بان پاکستان کے قومی ترانے کی ہے ویسی کسی اور دیس کی نہیں۔ ممکن ہے آپ کہیں کہ اس بات میں وطن پرستی کا تعصب غالب ہے، ایسا ہی ہو گا مگر جب بھی میں اپنا قومی ترانہ سنتا ہوں مجھ پر ایک عجیب سا وجد طاری ہو جاتا ہے، ایک طرف تو اس کی دھن کا تاثر بے حد بارعب ہے جسے سن کر پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے اور دوسری طرف اس کی پرشکوہ شاعری دل و دماغ کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے، ترانے کی دھن اور شاعری میں جو شان و شوکت اور دبدبہ ہے اس نے ہمارے ترانے کو امر کر دیا ہے۔ شکر ہے کہ احمد غلام علی چاگلہ اور حفیظ جالندھری کو اس ترانے کی تخلیق پر آسکر نہیں ملا ورنہ اب تک ہم ان حضرات کی مٹی بھی پلید کر چکے ہوتے۔ پاکستان کے قومی ترانے سے میرا ایک رومانس ہے، میں جب بھی اس ملک کے مستقبل کے حوالے سے پژمردگی کا شکار ہونے لگتا ہوں تو قومی ترانے کی دھن لگا کر کافی دیر تک سنتا رہتا ہوں، اس کی گھن گرج تمام وسوسوں کو پگھلا کر امید کا تازہ جہان پیدا کردیتی ہے، مگر میرا یہ رومانس چار روز قبل اس وقت چکنا چور ہو گیا جب کولکتہ کے ایڈن گارڈن میں پاکستان اور بھارت کے میچ سے قبل شفقت امانت علی خان نے پاکستان کا قومی ترانہ گایا۔ میں نے اپنے قومی ترانے کی اس قسم کی درگت پہلے کبھی بنتے نہیں دیکھی۔ بے شک شفقت امانت علی بہت بڑے گلوکار ہیں، ان کی آواز میں جادو ہے، موسیقی کے جس خاندان سے ان کا تعلق ہے ان کے آگے سُر ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، مگر اس دن انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے بُری پرفارمنس دی۔ پوری دنیا میں ایک ارب لوگ انہیں لائیو دیکھ رہے تھے، بھارت کی زمین پر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جانا تھا مگر شفقت امانت علی نے لٹیا ہی ڈبو دی، انہوں نے اس قدر ڈھیلے ڈھالے اور توانائی سے عاری انداز میں قومی ترانہ گایا جیسے انہیں کسی نے جرمانے کے طور پر گانے کے لئے کہا ہو، موصوف کی شکل دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے انہیں کوئی بہت نا خوشگوار فریضہ انجام دینا پڑ رہا ہو، جوش و جذبے سے خالی آواز اور ایسا سپاٹ چہرہ گویا کسی نے کنپٹی پر پستول رکھ کر ترانہ گوایا ہو۔ بات یہیں تک رہتی تو شاید کچھ عزت بچ جاتی مگر موصوف کی زبان دو جگہ لڑکھڑا گئی اور وہ ترانے کے الفاظ بھول گئے۔ (’’متوا‘‘ گانے کو کہا جاتا تو یقیناً نہ بھولتے)۔ ایسا نہیں ہے کہ گلوکار بالکل ایکسپریشن لیس چہرہ بنا کر گاتے ہیں، آپ نے انہیں اکثر موسیقی کے پروگراموں میں گاتے دیکھا ہوگا، اس وقت ان کے رگ و پے میں بجلیاں دوڑ رہی ہوتی ہیں، ہاں یہ درست ہے کہ ترانہ گاتے ہوئے آپ کو سنجیدہ ہی رہنا چاہئے مگر شفقت کے چہرے پر جو تاثرات تھے اور جس طرح وہ اس کے الفاظ بھول گئے اسے دیکھ کر یقین ہو گیا کہ انہوں نے اس کی ریہرسل کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ہو گی۔ مجھے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ دوسری طرف بھارت کا قومی ترانہ امیتابھ بچن نے کس گرجدار آواز کے ساتھ گایا جبکہ وہ کوئی پروفیشنل گائیک بھی نہیں، گو کہ اب کہا جا رہا کہ انہوں نے بھی گاتے ہوئے ترانے میں کچھ غلطی کی مگر کم ازکم ان کی پاٹ دار آواز نے ترانے کے ساتھ انصاف تو کیا جو ہماراا سٹار نہیں کر سکا۔ ذاتی طور پر میچ ہارنے کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا دکھ ترانے کی ہار کا ہوا۔ شفقت نے اس بات پر معافی بھی مانگی ہے مگر معذرت کا انداز ایسا ہے کہ میری غلطی تو نہیں تھی لیکن پھر بھی ’’آئی اپالوجائز!‘‘ اس واقعہ سے ہماری قوم کے مزاج کے تین پہلو آشکار ہوتے ہیں۔ ہمارا پہلا المیہ یہ ہے کہ ’’ٹیلنٹ بڑا ہے‘‘ کے نعرے نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہم گاڈ گفٹڈ قوم ہیں اور ہم میں خدا نے وہ صلاحیت بھر دی ہے جو کسی دوسری قوم میں نہیں لہٰذا ہم اپنے اس ٹیلنٹ کی بدولت ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں، ہمیں محنت کی چنداں ضرورت نہیں۔ قدم قدم پر اپنے اس رویے کے ہاتھوں ہم رسوا ہوتے ہیں مگر خود کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ مثلاً کیا ہم یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم ویسے ہی محنت کرتی ہے جیسے آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ کی ٹیمیں کرتی ہیں؟ اگر اس بات کا کھوج لگانا ہو تو کوئی بھی ایسا میچ نکال کر دیکھ لیں جس میں پاکستانی اور آسٹریلوی کھلاڑی نے سنچری اسکور کی ہو، ہمارا بیٹسمین سو کرنے کے بعد پہلا رن لیتے ہوئے ہانپنے لگتا ہے جبکہ آسٹریلوی کھلاڑی دو سو کرنے کے بعد بھی پہلا رن یوں لیتا ہے گویا ابھی کریز پر آیا ہو۔ کرکٹ کو چھوڑیں، کسی ایوارڈ کی تقریب دیکھ لیں، ہمارے بے حد ٹیلنٹڈ اداکار جب ایسی کسی تقریب میں بطور میزبان کسی کو ایوارڈ دینے کے لئے مدعو کرتے ہیں تو چار جملے زبانی یاد نہیں کرکے آتے۔ ایسی ہی ایک تقریب میں عظمیٰ گیلانی جیسی اداکارہ نے کسی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینا تھا، موصوفہ نے کاغذ ہاتھ میں پکڑا، عینک درست کی اور پھر اٹک اٹک کر وہ پیرا گراف پڑھا جو انہیں لکھ کر دیا گیا تھا، صاف نظر آ رہا تھا کہ انہوں نے یہ تحریر اس سے پہلے پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی، زبانی یاد کرنا تو دور کی بات۔ دوسری طرف غیر ملکی تقاریب میں سپراسٹار بھی پوری تیاری کے ساتھ اسٹیج پر آتے ہیں اور انتھک محنت کے ساتھ گھنٹوں پرفارم کرتے ہیں۔ ہمارا دوسرا المیہ یہ ہے کہ ہم غلطی پر معافی مانگنے کو ہتک سمجھتے ہیں۔ اس رویے کا مظاہرہ ہم آئے روز سڑکوں پر دیکھتے ہیں، ٹریفک قوانین کی جانتے بوجھتے بے شرمی سے خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر ہماری سواری کسی سے ٹکرا جائے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم غلطی مان کر معذرت طلب کریں۔ شفقت امانت علی نے بھی اسی رویے کا مظاہرہ کیا، پہلے تو وہ اپنی غلطی ماننے پر تیار ہی نہیں ہوئے مگر جب سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلی تو انہوں نے بے دلی سے یوں معافی مانگی جیسے مائیک گیٹنگ نے ایمپائر شکور رانا سے مانگی تھی۔ ہمارے مزاج کا تیسرا پہلو جو اس پورے واقعہ میں سامنے آیا ہے وہ خاصا دلچسپ ہے۔ جس طریقے سے پاکستانیوں نے قومی ترانے کی بے عزتی پر اپنا غم و غصے پر مبنی ردعمل ظاہر کیا ہے اسے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی ملک کے بارے میں بہت حساس ہے، یہ اس جذبے کا بھی اظہار ہے جس کے تحت ہم ملک کی عزت و توقیر کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں، مگر اس رویے کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ ہمارا یہ ولولہ صرف لفاظی تک محدود رہتا ہے اور عمل میں نہیں ڈھلتا۔ یقیناً بہت سے لوگ حقیقی معنوں میں ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں ادراک نہیں ہو پاتا کہ کس طرح وہ اپنے جذبات کو عمل میں ڈھالیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ڈسپلن پیدا ہو مگر خود سے پہل نہیں کرتے اور ایک دوسرے کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے رہتے ہیں کہ جب کوئی قطار بنائے گا تو ہم بھی اس میں کھڑے ہو جائیں گے۔ غلطی صرف شفقت امانت علی کی نہیں، ہم سب کی ہے، بطور قوم ہم محنت کرنا بھول چکے ہیں اور غلطیوں سے سیکھنے کی ہمیں عادت نہیں ہے۔ ایڈن گارڈن میں کرکٹ ٹیم کو شکست نہیں ہوئی بلکہ ہمارے رویوں کی ہار ہوئی ہے۔
اشتہار

;
شفقت امانت علی ، قومی ترانہ اور ہمارے رویے  شفقت امانت علی ، قومی ترانہ اور ہمارے رویے Reviewed by Khushab News on 5:20:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.