مسلمانوں پر ایک اور حملہ

قلم کمان۔۔۔ حامد میر

’’یورپ کا دل لہولہان ہے ۔بلجیئم کا دارالحکومت برسلز صرف یورپی یونین کا نہیں بلکہ نیٹو کا بھی ہیڈکوارٹر ہے لہٰذا برسلز میں خودکش حملوں کو یورپ کے دل پر حملہ قرار دیا جارہاہے۔ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے جس کے بعد سے مغربی میڈیا میں کچھ عناصر اسلام اور مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں حالانکہ داعش نے پچھلے دنوں ترکی میں بھی کئی بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔داعش نے غیر مسلموں سے زیادہ مسلمانوں کا خون بہایا ہے اور برسلز میں بم دھماکوں کے ذریعے یورپ اور امریکہ سمیت ان تمام ممالک میں مسلمانوں کیلئے مسائل بڑھا دیئے ہیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں ۔22مارچ کی صبح برسلز میں خودکش حملے اور بم دھماکے ہوئے اور اسی شام سی این این پر معروف امریکی صحافی وولف بلیٹزرسابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے یہ پوچھ رہے تھے کہ آپ ریڈیکل اسلام کی مذمت کریں گی یا نہیں اور ہیلری کہہ رہی تھیں کہ وہ ریڈیکل اسلام کی نہیں بلکہ جہادی سوچ کی مذمت کرتی ہیں ۔مغربی میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شروع ہونے والی نئی مہم کو دیکھ کر یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ داعش نے برسلز میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرکے دراصل اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں ۔ایک طرف شام کے لاکھوں پناہ گزین مختلف یورپی ممالک سے امداد کے طلب گار ہیں دوسری طرف یورپ کے دل پر حملہ کرکے مسلمانوں کے دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا گیا کہ انہیں پناہ دو نہ انکی مدد کرو ورنہ یہ کل کو ہم پر حملہ کر دیں گے۔ 13نومبر 2015ء کو پیرس اور 22مارچ 2016ء کو برسلز میں ہونے والے حملوں میں کچھ ایسے مسلمان نوجوان ملوث ہیں جن کے پاس فرانس کی شہریت ہے لیکن ان کے خاندانوں کا تعلق الجزائر، مراکش، تیونس اور کچھ افریقی ممالک سےہے۔ پیرس حملوں کا ایک ملزم صلاح عبدالسلام کچھ دن پہلے گرفتار ہوا تھا اور شاید اسی لئے برسلز میں حملوں کو اسکی گرفتاری کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے ۔صلاح عبدالسلام کے والدین کا تعلق الجزائر سے ہے لیکن وہ بلجیئم میں پیدا ہوا اور فرانسیسی شہریت رکھتا ہے کچھ عرصہ پہلے تک وہ برسلز میں ایک شراب خانے کا منیجر تھا۔پھر منشیات فروشی کے الزام میں اس کے شراب خانے کو بند کر دیا گیا۔فروری 2015ء میں اسے ہالینڈ میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔رہائی کے بعد اس نے داعش میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر پیرس حملوں کے بعد وہ داعش کا جنگجو قرار دیدیا گیا۔شراب خانے سے داعش تک اس نے اپنا سفر آٹھ نو ماہ میں مکمل کر لیا۔ابھی یہ پتہ نہیں چلا کہ صلاح عبدالسلام جیسے نوجوانوں کو یورپی ممالک میں بم اور خودکش جیکٹس بنانا کس نے سکھایا لیکن یہ طے ہے کہ ایسے نوجوان اصل میں مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کے مرتکب ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے اعمال کی سزا دنیا بھر کے مسلمانوں کو مل رہی ہے ۔ بم دھماکے برسلز میں ہوں یا استنبول میں، پشاور میں ہوں یا پیرس میں جہاں بھی بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جائے ہمیں ایسی خونریزی کی مذمت کرنی چاہئے لیکن برسلز میں حملوں کے بعد یورپ کے مسلمانوں کو بہت سے تکلیف دہ طعنے دیئے جا رہے ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ جب ان مسلمانوں کو روزگار اور پناہ کی تلاش ہوتی ہے تو یہ مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں ۔جب انہیں روزگار اور پناہ مل جاتی ہے او ریہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو جاتے ہیں تو پھر یہ ہاتھ میں بندوق پکڑ کر حکم دیتے ہیں کہ مغرب میں اسلام نافذ کرو۔یہ طعنہ بھی دیا جاتا ہے کہ مسلمان یورپ اور امریکہ میں مسجدیں بناتے ہیں اور مقامی شہریت حاصل کر لیتے ہیں لیکن مسیحیوں کو مسلم ممالک میں اپنے مذہب کی تبلیغ اور گرجے بنانے کی اجازت نہیں ہے ۔مسلمانوں کو احسان فراموش قرار دیا جا رہا ہے جو تاریخی حقائق کے منافی ہے ۔ برسلز میں ہونے والی خونریزی کی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر ڈالنا ناانصافی ہے ۔ مسلمانوں پر طنز اور تنقید کے نشتر برسانے والے تاریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کی کوشش کریں تو انہیں پتہ چلے گا کہ انسانوں کو بارود سے اڑانے کی روایت مسلمانوں نے شروع نہیں کی بلکہ ان نوآبادیاتی طاقتوں نے شروع کی جو کئی سو برس تک افریقہ اور ایشیا کی دولت لوٹ کر اپنے آپ کو سنوارتی رہیں۔آج بھی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور زمبابوے سمیت دنیا میں 50سے زیادہ ممالک ایسے ہیں جو کبھی برطانوی مملکت کا حصہ تھے اور نوآبادیاتی نظام کی یادگار کے طور پر آج بھی کامن ویلتھ کا حصہ ہیں ۔جب برطانیہ نے ان ممالک پر قبضہ کیا تو غلام ممالک کے عوام نےپہلے پہل حصول تعلیم اور پھر روزگار کے حصول کیلئے برطانیہ کا رخ کیا اور پھر وہاں بس گئے۔اسی طرح فرانس نے الجزائر، تیونس، مراکش، چاڈ، موریطانیہ اور آئیوری کوسٹ پر قبضہ کرلیا۔الجزائر اور مراکش کی بربر قوم کو غلام بنا لیا ان پر فرانسیسی زبان مسلط کر دی ۔لاکھوں فرنچ شہری ان ممالک میں جاکر آباد ہو گئے اور لاکھوں بربروں کو فرانس آنے کی اجازت مل گئی ۔بربر قوم سے اسکی زبان چھین لی گئی لیکن وہ یہ نہیں بھول پائے کہ وہ یوسف بن تاشفین اور طارق بن زیاد کی اولاد ہیں۔جب انہیں طعنہ مارا جاتا کہ تم غیر مہذب اور بیروزگار تھے ہم نے تمہیں تہذیب سکھائی، روزگار دیا اور پناہ دی تو وہ جواب میں کہتے ہیں نہیں تم ہمارے محسن نہیں تم نے ہماری قوم کو غلام بنایا، ہمیں لوٹا، ہمیں ہماری زبان اور شناخت سے محروم کیا تم لٹیرے ہو، یہی وہ بحث اور تنازع ہے جس نے یورپ اور امریکہ کے بہت سے مسلمانوں کو شناخت کے بحران میں مبتلا کیا اور وہ گمراہ ہوکر داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کے دام میں پھنس رہے ہیں ۔ان گمراہ نوجوانوں کے جرائم کی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دنیا سے نفرت ختم نہیں کرنا چاہتے بلکہ نفرت پھیلانے والوں کا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔آخر میں تاریخ کے اوراق سے ایک واقعہ کو مختصربیان کرنا چاہتا ہوں اور یہ ان کی خدمت میں پیش ہے جو آج مسلمانوں کو وحشی اور غیر مہذب قوم قرار دے رہے ہیں۔ 1857ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی تو 26ویں مقامی انفنٹری لائٹ رجمنٹ میاں میر لاہور کے علاقے میں تعینات تھی ۔13مئی 1857ءکو اس رجمنٹ کے 3800مقامی سپاہیوں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔کچھ دن خیریت سے گزرگئے لیکن جب انگریز افسروں کی طرف سے مقامی سپاہیوں کی تحقیر بند نہ ہوئی تو دھرم پورہ کے قریب اولڈ آفیسرز کالونی پر حملہ کرکے ایک انگریز افسر قتل کر دیا گیا۔باغی دریائے راوی کے کنارے پر چلتے ہوئے امرتسر کے قریب انبالہ پہنچے تو مقامی ڈی سی فریڈرک کوپر نے علاقے کے سکھوں کے ساتھ مل کر انہیں گرفتار کیا۔237باغیوں کوگولی مار دی ۔42کو توپوں کے دہانوں کے سامنے رکھ کر اڑا دیا 45کی سانس بند کرکے مارا گیا اور پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں لاشیں پھینک کر اوپر مٹی ڈال دی گئی۔اس گڑھے کےاوپر سکھوں نے ایک گوردوارہ بنا لیا لیکن 2014ء میں اسی گوردوارہ کے سکھوں نے زمین کھودی اور 1857ء میں قتل کئے گئے مسلمان اور ہندو سپاہیوں کی ہڈیاں برآمد کرکے یہاں ایک یادگار تعمیر کر دی۔یہ یادگار ہمیں بتاتی ہے کہ انسانوں کو بغیر مقدمے کے توپوں کے دہانوں سے اڑانے کی روایت مغربی نوآبادیاتی طاقتوں نے شروع کی اور داعش جیسی تنظیمیں انہی روایات کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔دونوں کی تاریخ مختلف ہے لیکن کردار ایک جیسا ہے ۔
اشتہار

;
مسلمانوں پر ایک اور حملہ مسلمانوں پر ایک اور حملہ Reviewed by Khushab News on 9:02:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.