کرکٹر بننا چاہتا تھا



پرفیسر خالد جیلانی ٹوانہ کا نام ضلع خوشاب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ضلع میں تدریس، کرکٹ، ادبی و مذہبی سرگرمیوں کا ذکر ہوتو وہ پروفیسر جیلانی کے تذکرے کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ملک اور بیرون ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں آپ کے سینکڑوں شاگرد خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ آپکا شمار ایسے اساتذہ میں ہوتا ہے جن کا نام اور مقام ہمیشہ احترام کیساتھ آتا ہے ۔تاریخ پر گفتگو ہو تو ایسے دلچسپ انداز سے تاریخ بیان کرتے ہیں کہ سننے والا محو ہو کر رہ جاتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ انکی گفتگو جاری رہے، کرکٹ پر بات ہو تو ایسے لگتا ہے کہ آپ کسی قومی سطح کے تبصرہ نگار سے بات کررہے ہیں۔ ادب کے حوالے سے کوئی موضوع چھڑ جائے تویہ ممکن ہی نہیںکہ پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ کے ادبی ذوق، ادب دوستی کی داددیئے بغیر رہ سکیں اور اسکے ساتھ ہی وہ ایک نقاد کی حیثیت سے بھی سامنے آتے ہیں۔ مذہب میں عشق رسول ﷺ اور اس حوالے سے تقریبات کا نہایت احسن و خلوص سے انتظامات انکا خاصہ ہے، اپنی پروفیسر کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ بھی انتہائی شائستگی مگر دبنگ انداز سے کرتے ہیںاور سب سے بڑھ کر انسان دوستی اور دوسروں کی بے لوث رہنمائی کرنا تو گویا انہیں سب سے زیادہ عزیز ہے ۔ گویا پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ محض کسی ایک شخص یا شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انجمن ۔ گزشتہ دنوں علیل ہوئے تو ہر کسی کے دل و زبان سے بے ساختہ آپکی صحت یابی اور طویل عمری کی دعائیں نکلی ۔اب روبہ صحت ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے کہ نفسا نفسی اور مادہ پرستی کے اس مصروف دور میں ایسی ہستیاں کسی نعمت سے کم نہیں۔ گزشتہ دنوں ان سے ایک ملاقات ہوئی اور اپنی گوناگوں مصروفیات کے باجود انہوں نے جس شفقت سے اپنے قیمتی وقت سے خوشاب نیوز کے لیے وقت نکالا ہم ان کے مشکورہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ سے ملاقات کا احوال ایک انٹرویو کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے (نعیم یاد ، انچارج ادبی صفحہ خوشاب نیوز

خوشاب نیوز:سب سے پہلے سر،ہم کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہمیں اپنے نہایت قیمتی وقت سے وقت نکالا اورہمیں ملاقات کا شرف بخشا۔
پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔دکھ سکھ زندگی کا حصہ ہیںاورچاہنے والوں سے دکھ دردمیں اضافہ نہیں بلکہ تکالیف میں کمی اورخوشیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
 خوشاب نیوز:۔سر،ضلع خوشاب میں آپ کانام کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں۔چاہے تعلیم کا میدان ہو یاادب کا یاکسی بھی ادبی یااسلامی سرگرمی ہو آپ کانام سرفہرست نظرآتا ہے۔مگر بہت سے قارئین ہم سمیت آپ کے بچپن کے بارے میں جانناچاہتے ہیں۔
 پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔جی میں صوبہ سرحدیعنی خیبرپختونخواہ کے شہر نوشہرہ کینٹ میںپیداہوا۔والدصاحب ٹھیکیداری کرتے تھے اورکنٹونمنٹ بورڈ کے وائس پریزیڈنٹ تھے۔اوراس کے علاوہ ریڈ کریسنٹ کے صدربھی تھے۔سماجی متحرک شخصیت تھی ان کی جس کی وجہ سے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ خوشاب نیوز:۔سراپناتعلیمی پسِ منظر بھی تھوڑاقارئین کو بتائیے۔ پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔میں 1977ءمیں ایف جی ہائی سکول سے میٹرک کاامتحان پاس کیا۔اس کے بعد1979ءمیں گورنمنٹ کالج نوشہرہ سے ایف اے کیا۔اس کے بعدہم کراچی شفٹ ہوگئے۔وہاں 1981ءمیں اسلامیہ کالج کراچی سے بی اے کی ڈگری لی۔اور1985ءمیں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے جنرل ہسٹری کا امتحان پاس کیا۔
 خوشاب نیوز:۔سرجنرل ہسٹری کی طرف آپ کس طرح آئے کیااپناذاتی شوق تھایاکسی کی راہنمائی تھی؟
 پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔اصل میں میراپڑھائی کی طرف رحجان بہت کم تھا۔کرکٹ میں بہت دلچسپی تھی۔کرکٹ میںایک نام بناناچاہتاتھا۔اس لیے بی اے تک میراتعلیمی ریکارڈ کوئی زیادہ اچھا نہیں تھا۔مگر پھر ایک دن یہ سمجھ آگئی کہ تعلیم کے بغیر کچھ بھی ناممکن نہیں۔بس پھر ارادہ مضبوط کیااوردل لگاکر پڑھائی کومکمل کیا۔اس وقت مجھے ہسٹری میں داخلہ مل گیا۔میں نے محنت کی اوربالآخر بہترین نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔
 خوشاب نیوز:۔تدریس کی طرف آپ کیسے آئے؟
پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔قدرت بڑی منصوبہ سازہے۔کراچی کے حالات خراب ہوئے تو ہمیں سرگودھاشفٹ ہوناپڑا۔1986ءمیں جوہرآبادآگئے۔یہاں میں گورنمنٹ ڈگری کالج میں اعزازی طورپرپڑھاناشروع کردیا۔جب کہ 5نومبر 1985ءکوباقاعدہ میری ملازمت گورنمنٹ کالج لالہ موسیٰ میں ہوئی۔پوراایک سال وہاں پڑھایاپھر نومبر1987ءکو لیکچرشپ کے لیے میری سلیکشن بھلوال کالج میں ہوئی جہاں سے جنوری 1988ءمیں جوہرآباد ڈگری کالج میں میری پوسٹنگ ہوئی ۔2006ءمیں پروموشن کے ساتھ مجھے گورنمنٹ کالج نوشہرہ بھیجاگیا جہاں سے 2008ءمیں میری پوسٹنگ دوبارہ جوہرآبادہوگئی۔
 خوشاب نیوز:۔تدریس کے ساتھ آپ اوربھی بہت سی علمی و ادبی اورمذہبی سرگرمیوں میں بھر پورجوش و خڑوش کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔اس کی کوئی خاص وجہ ؟
پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔میں نے آپ کو بتایاتھاکہ میرے والد صاحب ایک سماجی شخصیت تھے۔ان کااثر مجھ پہ کافی پڑا۔سیاسی طورپر1989ءپنجاب لیکچرارایسوسی ایشن پی ایل اے گورنمنٹ کالج جوہرآبادکا میں صدربھی رہا۔1991ءمیں مرکزی فنانس سیکرٹری بنا۔جب کہ 2000ءمیں پنجاب پروفیسرزاینڈلیکچرایسوسی ایشن کا مرکزی نائب صدر2010ءتک رہا۔اس کے ساتھ ساتھ انجمن اساتذہ پاکستان ضلع خوشاب کا صدر،اتحاداساتذہ پاکستان سرگودھا ڈویژن کاصدرہونے کا اعزازبھی حاصل ہے۔
 خوشاب نیوز:۔ماشاءاللہ سر!طلباءکی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے حقوق کے حفاظت کابیڑااٹھانابہت محنت طلب کام ہے۔ادبی حوالے سے کیارنگ دیکھتے ہیں آپ خوشاب میں؟
 پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔ادبی حوالے سے خوشاب کی سرزمین واقعی بہت زرخیز ہے۔اس زمین نے ادب میں بہت بڑے بڑے نام پیداکیے ہیں۔اوراب بھی بہت سے نئے نوجوان لکھاری اس سلسلے کی کڑی میں اپنااپنامقام بنارہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ادب کے ساتھ ساتھ ادیب کی خدمت ہونی چاہیے تاکہ وطن پاکستان کے باسی قلم کے ذریعے اپنے ملی جذبات کا اظہار کرسکیں۔ خوشاب نیوز:۔ضلع خوشاب میں کون سی ادبی حلقے سے آپ کی وابستگی ہے؟ پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔ضلع خوشاب میں مجلس علم و ادب کامیں بانی صدر ہوں۔اس کے ساتھ آوازادبی فورم کا دوسال سے چئیرمین ہوں۔نظریہ پاکستان فورم کاگزشتہ پانچ سالوں سے صدرہوں۔جب کہ مذہبی حوالے سے مرکزی میلاد مصطفی ﷺ کمیٹی کا پانچ سال سے صدرہوں۔
 خوشاب نیوز:۔ماشاءاللہ سر۔ہمارے خیال میں دین و دنیا کوجس طرح سے آپ لے کے چل رہے ہیں یہی آج کے دور کی ضرورت ہے۔
پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔ہمارادین ایک مکمل ضابطہ¿ حیات ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم دینی اصطلاحوں کو سمجھ نہ سکے۔اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو دینی احکام کے ساتھ ساتھ معاشرتی پہلوو¿ں پہ سب سے زیادہ احکامات دیتا ہے۔اب ضرورت بھی اس امر کی ہے کہ معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے اسلام کے ان پہلوو¿ں کو لوگوں کے سامنے اجاگر کیا جائے جن کو اپنا کر معاشرے کو امن وسکون کا گہورارہ بناجا سکتا ہے۔
خوشاب نیوز:۔سرآپ کا شعبہ ہسٹری ہے۔کالج لیول پہ بچوں کو اس حوالے سے کیساپاتے ہیں؟
 پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔ایک وقت تھا جب بچوں کی پیدائش کے ساتھ ہی اسلامی قصے کہانیاں بچوں کو سنا کر ان کے اخلاق کو اعلیٰ قدروں پرفائض کیا جاتا تھا۔وقت کے ساتھ اوروہ ساری اعلیٰ اقدارہم نے چھوڑ دیں جس کا نتیجہ نئی نسل پہ یہ پڑاکہ وہ اپنے اسلاف کے اعلیٰ کارناموں سے نہ صرف ناواقف ہوگئی بلکہ ان کے ناموں سے بھی ناواقف ہے۔قدرت کا یہ مجھ پہ بہت بڑااحسان ہے کہ اس نے میری یہی ڈیوٹی لگادی کہ ان بچوں کو ان باتوں سے روشناس کروایاجائے۔اس کے ساتھ ساتھ نظریہ پاکستان فورم کے تحت بھی ہر سال ایسے ادبی پروگرامز مرتب کیے جاتے ہیں جن میں کوشش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کو اپنے ان اسلاف سے نہ صرف روشناس کروایا جائے بلکہ ان کے اندران جیسابننے کا جذبہ بھی پیداکیا جائے۔
خوشاب نیوز:۔آنے والے وقت میں کیا ہماری یہ نسل اپنی اقدارکی تکمیل کرپائے گی جن اقدارکی تکمیل کے لیے یہ ارضِ پاکستان حاصل کی گئی تھی؟
 پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ:۔اللہ نے قرآن میںارشاد فرمایامایوسی گناہ ہے۔دین کے رستے پہ چلنے والوں کوآزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔گو اتناعرصہ پاکستان کو بنے گزرگیا ہے ہم وہ مقام حاصل کر نہیںپائے جہاں پہ آ ج ہمیں ہوناچاہیے تھا۔مگر اس کے ساتھ ساتھ جو نئی نسل کے اندر جذبہ حب الوطنی ہے وہ مایوسی کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں امید کی ایک بہت کرن ہے۔اگر ہم نے اس نسل کو اپنی روایات سکھادیں تو امید ہے کہ وہ جوآنے والی نسل ہے وہ اپنے نظریات تکمیل تک پہنچ جائے گی کیوں کہ اس ملک کو لاالہ الااللہ پہ بنایاگیاتھااس کی تعمیر لاالہ الااللہ پہ تھی اور ان شاءاللہ اس کی تکمیل محمد رسول اللہ ﷺ پہ ہوگی کیوں کہ کلمہ بھی لاالہ الااللہ پہ ختم نہیں ہوتا۔
 خوشاب نیوز:۔موجودہ تعلیمی نظام کیا عصرحاضر کے لوازمات پہ پورااترتا ہے؟ پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ :۔کسی قوم کے ذہنی ارتقاءکا جائزہ لینا ہو تو اس کے تعلیمی ڈھانچے اور اس کے ذرائع مواصلات کو دیکھیں۔۔۔۔ان دونوں کی حالت آپ کو اس قوم کے ذہنی شعور اور ترقی کا صحیح اندازہ پیش کرے گی۔ اس تناظر میں اگر دیکھیں تو دنیا کی کئی قومیں ہمیں ناکام ہوتی نظر آتی ہیں۔ مگر تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مملکت خدا داد جو ایک خاص نظریے کے ساتھ وجود میں آئی تھی، وہ پچھلے کئی سالوں میں تعلیمی حوالے سے ، تنزلی کا شکار نظر آتی ہے ۔میرے خیال میں ایک یکساں تعلیمی نظام جوطلبا کی بہتر رہنمائی کرے اور اس تعلیمی نظام میں جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، انگلش، کمپیوٹر کو اہمیت دی جائے وہاں اردو اور اسلامیات اور دیگر دینی علوم کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے. اور یہ تعلیمی نظام رٹا سسٹم کا سخت مخالف ہو اور پورے پاکستان کا تعلیمی نظام ایک ہی ہو تاکہ ہم نسلی اورصوبائی عصبیت سے نکل سکیں. اور ہم قابل اور باصلاحیت افراد پیدا کر سکیں.اس سلسلے میں حکومت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے. اگر حکومت پورے پاکستان کا تعلیمی نظام ایک کر دیتی ہے تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود حل ہوتے جائیں گے جن میں نوجوانوں میں اعتماد کی کمی، نوجوان نسل کے نفسیاتی مسائل، بہتر مواقع کا مسیر نہ ہونا، باصلاحیت افراد کی کمی وغیرہ شامل ہیں.
 خوشاب نیوز:۔سرآپ نے آج ہمیں اپنے بہت سے قیمتی وقت سے نوازا۔اس کے لیے ہم آپ کے شکر گزارہیں ۔اورساتھ میں آپ کے لیے دعاگوہیں کہ اللہ آپ کو اچھی صحت سے نوازے کیوں کہ خوشاب کی سرزمین کو ابھی بہت سی آبیاری کی ضرورت
ہے اوروہ ضرورت آپ جیسے ماہرتعلیم اورملک وقوم کی بھلائی کاجذبہ رکھنے والے افراد ہی کرسکتے ہیں۔

 پروفیسرخالدجیلانی ٹوانہ :۔بہت شکریہ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔آمین

اشتہار

;
کرکٹر بننا چاہتا تھا کرکٹر بننا چاہتا تھا Reviewed by Khushab News on 9:03:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.