نواز شریف نے عمران خان کے لیے انوکھی شرط کا اعلان کردیا


khushab news

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے جمعہ کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انھوں نے اپنے خلاف لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاناما لیکس میں کییگئے انکشافات کے بعد دوسری مرتبہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ان کے تمام اثاثے ظاہر کر دیے گئے ہیں اور تحقیقات میں اگر ان کے خلاف ایک بھی الزام ثابت ہوا تو وہ وقت ضائع کیے بغیر گھر چلے جائیں گے۔’میں چیف جسٹس کو خط لکھوں کا کہ وہ مجھ پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیں۔‘’میں کمیشن کی سفارشات قبول کروں گا۔ اگر مجھ پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو وہ لوگ جو جھوٹے الزامات کا بازار گرم کرتے ہیں وہ قوم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہوسِ اقتدار کی خاطر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد انھوں نے پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیا تھا۔‘میں کمیشن کی سفارشات قبول کروں گا۔ اگر مجھ پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو وہ لوگ جو جھوٹے الزامات کا بازار گرم کرتے ہیں وہ قوم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ان پر الزامات لگے لیکن کبھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔’میں نے ایک جمہوری ملک کے وزیراعظم ہونے کے ناطے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ 22 برس پرانے ہیں۔ پہلے 90 کی دہائی میں کی گئی اور پھر پرویز مشرف کی غیر آئینی حکومت نے چھان بین کی لیکن غیر قانونی منتقلی یا کرپشن ثابت نہیں کر سکے۔‘وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا ’ایک مرتبہ پھر خود کو اور اپنے پورے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں۔‘’ہمارا خاندان اس وقت سے ٹیکس دے رہا ہے جب کچھ لوگوں کو اس لفظ کے ہجے بھی نہیں آتے تھے۔ اور ہم نے ٹیکس کے نظام کو شفاف بنایا۔ ہم خود لوگوں کو کہتے ہیں کہ وہ ہمارے اثاثے اور ٹیکس کے گوشوارے دیکھیں۔‘’میں اس تنخواہ کا بھی حساب دینے کے لیے تیار ہوں جو میں نے کبھی وصول ہی نہیں کی۔‘انھوں نے اپنے ناقدین کے حوالے سے کہا کہ وہ انھیں بتانا چاہیں گے کہ پاکستان عوام باشعور ہیں۔انھوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے بڑی جدوجہد سے خود کو آمریت کی زنجیروں سے آزاد کیا ہے۔’آپ میں سے اکثر لوگ چھوٹے الزامات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ کسی بھی شہری کے خلاف الزامات شائع یا نشر کرنے سے پہلے خود کو اس جگہ رکھ کر سوچیں کہ انھیں کیا لکھنا یا نشر کرنا چاہیے۔‘پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ 22 برس پرانے ہیں۔ پہلے 90 کی دہائی میں کی گئی اور پھر پرویز مشرف کی غیر آئینی حکومت نے چھان بین کی لیکن غیر قانونی منتقلی یا کرپشن ثابت نہیں کر سکے۔نواز شریف کا کہنا تھا اس سارے معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ کچھ سوال ہمارے بھی ہیں۔’آخر ہمیں سعودی عرب کس نے اور کیوں بھیجا تھا؟ ایک منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑیاں لگا کر کال کوٹھری میں کیوں بھیجا گیا تھا؟‘’جب ہمارے کاروبار اور ذاتی رہائش گاہ پر تالے لگائے تو اِکا دْکا لوگوں کے علاوہ ان لوگوں کے منہ پر بھی تالے پڑ گئے جو اب نیکی کے پتلے بنے ہوئے ہیں۔‘انھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’ججوں کو ان گھروں کو نظر بند کرنے کا الزام، مجھ پر ہائی جیکنگ کا جھوٹا مقدمہ بنانے کا الزام، کیا ان سب کا جواب نہیں مانگا جانا چاہیے۔‘اپنے خطاب کے آغاز میں انھوں نے کہا کہ وہ نہایت اہم مسئلے پر اعتماد میں لینا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ’میں اس پاکستان میں پیدا ہوا انھی گلیوں میں پچپن لڑکپن گزرا، اسی ملک کے سکول کالجوں میں تعلیم حاصل کی، یہی شادی ہوئی، یہی اولاد پیدا ہوئی۔‘تین دہائیوں میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ وقت جب جلاوطن کر کے وطن سے دور رکھا گیا۔پھر وہ وقت میں آیا جب میں وقت آیا اور قوم نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم کی ذمہ داری سونپی۔

khushabnews
اشتہار
;
نواز شریف نے عمران خان کے لیے انوکھی شرط کا اعلان کردیا نواز شریف نے عمران خان کے لیے انوکھی شرط کا اعلان کردیا Reviewed by Khushab News on 8:28:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.