وادی سون، جنگل میں آگ ، اصل وجہ سامنے آگئی


soon valley news

وادی سون ،مردوال جنگل آگ کی لپیٹ میں

نوشہرہ وادی سون سے فرحان فاروق اعوان کی رپورٹ
خوشاب نیوزڈاٹ کام) نواحی قصبہ مردوال کی ڈہوک بھلوٹ ،کھدری ،مائی والی ڈھیری کے قریب سرکاری جنگل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس سے کھڑے کہو اور پھلائی جیسے قیمتی درخت جل کر خاکستر ہوگئے اور جنگلی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچا دوکلومیٹر سے زائد رقبہ پر پھیلی آگ کو علاقہ کے لوگ بجھانے کی سر توڑ کوششیں کرتے رہے ضلع سے امدادی ٹیمیں دس گھنٹے تاخیر سے پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کردیاعلی الاصبح اچانک بڑھکنے والی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا مقامی لوگوں نے بتایا کہ وادی سون کے مختلف علاقوں کے جنگلات میں ہر سال اچانک آگ بھڑک اٹھنا معمول بن چکا ہے جہاں پر آگ لگتی ہے وہاں پر وسیع و عریض علاقے میں پھیل جاتی ہے اور لاکھوں روپوں مالیت کے درخت جل کر راکھ ہوجاتے ہیں ابھی تک انکوائری ٹیمیںآگ لگنے کی وجوہات معلوم نہیں کرسکیں اگر محکمہ جنگلات کے اہلکار ڈیوٹی کے پابند ہوں تو جنگلات کے کٹاؤ اور آگ لگنے سے بچ سکتے ہیں محکمہ کے اہلکار خود لکڑی فروخت کرکے اپنی نااہلی اورکرپشن کو چھپانے کیلئے جنگل میں آگ لگوا دیتے ہیں محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جنگل میں شہد اتارنے والے اشخاص آگ لگا کر شہد اتارتے ہیں جس سے جنگل میں آگ لگ جاتی ہے دونوں صورتوں میں جنگل میں آگ لگنے سے وادی سون کے سرسبز جنگل ویرانی کا منظر پیش کرتے ہیں اور ماحول پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی وزیر جنگلات ملک محمد آصف بھا کاتعلق بھی ضلع خوشاب سے ہونے کے باوجود بھی ابھی تک اس اہم مسئلہ پر توجہ نہیں دی گئی مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ہر سال وادی سون کے جنگل میں آگ لگنے کی وجوہات منظر پر لائی جائے اور ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ وادی سون کا حسن ماند نہ پڑے واضع رہے کہ ابھی تک ضلعی انتظامیہ یا محکمہ جنگلات کا کوئی بھی آفیسر موقع پر نہ پہنچا ہے فائر برگیڈ کی ایک گاڑی محکمہ جنگلات کے چند اہلکار اور مقامی آبادی کے سینکڑوں افراد آگ بجھانے میں مصروف ہیں اگر رات تک اس آگ پر قابو نہ پایا جاسکا تو درجنوں ڈیرہ جات اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں
khushabnews

;
وادی سون، جنگل میں آگ ، اصل وجہ سامنے آگئی وادی سون، جنگل میں آگ ، اصل وجہ سامنے آگئی Reviewed by Khushab News on 9:21:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.