کروڑوں کے منصوبے اور محکمہ بلڈنگز کی شان بے نیازی


dco khushab

خوشاب نیوز ڈاٹ کام) ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفسیر خوشاب کنزہ مرتضےٰ نے تعمیراتی محکوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کی بنیادی ضروریات کی سکیموں پر خاص توجہ دیں اور موجودہ مالی سال میں جن سکیموں کے فنڈز موجود ہیں انہیں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں تاکہ فنڈز لیپس نہ ہوں ۔کنزہ مر تضے ڈی سی او کانفرنس ہال جوہرآباد میں پر اونشل اور ڈسٹرکٹ کی ترقیاتی سکیموں کا جائیزہ لیتے ہوئے خطاب کررہی تھیں ۔اجلاس میں اے ڈی سی راؤ عاطف ،ای ڈی او ورکس،ایکسین پبلک ہیلتھ ،ڈی او بلڈنگز ،ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر کے علاوہ دیگر تعمیراتی محکموں کے افسران موجود ہ تھے ۔اجلاس میں پروانشل کی 64 مختلف سکیموں کا صدراجلاس نے جائیزہ لیا ۔تفصیل کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران بلڈنگز کی اسی فیصد مختلف سکیمیں مکمل ہوئیں جن پر تقریبا 22 کروڑروپے خرچ ہوئے ۔ہائی ویز کی 13 مختلف سکیموں پر 54 کروڑ 26 لاکھ 81 ہزار روپے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مختلف 32 سکیموں پر اب تک 37 کروڑ 53 لاکھ اور 40 ہزار روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔پراونشل بلڈنگز کا میٹنگ میں کوئی ذمہ دار افسر نہ ہونے کی وجہ سے اس سے وضاحت طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت چاروں صوبائی حلقوں کی 42 سکیمیں متعلقہ ایم پی ایز کی نشاندہی پر شروع کی گئیں ۔جن کے لئے سو فیصد فنڈز ریلیز ہوئے یہ سکیمیں 86 فیصد مکمل ہو کر ان پر تقریبا 8 کروڑ 69 لاکھ 22 ہزارروپے خرچ ہو چکے ہیں ۔ ڈی سی او نے کمیونئی ڈویلپمنٹ کی سکیموں کا بھی جائیزہ لیا ۔یہ گیارہ سکیمیں مکمل ہو کر ان پر تقریبا 13 کروڑ 18 لاکھ 84 ہزارروپے خرچ ہوئے ۔ڈویلپمنٹ سکیمز پی پی 40 اور پی پی 42 کے لئے چار کروڑ 33 لاکھ 32 ہزار روپے جاری ہوئے جبکہ ان سکیموں پر کام ہو کر اب تک تین کروڑ اکیاون لاکھ اور 16 ہزارروپے خرچ ہوئے ۔عدم دستیابی کی بنیادی سہولتوں پر پچھلے اور موجودہ مالی سال کے دوران دس کروڑ 87 لاکھ اور 62ہزارروپے خرچ ہوئے ۔سکول ایجوکیشن سیکٹر کی مختلف سکیموں پر 11 کروڑ 45 لاکھ 40 ہزار روپے خرچ ہوئے ۔ان سکیموں کے علاوہ ڈی سی اونے
ٹور ازم ،ٹائیڈ گرانٹ،ہیلتھ اور ڈسٹرکٹ 2014-15 کی سکمیوں کا بھی غورسے جائیزہ لیا ۔
khushabnews

;
کروڑوں کے منصوبے اور محکمہ بلڈنگز کی شان بے نیازی کروڑوں کے منصوبے اور محکمہ بلڈنگز کی شان بے نیازی Reviewed by Khushab News on 5:58:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.