جنگل میں آگ ،محکمہ جنگلات کی خاموشی اور مافیا


soon valley news
Foto file

نوشہرہ وادی سون سے نمائندہ خصوصی فرحان فاروق اعوان سے
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)یوسی مردوال کے سرکاری جنگلات میں تین روز قبل لگنے والی آگ پر ابھی تک محکمہ جنگلات کی طرف سے کسی قسم کی انکوائری شروع نہ ہوسکی سرکاری جنگلات میں لگنے والی آگ کے نتیجہ میں کروڑوں روپوں کی کہو اور پھلائی جیسی قیمتی لکڑی جل کر خاکستر ہوگئی اور جنگلی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچا موضع مردوال کے سیاسی اور سماجی رہنماؤں ملک فاروق باگا ملک محمد خان اور ملک فتح خان نے وزیر اعلی پنجاب میں شہباز شریف اور وزیر جنگلات پنجاب ملک آصف بھا سے مطالبہ کیا ہے کہ موضع مردوال کے جنگلات کو لگنے والی آگ کے نتیجہ میں کروڑوں روپوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کی اعلی سطح پر کمیتی تشکیل دے کر ایک جامع انکوائری کرائی جائے انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی زبان زد عام ہے کہ محکمہ جنگلات کے افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے یہ آگ لگائی گئی کیونکہ سرکاری جنگلات کی فلاح و بہبود کیلئے محکمہ جنگلات ہر سال لاکھوں روپے کے فنڈز مختص کرتا ہے جس کی عملی طور پر ایک پائی بھی خرچ نہیں کی گئی اور مبینہ طور پر فنڈز کو ہضم کرنے کیلئے یہ آگ لگائی گئی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مذکورہ جنگلات سے ٹمبر مافیا محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے کہو اور پھلائی کی قیمتی درخت کٹوا کر ٹالوں کے ذریعے صوبہ کے پی کے ٹرکوں پر لوڈ کرکے سمگل کردی جاتی ہے مطالبہ کیا گیا کہ وادی سون میں جنگلات کی کٹائی پر دفعہ144کے تحت پابندی عائد کی جائے تاکہ جنگلات کی وجہ سے وادی سون کے حسن میں مزید اضافہ ہوسکے۔

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)تحصیل نوشہرہ کی اسسٹنٹ کمشنر کی پوسٹ گزشتہ تین ماہ سے خالی ہونے سے وادی سون کے محکمہ مال سمیت دیگر محکموں کے سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ملک جاوید بکھوال ،ملک اختر اسلام نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کی خالی پوسٹ پر فوری تعیناتی کی جائے تاکہ وادی سون کے مکینوں کو اپنے کاموں کے سلسلہ میں خوشاب ،جوہرآباد جانے کی بجائے مقامی سطح پر حل ہوسکیںیہ پوسٹ مرضیہ چنگیزی اے سی نوشہرہ کے حافظ آباد تبادلہ کی وجہ سے عرصہ دراز سے خالی پڑی ہے۔khushabnews

;
جنگل میں آگ ،محکمہ جنگلات کی خاموشی اور مافیا جنگل میں آگ ،محکمہ جنگلات کی خاموشی اور مافیا Reviewed by Khushab News on 10:54:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.