پرویز مشرف یا کاکڑ فارمولا




برملا۔۔۔ نصرت جاوید
اگلے سودن۔۔۔1975ء سے سوائے کل وقتی صحافت کے میں نے اور کچھ نہیں کیا ہے۔ میری اس پیشے کے ساتھ ایسی طویل وابستگی کے بعد میں 
یہ اعلان کر رہا ہوں کہ اس سے جڑا جھوٹ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ پاکستان میں آج صحافت جتنی آزاد و بے باک ہے، ایسی ہماری تاریخ میں کبھی بھی نہیں تھی۔

ٹیلی وڑن سکرینوں پر پاٹے خانوں کی تمام تر بڑھکوں کے باوجود چند سوالات ہیں جو اٹھائے ہی نہیں جا سکتے۔ اس کے علاوہ ریاستی امور کے حوالے سے چند علاقے ایسے ہیں جن کی طرف جانا کسی صحافی کے لئے اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے جو ہماری ماوں کی سنائی داستانوں کے مطابق ’’طوطیامن موتیا‘‘ کے ساتھ ’’اس گلی‘‘ میں جانے کے بعد ہوا کرتا تھا۔

اپنی محدودات کا کھلے دل کے ساتھ مگر اعتراف کرنا انا کے مجھ ایسے غلاموں کے لئے ممکن نہیں۔ لہذا مان لیتے ہیں کہ ہماری صحافت آزادی اور بے باکی کے سنہری دور سے گزر رہی ہے۔ آزادی اور بے باکی کے ایسے ماحول میں لہذا میرے پاس اس سوال کا جواب ہر صورت موجود ہونا چاہیے کہ آئندہ سو دنوں میں، جنہیں راولپنڈی کی لال حویلی سے اْٹھے بقراطِ عصر بہت اعتماد کے ساتھ ہماری تاریخ کے اہم ترین اور فیصلہ کن دن قرار دے رہے ہیں، ’’کیا ہوگا؟!‘‘ نواز شریف سے جان کیسے چھوٹے گی۔ انہیں گھر بھیجنے کے لئے ’’کاکڑفارمولا‘‘ درکار ہے یا ’’نسخہ پرویز مشرف‘‘۔

کئی لوگ اس بارے میں بھی بہت متفکر ہیں کہ نواز شریف کو ہٹا کر ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کی اسی اسمبلی سے کسی اور شخص کو وزیر اعظم منتخب کروا لیا گیا تو ’’فیدا کی‘‘۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ تو کرپشن ہے۔ قیامِ پاکستان کے صرف چند ماہ بعد ہی اس عفریت نے ہماری جڑیں کھوکھلی کرنا شروع کردی تھیں۔ اسی لئے قائد ملت نے( PRODA)کا قانون پاس کروایا اور ایوب کھوڑو جیسے ’’بدعنوان‘‘ وزیر اعلیٰ سے نجات حاصل کی۔ چارسدہ کے اتمان زئی گھرانے سے اْٹھے ’’غدار‘‘ خاندان کے ڈاکٹر خان کو ہٹاکر خان عبدالقیوم خان جیسے درویش منش اور نیک پاک شخص کو ان دنوں کے صوبہ سرحد کا وزیر اعلیٰ ’’منتخب‘‘ کروایا گیا۔

مرحوم مشرقی پاکستان کے سارے سیاستدان اگر کرپٹ نہیں تو اجتماعی طورپر نااہل ضرور تھے۔ ہمہ وقت ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں 
مصروف رہتے۔ انہوں نے اْردو زبان کو قومی حیثیت دینے سے بھی انکار کردیا تھا۔ مسلم لیگ نام کی جماعت اگرچہ 1906ء میں ڈھاکہ میں قائم ہوئی تھی۔ اس جماعت کا بنیادی مقصد بنگالی مسلمانوں کے ان حقوق کا تحفظ کرنا تھا جو تقسیمِ بنگال کی صورت انہیں نصیب ہوتے نظر آرہے تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک جدا گانہ مملکت کے تصور کی بنیاد ڈالنے والی اس جماعت کو مگر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے سیاستدانوں نے جگتو فرنٹ میں متحد ہوکر اقتدار سے محروم کردیا۔ ماضی کے مشرقی پاکستان کو حب الوطنی کی طرف موڑنے کے لئے اس صوبے میں گورنر راج لگانا پڑا۔ مرشد آباد کے اس گھرانے کے وارث، جس نے میرجعفر پیدا کیا تھا، یعنی سکندر مرزا نے بنگالیوں کو محب وطن بنانے کا ذمہ اپنے سر لیا۔ موصوف اگرچہ میجر جنرل بھی ہوا کرتے تھے مگر برطانوی سرکار نے ان کی صلاحیتیں زیادہ تر’’پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ‘‘ کے ذریعے سیاستدانوں کو ان کی اوقات میں رکھنے کے لئے استعمال کی تھیں۔ افغانستان کو قابو میں رکھنے کے لئے جو ’’گریٹ گیم‘‘ کھیلی جارہی تھی، موصوف اس کا بھی ایک اہم کردار ہوا کرتے تھے۔

یہ سب کچھ کرنے کے باوجود مگر اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ اسے جڑسے اکھاڑ پھینکنے کے لئے 1958ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان کو مارشل لاء4 لگانا پڑا۔ موصوف کے مارشل لاء4 نے اگر کرپشن ختم کردی ہوتی تو موسیقی کا شغف رکھنے والے پرویز مشرف کو ایوب خان کے فوت ہوجانے کے کئی دہائیاں بعد 1999ء میں ایک بار پھر مارشل لاء لگاکر جنرل امجد کے احتساب بیورو کے ذریعے بدعنوان سیاست دانوں کا قلع قمع نہ کرنا پڑتا۔’’بدعنوان اور نااہل سیاستدان‘‘ مگر کیچو?ں کی طرح مسلسل ہماری زمین پر ہر سو پھیلی بلوں سے برآمد ہوتے رہتے ہیں۔

Enoughمگر اب Enough
ہوگیا ہے۔ 20 جولائی سے عمران خان ایک بار پھر سڑکوں پر ہوں گے۔ اس دفعہ کرپشن کے خلاف جہاد کرتے وہ اکیلے نظر نہیں آئیں گے۔ کرپشن کے قلعہ پر حملہ آور ہوتے کنٹینر پر ان کے ہمراہ محض لال حویلی سے اْٹھے بقراطِ عصر ہی نہیں چودھری اعتزاز احسن بھی ہوں گے جنہوں نے ’’چیف تیرے جاں نثار۔ بے شمار بے شمار‘‘ کا ورد کرتے ہوئے وکلاء4 کے ساتھ مل کر افتخار چودھری کو چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کروایا۔ بحالی کے بعد افتخار چودھری نے ریاست کم از کم اپنے بیٹے ارسلان کے لئے ’’ماں کے جیسی‘‘ بنادی۔

اعتزاز احسن کی محنتِ شاقہ کی بدولت بلاول بھٹو زرداری بھی بالآخر کرپشن کو ختم کرنے عمران خان کے کنٹینر پر آکر کھڑے ہو جائیں گے۔ لندن پہنچتے ہی عمران خان صاحب نے ہفتے کی شام بیان دیا ہے کہ تمام نواز مخالف سیاستدان 1977ء کی PNAکی صورت ’’پانامہ لیکس‘‘ میں بے نقاب ہوئے شریف خاندان کے خلاف یکجا ہوچکے ہیں۔

عمران خان صاحب سے میری دست بستہ عرض ہے کہ کبھی چودھری اعتزاز احسن کے ساتھ اکیلے بیٹھیں۔ میرے قادرالکلام دوست، اعتزاز احسن انہیں بہت آسانی سے سمجھا دیں گے کہ PNA میں جمع ہوئے سیاستدانوں میں سے سب سے زیادہ Hawkish رویہ اصغر خان ہی کا رہا تھا۔ بیگم نسیم ولی خان نے بڑی شدت کے ساتھ ان کی حمایت کی۔ پھر آگے بڑھی جماعتِ اسلامی۔ بھٹو سے نجات مل گئی مگر ضیاء4 الحق آگئے۔

اقتدار سنبھالتے ہی ضیاء4 الحق نے اصغر خان کو اپنی جماعت کے ایک وفد کے ساتھ تہران بھیجا تاکہ اس زمانے میں اس خطے میں امریکہ کے لگائے تھانے دار’’رضا شاہ پہلوی‘‘ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک پہنچنے میں آسانیاں پیدا کر سکیں۔ رضا شاہ کی مگر امام خمینی نے چھٹی کروادی۔ روسی افواج اس کے بعد افغانستان پر قابض ہوگئیں۔ افغانستان کو لادین قوتوں سے آزاد کروانے کے لئے ضیاء4 الحق نے جہاد برپا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اصغر خان مگر نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے۔ ان کے مطالبے کی تکرار سے تنگ آکر ضیاء4 الحق نے اصغر خان کو ایبٹ آباد میں کئی سال تک نظر بند رکھا۔

خدا کرے کہ 2016ء کی پی این اے عمران خان کی بنی گالہ میں طویل نظر بندی کا باعث نہ بن جائے۔ ایسا ہوا تو ہماری گلیاں ویران ہو جائیں گی’’جینا ہوگا مرنا ہوگا‘‘ والی رونق ختم ہوجائے گی۔بہرحال صحافت میں اتنے برس گزارنے کے بعد بھی میں بدنصیب آپ کو اعتماد سے نہیں بتا سکتا کہ آنے والے ’’سو دنوں‘‘ میں جنہیں لال حویلی سے اْٹھے بقراط نے ہماری تاریخ کا اہم ترین اور فیصلہ کن دن ٹھہرایا ہے، درحقیقت کیا ہوگا۔ شہر کے لوگ مگر مجھ سے اس سوال کا جواب ہر صورت معلوم کرنے پر مصر ہیں۔

چاند رات کو میری بیوی کے ایک ماموں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ عید کے دوسرے دن ہمیں ان کو دفنانے کی مہلت ملی۔ چلچلاتی دھوپ کے نیچے کھڑا جب میں ان کے قبر میں اتارے جانے کا انتظار کررہا تھا تو کئی لوگوں نے مجھ سے صرف یہی سوال پوچھا۔ میں نے مہذب انداز میں ٹالنے کی کوشش کی تو کئی آنکھیں مجھے ’’لفافہ صحافیوں‘‘ کی فہرست میں موجود ہوا دیکھتی پائی گئیں۔

اب عبدالستار ایدھی بھی ہم سے رخصت ہوگئے ہیں۔ اس درویش کو سفرِ آخرت پر روانہ کرتے ہوئے ہماری ریاست کے مالکوں نے جو انداز اختیار کیا ،اس نے میرا خون کھولادیا ہے۔صحافت چونکہ بہت ہی آزاد اور بے باک ہوچکی ہے اس لئے میں اس ضمن میں اپنے غصے کے اظہار سے اجتناب برتنے ہی میں عافیت محسوس کرتا ہوں۔۔۔بشکریہ نوائے وقت
khushabnews
پرویز مشرف یا کاکڑ فارمولا پرویز مشرف یا کاکڑ فارمولا Reviewed by Khushab News on 2:10:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.