خاتون ڈی سی او اور ڈینگی وائرس


ذرا ہٹ کے۔۔۔ یاسر پرزادہ

ایدھی ، نام ہی کافی ہے
پھنے خان سرکاری افسروں کا ایک اجتماع تھا، حسب روایت ہر کوئی دورانِ ملازمت انجام دینے والے کارنامے گنوا رہا تھا، کسی کا دعویٰ تھا کہ اس جیسا پارسا کسی ماں نے نہیں جنا اور کوئی یہ جتا رہا تھا کہ کیسے اُس نے اپنے محکمے کی کایا کلپ کرکے اسے جدید خطوط پر استوار کیا، ایک صاحب بہادر نے دعویٰ کیا کہ وہ اِس قدر مستعد افسر ہیں کہ کوئی بھی ڈاک اُن کی میز پر دو منٹ سے زیادہ نہیں رکتی اور ایک خاتون افسر کا کہنا تھا کہ جتنا عرصہ وہ ڈی سی او رہیں اُن کے ضلع میں ایک بھی ڈینگی کا کیس نہیں آیا۔ ہمارے ایک سینئر افسر بھی وہاں موجود تھے جو کئی برسوں سے سرکاری افسران کے تربیتی اداروں سے منسلک رہے ہیں اور برسوں سے الف لیلیٰ کی یہ کہانیاں سنتے آئے ہیں، ایسے موقعوں پر اُن کے سوالات بہت دلچسپ ہوتے ہیں۔ اِن افسران کی باتیں سُن کر اُن کی ’’رگ تربیت‘‘ پھڑک اٹھی اور انہوں نے جملہ افسران سے اپنا پسندیدہ سوال پوچھا ’’اگر آپ سب لوگ اتنے ہی قابل اور ذہین افسر ہیں تو پھر عوام میں بیورو کریسی کا تاثر اس قدر منفی کیوں ہے؟‘‘ اس کا جواب ایک صاحب نے یہ دیا کہ ’’سر، دراصل لوگوں کے ذہنوں میں افسر شاہی کے متعلق منفی تاثر برسوں سے ہے، میڈیا اسے بڑھاوا دیتا ہے، ہمارے اچھے کاموں کی تشہیر نہیں ہوتی اور کسی سرکاری اہلکار سے اگر کوئی بھول چوک ہو جائے تو اُس کی بریکنگ نیوز چلنی شروع ہو جاتی ہے اور یوں ہماری بچی کچھی ساکھ خاک میں مل جاتی ہے اور لوگ ہمارے اچھے کاموں پر اعتبار نہیں کرتے!‘‘ استاد افسر نے یہ بات اطمینان سے سنی اور اس کا نہایت عمدہ جواب دیا جو مجھے آج بھی یاد ہے، بولے :’’ایدھی صاحب کا کوئی میڈیا مینجمنٹ سیل ہے اور نہ ان کے پاس کوئی ریاستی مشینری، پھر بھی لوگ اکیلے ایدھی پر جتنا اعتماد کرتے ہیں اتنا پوری ریاست پر نہیں کرتے، آپ کے تمام کارناموں کے باوجود کوئی شخص آپ پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں مگر ایدھی صاحب پر قوم آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتی ہے، ایدھی صاحب کا نام ہی کافی ہے، کیوں؟‘‘ اس بات کا جواب دینے کی کسی نے ہمت نہیں کی، سب خاموش ہو گئے، محفل برخواست ہو گئی۔
عبدالستار ایدھی صاحب اب اِس دنیا میں نہیں رہے، ان کی وفات پر اَن گنت تحریریں شائع ہوئیں، ہر شخص نے اپنے اپنے انداز میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا، اُن کی شخصیت کا کوئی پہلو، ان کے کارہائے نمایاں کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس کا ملکی حتیٰ کہ غیر ملکی میڈیا نے ذکر نہ کیا ہو، دور حاضر کا یہ واحد شخص تھا جس کی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی پوری قوم نے یکسو ہو کر اس کی عظمت کو سلام پیش کیا، ایدھی صاحب کی موت نے اس قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا، گویا یہ ایک قسم کا تحفہ تھا جو ایدھی صاحب جاتے ہوئے اس قوم کو دے گئے۔ پاکستانی قوم خوش نصیب ہے کہ اس کے پاس عبدالستار ایدھی جیسا انسان نما فرشتہ تھا، عصر حاضر میں شاید ہی کسی دوسری قوم کے پاس اس پائے کا کوئی عظیم آدمی ہو، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے! ایک ذمہ داری تو بڑے بیٹے فیصل ایدھی پر عائد ہوتی ہے، اُن کے والد محترم نے اعتبار اور اعتماد کا جو رشتہ اس قوم کے ساتھ استوار کیا اسے ویسے ہی مضبوط رہنا چاہئے جیسا ایدھی صاحب کے دور میں تھا۔ بظاہر آسان نظر آنے والا یہ کام اتنا آسان نہیں، ایدھی صاحب کا کل اثاثہ یہ اعتبار ہی تھا، یہی اس قوم کا بھی اثاثہ ہے، اسے کسی صورت ٹھیس نہیں لگنی چاہئے، فیصل ایدھی کو اپنے باپ کا پرتو لگنا چاہئے۔
کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے۔ سب سے پہلے تو ایدھی صاحب کا ذکر ہمارے اسکولوں کے نصاب میں ہونا چاہئے، اگر یہ پہلے سے موجود ہے تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں تو ایدھی صاحب کی انسان دوستی پر مضامین نصاب میں شامل کئے جانے چاہئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ9جولائی کو اسکولوں میں ایدھی ڈے منایا جانا چاہئے اور اس دن بچوں کو فلاحی کاموں کا پریکٹیکل کروانا چاہئے۔ ہمارے ہاں رضاکارانہ کام کا کوئی خاص تصور نہیں جبکہ باہر کے ممالک میں ’’وولنٹری ورک‘‘ ان کی سال بھر کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ ہمارے بچوں کو بھی اس جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے، ایدھی ڈے کے موقع پر بچوں سے اُن کی سال بھر کی رضاکارانہ سرگرمیوں کی رپورٹ لی جائے اور اس رپورٹ کے نمبروں کو نتیجے کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ ریاضی یا انگریزی میں کم نمبر لینے پر تو والدین اپنے بچوں کے بارے میں نڈھال ہو جاتے ہیں جبکہ رضاکارانہ کام کے بارے میں کوئی بازپرس نہیں ہوتی، سال میں کم از کم ایک دن تو یہ ہونا چاہئے اور ایدھی ڈے وہ ایک دن ہو۔ عوام کے بڑے طبقے کا یہ بھی خیال ہے کہ ایدھی صاحب کے نام سے کوئی شاہراہ، ہوائی اڈہ یا ایسی کوئی جگہ موسوم کی جانی چاہئے۔ بہت اچھا خیال ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں اس ضمن میں پہلے ہی عندیہ دے چکی ہیں، سب سے اچھی تجویز نجم سیٹھی صاحب کے زرخیز دماغ میں آئی، انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی سے درخواست کی ہے کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور کا نام تبدیل کر کے ایدھی اسٹیڈیم رکھ دیا جائے، اس سے بہترین تجویز ممکن نہیں تھی۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ ایدھی صاحب کے نام کا بین الاقوامی اسٹیڈیم ہوجائے گا اور یوں ایدھی صاحب کی نیک نامی کی بدولت دنیا میں پاکستان کا روشن اور مثبت چہرہ ابھرے گا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ معمر قذافی سے جان چھوٹ جائے گی۔ 
پاکستانی قوم ایک عجیب و غریب قوم ہے، اس قوم میں انسان کا فرشتہ ماڈل اور شیطان ماڈل دونوں بیک وقت دستیاب ہیں، اس قوم میں فراڈیئے بھی ہیں اور خدا کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے والے بھی، دین بیچنے والے بھی ہیں اور دین کی اصل روح پر عمل کرنے والے بھی، حریص تاجر بھی ہیں اور خیراتی ادارے چلانے والے کاروباری لوگ بھی۔ ہماری قوم انتہاؤں میں بٹی ہوئی قوم ہے، ہم معاشرے میں لوگوں کو سیاہ اور سفید میں دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں، اگر کوئی شخص ہمیں پسند نہیں تو وہ ہمارا ولن ہے، اس کے تمام اچھے کام ہم کوڑے کے ڈبے میں ڈال دیتے ہیں، ہم یہ نہیں سوچتے کہ انسانوں کے معاشرے میں فرشتے نہیں بستے، ایدھی جیسا ایک آدھ ہی ہوتا۔ ہمارے پاس ہیروز دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں، ایدھی صاحب کی وفات کا ایک غم یہ بھی ہے اب ہمیں اُن جیسا کوئی دوسرا نظر نہیں آ رہا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو چھاننے کا بے حد کڑا معیار اپنا لیا ہے، یہ معیار صرف دوسروں کے لئے ہے، خود کو ہم اس چھاننی سے گزارنے کے قائل نہیں۔ مجھے ڈر ہے خدانخواستہ کہیں ہماری یہ عادت ہمیں وہ دن نہ دکھا دے جب ہمارے پاس کوئی زندہ ہیرو نہ بچے! ایدھی صاحب تو چلے گئے، اب کون ہے اس قوم کا ہیرو؟۔۔۔۔۔۔۔۔ بشکریہ جنگ
khushabnews
خاتون ڈی سی او اور ڈینگی وائرس خاتون ڈی سی او اور ڈینگی وائرس Reviewed by Khushab News on 8:33:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.