اگلا آرمی چیف کون؟ نام سامنے آگیا


 لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد۔۔۔فائل فوٹو

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اورچیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود کے عہدوں کی معیاد 29نومبر 2016ءکو ختم ہورہی ہے ۔اس مدت کے خاتمہ سے قبل نئے چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر ضروری ہے ۔کئی حلقوں کی طرف سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مطالبہ بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے ،اسی طرح کے مطالبات اور افواہوں کے خاتمہ کے لئے چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے اسی سال کے آغاز میں25جنوری کو واضح کردیا گیا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع لینے کے خواہش مند نہیں ہیں ،ان کی طرف سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع لینے سے انکار کی بابت آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجواہ کی طرف سے باضابطہ اعلان بھی کیا جاچکا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 243(4)کے تحت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کے علاوہ فضائیہ اور بحریہ کے سربراہوں کا تقرر وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت کرتے ہیں ،آئینی طور پریہ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ لیفٹیننٹ جنرلز میں سے جنہیںچاہیں آرمی اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ مقرر کرنے کی ایڈوائس دے دیں جس پر عمل درآمد کے صدر مملکت پابند ہیں ۔جنرل راحیل شریف اور جنرل راشد محمود کی ریٹائر منٹ کے بعد سنیارٹی لسٹ کے مطابق جن جرنیلوں میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اورچیف آف آرمی سٹاف تعینات ہونے کا امکان موجود ہے ان میں لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد (سنیارٹی کے مطابق اقوام متحدہ کے چیف ملٹری ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد جن کا تعلق ضلع خوشاب کے چک نمبر47 ایم بی سے ہے، پہلے نمبر پر ہیں)،لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم ،لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ ،لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اورلیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجواہ شامل ہیں ، لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین ، لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان بھی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے اور چوتھے نمبر پر موجود ہیں تاہم دونوں اس وقت کسی آپریشنل کور کی سربراہی نہیں کررہے ۔لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے سربراہ ہیں جبکہ لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان کا تعلق آرمی کی انجینئرز کور سے ہے ۔ان لیفٹیننٹ جنرلوں میں سے 4لیفٹیننٹ جنرلوں لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد ،لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات ،لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین ، لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان کے موجودہ عہدوں کی میعاد13جنوری 2017ءکو ختم ہورہی ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم ،لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ ،لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اورلیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجواہ کے موجودہ عہدوں کی میعاد 8اگست 2017ءکو پوری ہورہی ہے ۔سال رواں میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے سوا کوئی جرنیل ریٹائر نہیں ہورہا تاہم اگر مذکورہ لیفٹیننٹ جنرلوں میں سے کوئی جونیئر ان دونوں عہدوں میں سے کسی ایک پر تعینات ہوجائے تو اس سے سینئر جنرل عسکری روایات کے تحت اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوجائیں گے ۔اس وقت مقصود احمد سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہیں جو اقوام متحدہ کے امن آپریشنز ڈیپارٹمنٹ میں ملٹری ایڈوائزر کے طور پر تعینات ہیں ،اطلاعات کے مطابق وہ اسی سال ستمبر میں واپس آرہے ہیں جس کے بعد ان کے نام کا جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کے لئے جائزہ لیا جانا خارج ازامکان نہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کا سنیارٹی لسٹ میں دوسرا نمبر ہے اورانہیںچیف آف آرمی سٹاف مقرر کئے جانے پر غور ہوسکتا ہے ،وہ اس وقت چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر کام کررہے ہیں ۔(ان کے دو بھائی بھی جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں ،جن میں سے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات آرڈیننس فیکٹریز کے چیئرمین اور میجر جنرل احمد محمود حیات ڈائریکٹر انیلسز آئی ایس آئی کے طور پر کام کررہے ہیں )جبکہ تیسرے سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین کے عہدہ پر تعینات ہیں ،وہ آرمرڈ کور کے کرنل کمانڈنٹ بھی ہیں ۔سنیارٹی لسٹ میں چوتھا نمبر لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان کا ہے جن کا تعلق انجینئر زکور سے ہے اور وہ ڈی جی جوائنٹ سٹاف اور انجینئرز کور کے کرنل کمانڈنٹ کے طور پر بھی کام کررہے ہیں ۔8اگست 2017ءکو عہدہ کی میعاد پوری کرنے والے بیچ میں لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم (کور کمانڈر ملتان)،لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ (ایڈجوٹینٹ جنرل جی ایچ کیو)، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے (کور کمانڈر بہاولپور )اورلیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجواہ (انسپکٹر جنرل ٹریننگ اورکرنل کمانڈنٹ بلوچ رجمنٹ )شامل ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے سابق جج خلیل الرحمن رمدے ،ایم این اے چودھری اسدالرحمن اور سینیٹرعائشہ رضا فاروق کے قریبی رشتہ دار ہیں جس کے باعث سیاسی حلقوں میں نئے چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر ان کا نام بھی گردش کررہا ہے ۔وزیراعظم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی لیفٹیننٹ جنرل کو چیف آف آرمی سٹاف یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کرسکتے ہیں ،جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے سنیارٹی لسٹ میں ساتویں نمبر پر آنے والے جنرل ضیاءالحق کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کردیا تھا ۔موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا بھی لیفٹیننٹ جنرلز کی سنیارٹی لسٹ میں تیسرا نمبر تھا۔ان کی اس عہدہ پر تعیناتی کے بعد سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم مستعفی ہوگئے تھے جبکہ سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر موجود جنرل راشد محمود کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا گیا تھا
khushabnews
اگلا آرمی چیف کون؟ نام سامنے آگیا اگلا آرمی چیف کون؟ نام سامنے آگیا Reviewed by Khushab News on 8:17:00 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.