کشمیر پالیسی






تحریر ۔۔۔۔ آصف رفیق
مشرف کے بعد انڈیا ہر فورم پہ اپنی اکانومی اور بڑی جمہوریت کے گن گاتے نہیں تھکتا ہے. پچھلے کچھ عرصے سے امید تھی کہ کشمیر ایشو پھر سے جنم لے گا اور کشمیری قوم کی قربانیوں سے ایسا زندہ ہوا کہ اب انڈین اسی پری مشرف پوزیشن پہ ہے اور پاکستان کے پچھلے دور طرح بہتر پوزیشن میں کشمیر ایشو پر سیاسی قیادت کو اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کو کھل کر اس کی جبر کی پالیسی اور دھونس کا پول کھولنا چاہیے 

 بعض لبرل عناصر کی ممکنہ بے چینی اپنی جگہ لیکن کشمیر کے حل تک ہمیں اس ظلم کو ہر جگہ ظلم کہتے رہنا چاہیے یہ صرف ہمارا اخلاقی فرض ہی نہیں بلکہ دشمن کے خلاف ہماری وار سٹریٹیجی ہے جس سے ہم اس کا مقابلہ بہتر اور مضبوط طور پر کر سکتے ہیں. ورنہ انڈیا اپنا سارا گند قالین کے نیچے دبا کر ہمارے اوپر بہت گند اچھال چکا اب ہمیں بھی اپنا ادھار چکتا کرنا چاہیے.

حکومت اور فوج ایک ایسا ماحول پیدا کرے کہ کشمیر پر ہم یک زبان اور ایک صفحے پر ہوں.اس موضوع پر سب سے اہم اور آخری گذارش کہ جنگ یا صلح ریاست کی سطح پر ہو نہ انفرادی سطح پر ورنہ پھر کسی یو ٹرن کے نتیجے میں بھگتا پڑے گا.عوام جذباتی اور اخلاقی معاون تو سکتی ہے لیکن ایسے معاملات اداروں کی سطح اور کسی باقاعدہ پالسی کے تحت ہوں نہ کہ کسی کے انفرادی ذہن کی پیداوار ہوں .
کسی بڑے کی یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہے کہ غلطی کبھی بانجھ نہیں ہوتی یہ ہمیشہ انڈے بچے دیتی رپتی ہے ... پاکستان زندہ باد
۔۔۔۔۔۔
آصف رفیق ضلع خوشاب کے چک نمبر47ایم بی سے تعلق رکھتے ہیں اور غم روزگار انہیں دنیا کے کئی ممالک میں لے گیا آجکل کانگو میں مقیم ہیں ۔ ملک سے دور دیار غیر میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کی طرح وطن عزیز کے حالات بارے متفکر رہتے ہیں او ور وطن سے محبت کے ہاتھوں مجبوراپنی اس بے چینی و سوچ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ یا بلاگ کے ذریعے اظہار کرتے رہتے ہیں فکری طور پر رائیٹسٹ سکول آف تھاٹ سے متاثر وتعلق رکھتے ہیں  ’’ اعتدال‘‘ اور توازن انکی تحریروں کا خاصہ ہے
khushabnews
;
کشمیر پالیسی کشمیر پالیسی Reviewed by Khushab News on 6:14:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.