اردگان ازم





اردگان ازم۔۔۔۔ آصف رفیق

‏پچھلے ہفتے ہی اردگان کے بارے ایک فیچر پڑھا تھا جس میں اردگان ازم کی اصلاح استعمال کی گئی تھی اور اسے جابر حکمران کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور اس کے طرز حکمرانی کو مکمل آمریت لکھا گیا. پھر کل رات اچانک بغاوت کی کوشش ایسے تاثر کو اور گہرا کر گئی کہ کہیں نہ کہیں کچھ پک رہا تھا جو اس حد کو چھو گیا کہ مارشل لا کی ناکام کوشش کی شکل میں ظاہر ہوا. 
ترک عوام کی مداخلت اور قربانی نے اسے بری طرح شکست دی اور لوگ عوامی عملداری کا پرچم تھام کر طالع آزماؤں سے بھڑ گئے اب اس پر بہت لمبی چوڑی بحثیں اور مطالعہ چلتا رہے گا لیکن جو چند باتیں اس کی کامیابی کا مظہر ٹھہریں اس پہ بات کرتے ہیں.
‏بڑی عجیب بات ہے جو کہی جاتی ہے کہ اردگان نے ڈیلور کیا تو اس کی مخالفت نہیں ہوئی بلکہ اپوزیشن اور فوجی سربراہ نے مخالفت کے باوجود بغاوت کا انکار اور مزاحمت کی. اگر ڈیلوری ہی اصل کنجی ہے تو پھر حالات کا بغاوت تک چلے جانا اس ضمانت پر سوالیہ نشان ہے. 
‏کل سے آج تک کی ساری کاروائی ترک عوام کے جمہوریت پہ پختہ یقین کا اظہار اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ڈیلور کرنے کے باوجود بھی بغاوت ہو سکتی ہے جسے آپ کے کارنامے نہیں بلکہ عوامی حمایت اور شعور کی طاقت سے ہی ناکام کیا جا سکتا ہے. 
‏لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ جب آپ ادارے مضبوط کرتے ہیں تو ان اداروں کا تقدس پامال کرنے کی کسی بھی کوشش پر لوگ اپنے ہی ساتھیوں پر عدم اعتماد کر دیتے ہیں اور لوگ ایک آواز پر ان کے دفاع کے لیے آپ کا ساتھ اور قربانی دیتے ہیں.
سب سے اہم بات یہ کہ ‏جب قوم ہر کسی کی ڈگڈکی پہ ناچے اور ہر طالع آزما کے ہاتھ چومے تو پھر کسی سے لیڈر شپ کی توقع بھی عبث ہے کہ لیڈر بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا ہے لیکن اگر قوم ‏چندگھنٹوں میں بغاوت کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن جاۓ بےدریغ ٹیکنوں کے آگ لیٹ جاۓ بیرل کے آگے سینہ رکھ دے دو سو جانوں کا نذرانہ پیش کرے تب جا کے ایک اردگان ملتا ہے. 
‏قربانی اور شہادت عزت و شرف کا باعث ہوتی اور جرم ضعیفی کی سزا نسلیں بھگتتی ہیں. عزت اور وقار کمانا پڑتا ہے خیرات میں کبھی نہیں ملتا.

۔۔۔۔۔۔
آصف رفیق ضلع خوشاب کے چک نمبر47ایم بی سے تعلق رکھتے ہیں اور غم روزگار انہیں دنیا کے کئی ممالک میں لے گیا آجکل کانگو میں مقیم ہیں ۔ ملک سے دور دیار غیر میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کی طرح وطن عزیز کے حالات بارے متفکر رہتے ہیں او ور وطن سے محبت کے ہاتھوں مجبوراپنی اس بے چینی و سوچ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ یا بلاگ کے ذریعے اظہار کرتے رہتے ہیں فکری طور پر رائیٹسٹ سکول آف تھاٹ سے متاثر وتعلق رکھتے ہیں  ’’ اعتدال‘‘ اور توازن انکی تحریروں کا خاصہ ہے
khushabnews
اردگان ازم اردگان ازم Reviewed by Khushab News on 9:15:00 AM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.