قندیل بلوچ پر اب تک کی بہترین تحریر





بُڈھے بلوچ کا خط، وسیم کے نام



مبارک باد! برخوردار!
تم نے قوم کا سَر اَور اُونچا کردیا۔
بے حد مبارک ہو!
یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں
وہ بچّی تھی
ذرا معصوم تھی
بس اس لیے
بے خوف کہہ دیتی تھی
جو کچھ منہ میں آتا تھا
کبھی بھی
اس طرح کے احمقوں کی
بات پر تم کان مت دھرنا!
ہمیشہ یاد رکھنا!
سب سے پہلے قوم، پھر اسلام
اس کے بعد پاکستان آتاہے۔
ہمیں سَسّی سے لے کر
فوزیہ قندیل تک
ہرایسی عورت کوہمیشہ قتل کرناہے
جو اپنی انفرادی ذات کی پہچان کا ادراک رکھتی ہو
جِسے اظہارِ ہستی کی تمنّا تنگ کرتی ہو
ہم ایسے اُونٹ کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں
جو اپنے جھُنڈ، اپنی ڈار سے آگے نکل جائے
تمہاری بہن تو مشہور ہوکر مرگئی
اور استعارہ بن گئی، غیرت پہ ہمّت کا
یہی اچھا نہیں، اچھانہیں، اچھا نہیں بالکل
وگرنہ اِس سے پہلے
ہم سب ایسی فوزیائیں ماردیتے تھے
جنہیں قندیل بننے کی تمنّا تھی
تمہاری بہن تو اب استعارہ ہے
وہ اب قندیل بن کر جگمگانے لگ گئی ہے
آسمانِ عزم و ہمّت پر
ستم یہ ہے گواہی بھی نہیں ملتی کہ وہ بدکار تھی۔
بس اتنا ثابت ہے کہ وہ
مُنہ پھٹ تھی اور،
بدنام تھی لیکن بہادر تھی۔
یہاں ہم نے بھی اِک جرگہ بٹھایا تھا
ہمارا فیصلہ یہ تھا کہ وہ بس نام سے
اُن چار حرفوں کو ہٹادے
جو ہماری قوم کی تشہیر کرتے تھے
مگر اب تو ہمیشہ کے لیے وہ حرف کَندہ ہوگئے
تاریخ کے سفّاک چہرے پر
بلوچوں کی کہانی میں کئی بے نام قندیلیں تو تھیں
لیکن یہ اب اِک نام والی،
تُند شعلوں سے جلی قندیل روشن ہوگئی ہے اے بہادرخاں!
وہ زندہ ہوگئی ہے میرے برخودار!
اب تاریخ لکھے گی
کہ جب تاریک راہوں کے مسافر
روشنی کی اِک کرن تَک کو ترستے تھے
تو اِک قندیل ایسی جل اُٹھی
جس کا ہراک شعلہ
جہنم سے براہِ راست آیاتھا
وہ اِک شعلہ جو ہرشئے کو جلانے کے لیے اُترا
وہ جس نے سُورماؤں کے تکبّر کو جلا ڈالا
وہ جس نے مذہبی، خونخوار، وحشی، پارساؤں کی
اَنا کو راکھ کر ڈالا
وہ اِک شعلہ کہ جس نے
رہبروں، چِٹ کَپڑیوں
اور مُلک و ملّت کے سیاستدان سرداروں کی
جھُوٹی، کھوکھلی عزت کو جیسے بھُون ڈالا
خاک کرڈالا
خدا کا شُکرتو یہ ہے
کہ اُس کی جاں بچانے اِک ’’محافظ‘‘ بھی نہیں آیا
تمہاری بہن تو خط لکھ چکی تھی
اور حکومت سے تحفظ مانگنے کی بات کرتی تھی
خدا کا شُکر ہے کوئی نہیں آیا
وہ مرتی مر گئی
قندیل جلتی جل گئی
لیکن نہیں آیا
کوئی بھی تو نہیں آیا
مبارک باد! برخوردار!
لیکن بس یہی افسوس باقی ہے
کہ اس کا نام زندہ ہے
تمہاری بہن سے ہی اب ہمیشہ
لوگ تم کو یاد رکھینگے
تمہارا نام بھی مشہور ہونا تھا
تمہیں پہچان ملنی تھی
کہ ’’یہ قندیل کا بھائی ہے‘‘۔
یہ پہچان اب رہتے جہاں تک
ہم بلوچوں کے لیے سَسّی کی تنہا موت سے
قندیل کی آزاد سانسوں تک
ہمارے ساتھ رہنی ہے
وہ جتنی مرگئیں
جب جب تک اُن کے نام زندہ ہیں
ہمارا نام زندہ ہے
ادریس آزاد
ادریس آزاد

ادریس آزادؔ، کا تعلق خوشاب سے ہے پاکستان کے معروف لکھاری ، شاعر ، ناول نگار، فلسفی ، ڈرامہ نگار اور کالم نگار ہیں ۔ انہوں نے فکشن، صحافت ، تنقید، شاعری ، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا پیدائشی نام "ادریس احمد" ہے لیکن اپنے قلمی نام "ادریس آزادؔ" سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کیں ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں
۔۔۔۔
انکی یہ نظم محض قارئین کی دلچسپی کی خاطر شائع کی جارہی ہے
khushabnews
قندیل بلوچ پر اب تک کی بہترین تحریر قندیل بلوچ پر اب تک کی بہترین تحریر Reviewed by Khushab News on 9:23:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.