جہوریت کی بدبو دار بغلیں




چوراہا۔۔۔۔۔حسن نثار

انتہا کی انتہا کیا؟
کرپشن، دو نمبری، جعلسازی، ہیرا پھیری، ٹھگی وغیرہ کی ہر خبر کے بعد میں سوچتا ہوں کہ بس بھئی بس، اب کام اس سے اوپر یا نیچے نہیں جاسکتا لیکن ہر بار غلط ثابت ہونے کے بعد شرمندہ سا ہو کر سوچتا ہوں..... ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘ اور بہت سے ایسے آسمان اور ستارے ابھی باقی ہیں جن پر کمندیں ڈالنے کا چیلنج موجود ہے۔ دو خبریں تو خاص طور پر ایسی تھیں جن کے بعد میں نے سوچا کہ اب شیطان ذاتی طور پر زمین پر اتر آئے تو ’’بقلم خود‘‘ بھی ان سے بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتا مثلاً مردہ گدھوں کے جبڑوں کی تجارت کہ ان مردہ جانوروں کے جبڑوں سے دانت نکال کر گرائنڈ کرنے کے بعد انسانوں کو لگائے جاتے ہیں یا مردہ جانوروں کی انتڑیوں سے خوردنی تیل تیار کرنے کی ’’ٹیکنالوجی‘‘ لیکن تازہ ترین واردات کے بعد تو میں نے قسم اٹھا لی ہے کہ ایسی تخلیقی خبروں پر آئندہ توجہ نہیں دوں گا کہ اعصاب کی مضبوطی کے مزید امتحان کا میں متحمل نہیں ہوسکتا۔ واقعی ہمارے ہاں ’’ٹیلنٹ‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ ہم وہ وہ کچھ ’’ایجاد‘‘ اور ’’دریافت‘‘ کرسکتے ہیں جس کا باقی کوئی کمیونٹی تصور بھی نہیں کرسکتی۔ 
صرف دو دن پہلے کراچی میں ایسٹ زون کی پولیس موبائل چار لاکھ روپے ماہانہ کرائے پر دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ پولیس موبائل کرائے پر لے کر جرائم پیشہ لوگ اغوا سمیت دوسری چھوٹی موٹی وارداتیں کرتے تھے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سی آئی اے کو جامع انکوائری کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پولیس موبائل کرائے پر دیئے جانے کی اطلاعات نے کراچی پولیس افسران کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمشید کوارٹرز تھانے کےافسران رات کو یہ موبائل وین کرائے پر دیتے جو علی الصبح واپس لے لی جاتی۔ کرائے پر لینے والے معززین پولیس کی وردیاں پہننے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں شکار کھیلتے۔ اِدھر اُدھر سے لوگوں کو اٹھا کر کچھ دیر اِدھر اُدھر گھمانے ڈرانے کے بعد ان کےگھر والوں سے ’’جرمانہ‘‘ کی رقم وصولنے کے بعد انہیں ’’رہا‘‘ کر دیتے۔ اس انتہائی تخلیقی واردات کو ’’شارٹ ٹرم کڈنیپنگ‘‘ کا خوبصورت عنوان دیا گیا ہے۔ یادرہےکہ یہ لوگ اور قسم کی وارداتوں میں بھی ملوث تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی وردیوں میں ملبوس یہ جعلی پولیس والے اور اصلی جرائم پیشہ لوگ صرف پولیس کی موبائل وینیں ہی نہیں سرکاری اسلحہ بھی کرائے پر حاصل کرتے تھے۔
یہ تو ایک گینگ تھا جو پکڑا گیا۔ 
نجانے اور کتنے گینگز اس کاروبار میں ملوث ہوں گے۔ 
اور نجانے اس ملک کے کس کس شہر میں کیسے کیسے گینگز ایسی ہی کیسی کیسی تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے؟ میں عرصہ ٔ دراز سے محو ماتم ہوں کہ ہمارا مسئلہ اقتصادیات نہیں اخلاقیات کی افقی اور عمودی تباہی و بربادری ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا اور ہو رہا ہے کہ ہمارا ٹاپ مکمل طور پر گل سڑ چکا ہے۔ چینیوں کا اک گھسا پٹا زبان زدعام سامحاورہ ہے کہ ’’مچھلی سر کی طرف سے سڑنا گلنا شروع کرتی ہے‘‘ ہمارا بالائی طبقہ، نام نہاد اشرافیہ جسے حکمران طبقات بھی کہا جاتا ہے، بدی، بدصورتی اور برائی کے ایسے ایسے ریکارڈ قائم کرچکا ہے کہ اب یہ ابلیسیت نچلی ترین سطحوں پر بھی عام نہیں مقبول ترین ہوچکی ہے۔ سیون سٹار مجرم ایک طرف باقاعدہ مجرموں کو جنم دے رہے ہیں تو دوسری طرف بھوک ایسے ایسے ’’کام‘‘ اور ’’دھندے‘‘ ایجاد کررہی ہے کہ انہیں سرانجام دینے والے مظلوموں کو مجرم کہتے ہوئے بھی خوف آتا ہے مثلاً بہت سے بے ہنربیروزگار لوگ سلاٹر ہائوسز سے چھیچھڑے اکٹھا کرکے انہیں شاپروں میں ڈال کر بطور ’’صدقہ کا گوشت‘‘ بیچتے ہیں جنہیں سستے داموں خرید کر کوئوں،چیلوں، آوارہ کتوں کے آگے ڈال کر غریب آدمی صدقہ دینے کا شوق پوراکرلیتا ہے۔ 
پچھلے دنوں میں نے ہسپتالوں کی ویسٹ سے بننے والے پلاسٹک کے گھٹیا خطرناک برتنوں کی فروخت کا رونارویا تھا۔ اس سے پہلے اس پر ماتم کیا تھا کہ انتہائی کم سن بچے کرائے پر لے کر انہیں افیون چٹانے کے بعد ان معصوم زندہ لاشوں کو دکھا کر بھیک مانگنے کا کام زوروں پر ہے لیکن.....
’’مردناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر‘‘
ڈار صاحب کہتے ہیں کہ معیشت ترقی کر رہی ہے اور زرمبادلہ سنبھالا نہیں جارہا۔
جمہوریت ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی پر بدبودار بغلیں بجا رہی ہے۔
کشمیر میں الیکشنز اپنے عروج پر ہیں۔
کہیں پاناما چل رہا ہے۔
اور میں میکرو لیول کے مسائل سے بے خبر مائیکرو لیول کی لغویات میں الجھا یہ سوچتا رہتا ہوں کہ انتہا کی انتہا کیا ہوتی ہے؟ اور جب ہو جاتی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے؟
بشکریہ جنگ
khushabnews
;
جہوریت کی بدبو دار بغلیں  جہوریت کی بدبو دار بغلیں Reviewed by Khushab News on 1:51:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.