پاکستانی عوام کی توہین



ذرا ہٹ کے۔۔۔۔۔ یاسر پیر زادہ

مٹھائیاں بانٹنے والے

یہ مٹھائیاں بانٹنے والے آخر مٹھائی بانٹنے کے بعد غائب کہاں ہو جاتے ہیں؟12اکتوبر 1999کو جب ملک میں آمریت آئی تو سولہ کروڑ آبادی کے اس ملک میں زیادہ سے زیادہ چند سو لوگوں نے مٹھائیاں بانٹی ہوں گی جن کی خبر نہایت ’’اہتمام ‘ ‘ کے ساتھ اگلے روز ایک اخبار میں شائع کروائی گئی ، کیا اسے کروڑوں لوگوں کی نمائندگی سمجھا جائے ؟ اگر پورے ملک میں مٹھائیاں بٹی ہوتیں تو فوجی آمرکو نہ سہی کم از کم اُس کا حمایت یافتہ ٹولہ ہی ملک میں فتح مند ہوجاتا مگر اُن کا تو عوام نے دھڑن تختہ کر دیا۔۔۔۔۔کہاں گئے مٹھائیاں بانٹنے والے ؟ اور جن صاحبان کو دوبارہ مٹھائی کھانے کا شوق چرایا ہے اُن سے گزارش ہے کہ پہلے وہ آرٹیکل چھ کے بغاوت کے مقدمہ میں خود کو بطور شریک ملزم پیش کریں کیونکہ اُن کے بقول 12 اکتوبر کو انہوں نے مٹھائی ڈکاری تھی ،سو اُس مٹھائی کا حق بھی اب ادا کریں !ہمارے وہ دانشور جو ارسطو سے بھی زیادہ عقل مند ہیں اکثر اِس مٹھائی والی مثال کو جمہوریت کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتے ہیں ، اِن سے ایک سادہ سوال ہے کہ جس شخص کی آمد پر بقول آپ کے ’’عوام ‘ ‘ نے مٹھائیاں بانٹی تھیں ،اُس شخص کے خلاف آئین کی شق چھ کے تحت بغاوت کا کیس زیر سماعت ہے اور ملزم کوعدالت بھگوڑا قرار دے چکی ہے ۔۔۔۔۔تو حضور ،کیا آپ سنجیدگی سے اِس شخص کی آمد پر مٹھائیاں بٹنے کی بات کر تے ہیں!!! اگر ایسا ہے تو میرے پاس سوائے ماتم کرنے کو کوئی آپشن نہیں کیونکہ غیر آئینی یا غیر قانونی کام پر کتنے ہی لوگ تالیاں پیٹ لیں اُس کا کلنک نہیں مٹ سکتا۔ جمہوریت کے ساتھ زیادتی آمریت کو جنم دیتا ہے ، جو لوگ اِس پر مٹھائی بانٹنے کی بات کرتے ہیں وہ دراصل پاکستانی عوام کی توہین کرتے ہیں ۔
جس دن سے برادر ملک ترکی میں فوجی بغاوت ناکام ہوئی ہے، اپنے ہاں کے کچھ تجزیہ نگارجو مٹھائی کے انتظار میں بیٹھے تھے ، اب مایوس ہو کر ریوڑیاں کھا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو حوصلہ دے کر کہہ رہے ہیں ’’یہ بھی بالکل مٹھائی کی طرح میٹھی ہے ! ‘ ‘ اب تو مجھے ان پر ترس آنے لگا ہے، کب سے بیچارے حکومت جانے کی پشین گوئیاں کر رہے ہیں، انہوں نے اتنی تاریخیں دی ہیں کہ اب تو کیلنڈر میں تاریخیں ختم ہو گئی ہیں، اِن کے جمہوریت کیخلاف جتنے دلائل تھے سب ناکارہ ثابت ہو چکے ، جمہوریت کو گالیاں دے دے کر تھک چکے ہیں مگر اِن کی تمام آہ وبکاکے باوجود کسی نے اِن کی غیر آئینی خواہشات پر کان نہیں دھرے۔آمریت کے دفاع میں جو تاویلیں اِن دانشوروں نے دیں وہ تو خود کبھی کسی فوجی آمر نے نہیں دیں ، جو ڈکٹیٹر بھی آیا اسے طوعاً و کرہا ًجمہوریت ہی بحال کرنی پڑی اور یہ صرف اور صرف پاکستانی عوام کی جدو جہد کی بدولت ہوا۔ ان تجزیہ نگاروں کا طریقہ واردات بڑا دلفریب ہے جو عام آدمی کو بہت ’’اپیل ‘ ‘ کرتا ہے کہ اس ناکارہ سسٹم کو گالیاں دو ، جمہوریت کو اس کا ذمہ دار ٹھہراؤ ، لوگوں کو باور کرا دو کہ ان کی تمام تر مصیبتیوں کے ذمہ دار سول حکمران ہیں ، نتیجے میں آمریت کی را ہ خود بخود ہموار ہو جائے گی۔لیکن ایسا کرتے ہوئے ارسطو کے یہ اتالیق بھول جاتے ہیں کہ ان کی دلیلیں اُس سیکنڈ ہینڈ ٹائر کی طرح ہیں جو کم قیمت کی وجہ سے پرکشش تو لگتا ہے مگر بیچ سڑک میں پھٹ جاتا ہے ۔ترکی کی ناکام فوجی بغاوت والے دن پہلے تو ہمارے یہ بزرجمہر جمہوریت کے حق میں با امر مجبوری تھوڑا بہت منمنائے ، بہت مشکل سے ان کے منہ اور قلم سے جمہوریت کے حق میں کچھ جملے برآمد ہوئے ، اس کے بعد انہوں نے نیا راگ الاپنا شروع کیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ ترکی اور پاکستان میں بہت فرق ہے ، وہاں طیب اردوان نے ’’ڈیلیور ‘ ‘ کیا ہے اس لئے بغاوت ناکام ہوئی ، وہاں پوری فوج نہیں بلکہ ایک چھوٹے گروہ نے بغاوت کی کوشش کی اس لئے کامیاب نہ ہو سکی ، اُن کے حکمران کرپٹ نہیں اس لئے وہاں لوگ سڑکوں پر نکل آئے یہاں نہیں نکلیں گے ! بندہ اِن سے پوچھے کہ ان باتوں سے آپ کا مقصد کیا ہے ، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ، آپ کی اصل میں خواہش کیا ہے ؟ شف شف کیا سیدھی طرح شفتالو کیوں نہیں کہتے !
کچھ قابل احترام تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ طیب اردوان ترکی میں بہت مقبول تھا، اس نے ترکی کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا ، اس نے معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر دیا ، اس لئے لوگ جمہوریت کے دفاع میں نہیں بلکہ اردوان کی محبت میں نکل کھڑے ہوئے ۔ کیا کہنے اس دلیل کے۔ گویا ترک عوام جو خود اپنے ملک میں جمہوریت کے دفاع کا کریڈٹ لے رہے ہیں اُن کی بات نہ مانی جائے بلکہ ہمارے نوم چومسکیوں کی بات مان لی جائے ۔ دلیل کے بودے پن کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ترکی میں اردوان کے بد ترین مخالف بھی فوجی بغاوت کے خلاف سینہ سپر ہو گئے تو کیا راتوں رات انہیں اردوان سے عشق ہو گیا تھا ؟رہی بات ترک لیڈر شپ ، گڈ گورننس اور عوامی مقبولیت کی تو اس پر نوجوان اینکر شاہ زیب خانزادہ نے جیو پر جو پروگرام کیا اُس میں بتایا کہ میگا کرپشن کے کیسے خوفناک الزامات ہیں وہاں کی حکومت پر،صحافیوں پر دو ہزار سے زائد مقدمے ہیں ، میڈیا اور عدلیہ کی آزادی پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم ہے ، صدر صاحب نے اپنے لئے دنیا کا سب سے بڑا صدارتی محل تعمیر کروارکھاہے ، موصوف کی مقبولیت اگر پچاس فیصد ہے تو اتنے ہی لوگ اس سے نفرت بھی کرتے ہیں ۔ان باتوں کو صرف نظر کرتے ہوئے ہمارے بعض مبصرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ چونکہ ترکی میں فلاں فلاں اعدادو شمار پاکستان سے بہتر ہیں اس لئے وہاں لوگ فوجی بغاوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، پاکستان میں ایسا نہیں ہے ۔ بھئی آپ کا نقطہ کیا ہے ، کیا بیچنا چاہتے ہیں آپ ، اس جعلی موازنے سے کیا نکالنا ہے آپ نے ؟یہ لوگ ان بات کا جواب نہیں دیتے اور اعداد و شمار توڑ مروڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ترکی میں پہلے جتنی مرتبہ بھی فوجی بغاوت کامیاب ہوئی اس وقت بھی معیشت وغیرہ کےیہ اعداد و شمار پاکستان سے بہتر ہی تھے لہٰذا یہ دلیل بھی ناقص ہے ۔
اپنے ملک میں آمریت کے پیروکار وں سے اگرماضی کے ہر آمر کے بارے میں فرداً فردا ً رائے لی جائے تو کوئی اِن آمروں کو ملک توڑنے کا ذمہ ٹھہرائے گا تو کوئی انہیں ملک کو دہشت گردی کی بھٹی میں جھونکنے کا ملزم بتائے گا، حیرت ہے کہ اس کے باوجود جانتے بوجھتے ہوئے یہ لوگ ہماری نظروں کے سامنے لولی لنگڑی جمہوریت کو لتاڑتے ہیں اور اُن سیاست دانوں کو ہر برائی کی جڑ قرار دیتے ہیں جنہوں نے ملک بنایا ، جن کے زمانے میں گوادر پاکستان کا حصہ بنا ، جن کے زمانے میں پچاس ہزار مربع کلومیٹر کا سمندری رقبہ پاکستان کے حصے میں آیا (جی ہاں ، یہ کارنامہ 2015کا ہے )، جن کے زمانے میں نوے ہزار قیدی بھارت سے چھڑائے گئے اور جن کے زمانے میں بھارت سے جنگ میں ہارے ہوئے وہ علاقے واپس لئے گئے جن کا رقبہ شام کی گولان ہائٹس سے زیادہ تھا، وہ گولان ہائٹس جسے پوری عرب دنیا مل کر بھی اسرائیل کے قبضے سے آج تک آزاد نہیں کروا سکی ۔ اگر اب بھی ہمارے یہ تجزیہ نگار آمریت کا راگ الاپیں تو ۔۔۔کوئی شرم ہوتی ہے ۔۔کوئی !
بشکریہ جنگ
khushabnews
پاکستانی عوام کی توہین پاکستانی عوام کی توہین Reviewed by Khushab News on 1:27:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.