اب تو مٹھائیاں بٹ ہی جائیں



برملا ۔۔۔۔۔۔ نصرت جاوید



ایک بار پھر مٹھائیاں بٹ ہی جائیں



فوجیوں کے ایک گروہ کی بغاوت ترکی میں ناکام ہوگئی ہے۔ اس کے تناظر میں لیکن ایک احمقانہ بحث بڑی شدومد کے ساتھ پاکستان میںشروع ہوگئی ہے۔ اس بحث کوتقویت ہمارے ایک بہت ہی قدآور اور عوامی سطح پر بے پناہ مقبول عمران خان نے ان کلمات کے ذریعے فراہم کی جو لندن سے وطن لوٹتے ہی انہوں نے آزادکشمیر کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ادا کئے تھے۔
ان کلمات کی طرف لوٹنے سے پہلے مجھے اپنے ذہن میں اس وقت آیا یہ خیال بھی بیان کرلینے دیجئے کہ ہمارے کپتان کو ہر صورت ایک پنجابی لطیفے والی ’’غلیل بنانا‘‘ ہے۔ نواز حکومت سے کسی بھی صورت نجات عمران خان کی ’’غلیل‘‘ہے اور اسی کے تناظر میں پنجابی محاورے کی وہ خواہش بھی یاد آجاتی ہے جس میں ’’نکوں نک‘‘ آیا ایک فریق ہر صورت اپنے دشمن کی دیوار کو گرانا چاہتا ہے۔ خواہ اس کے نتیجے میں وہ خود اس کے ملبے تلے دب جائے۔
نواز حکومت کو سخت الفا ظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان نے جوشِ خطابت میں یہ اعلان بھی کر ڈالا کہ اگر پاکستانی فوج نے موجودہ حکومت کا تختہ الٹا تو عوام ترکوں کی طرح مزاحمت کے لئے سڑکوں پر نہیں آئیں گے ۔ خوشی سے مٹھائیاں بانٹنا شروع کردیں گے۔
عمران خان کی کئی باتوں سے مجھے شدید اختلاف ہے۔ یہ دعویٰ ان کا مگر سو فیصد درست ہے کہ نواز شریف کو فوجی مداخلت کے ذریعے ایک بار پھر گھر بھیج دیا گیا تو مزاحمت نہیں ہوگی مٹھائیاں بٹیں گی۔ اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشروں میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو سے نجات پانے کے لئے نوستاروں والا اتحاد بنا تھا۔ اس اتحاد کی بدولت ملک میں ’’خانہ جنگی‘‘ کے خدشات ابھارے گئے۔ 4جولالئی 1977ء کی رات جنرل ضیاء الحق نے نظر بظاہر ’’خانہ جنگی‘‘ کے ان ہی امکانات کو ختم کرنے کے لئے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ بھٹو کو ہٹاکر وہ منظر عام پر آئے تو مٹھائیاں بٹیں۔ مٹھائیاںتو اسی آمر کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو کو 4اپریل 1979ء کی صبح ہوئی پھانسی کے بعد بھی بٹی تھیں۔ اور یہ مٹھائیاں اس معاشرے میں بٹیں جو خود کو بڑی شاندار روایات کا حامل قرار دیتا ہے۔ اس کی ’’شان دار‘‘ روایات میں سے ایک ’’دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مرجانا‘‘ والی بات بھی ہے۔ اندھی عقیدت اور نفرتوں میں تقسیم ہوئے معاشرے میں لیکن روایات باقی نہیں رہتیں۔ ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوکر اس معاشرے کا ہر رکن آپادھاپی میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ عقل ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ ذہنوں پر وحشت سوار ہوجاتی ہے۔عمران خان نے اپنے معاشرے کی ٹھوس حقیقتوں کو اپنی ’’غلیل‘‘ بنانے کی دھن کے ساتھ ملاکر مٹھائیاں بٹنے والی بات بے ساختہ کہی تھی۔ یہ بات ٹی وی چینلز کے کیمروں پر ریکارڈ بھی ہوئی۔ عمران خان کی اندھی عقیدت میں مبتلا ان کی جماعت کی ترجمان سمجھے جانے والی ڈاکٹر شیریں مزاری نے مگر آزادکشمیر میں ہوئے جلسہ عام کے چند ہی گھنٹوں بعد ہوئے طلعت حسین کے پروگرام میں انتہائی سادگی سے یہ اعلان کردیا کہ عمران خان نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔
ایک سچے لیڈر کی طرح عمران خان اس وضاحت پر بجائے مطمئن ہونے کے مزید چراغ پا ہوگئے۔ پیر کے دن انہوں نے آزادکشمیر میں ایک نہیں بلکہ تین جلسوں سے خطاب کیا اور نواز شریف کیخلاف کسی فوجی اقدام کی صورت میں مٹھائیاں بٹنے والی بات کو Moreover کے انداز میں دہرایا ۔ ان کی یہ بات دہرانے کے بعد بھی شاہ محمود قریشی اب وضاحتیں دیتے پائے جارہے ہیں۔ بات وہی ہے۔ اندھی عقیدت والی۔
ہمارے سیاسی رہ نما، سوچ سمجھ کر طویل بحثوں کے بعد پالیسیاں بنانے والی جماعتوں کے رہ نما نہیں ہیں۔ وہ اُردو اور شاعری والے ’’محبوب‘‘ ہوا کرتے ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اور کہیں،ان کے پجاریوں کوان کا ہر صورت دفاع کرنا ہے۔ میری اگرچہ اب یہ شدید خواہش ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر مٹھائیاں بٹ ہی جائیں۔ یہ مٹھائیاں جس دیوار کے گرنے کی وجہ سے بٹیں گی اس کے ملبے تلے عمران خان بھی یقینا موجود ہوں گے۔ انہیں وہاں دیکھ کر ’’اسی باعث تو…‘‘ کہتے ہوئے میرے قنوطی ذہن کو تھوڑی طمانیت نصیب ہوجائے گی۔
ترکی میں ہوئی ناکام بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے اس کے خلاف ٹویٹر وغیرہ پر تصاویر کے ذریعے نظر آنے والی مزاحمت پر شاداں وخرحاں نواز شریف صاحب کے پجاریوں کو بھی مجھے اطلاع صرف یہ دینا ہے کہ فوج کی جانب سے ہوا "Institutional Coup"کبھی ناکام نہیں ہوا کرتا۔ اس کی فوری مزاحمت شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وقتی اور فوری طورپر سکھ اور چین کو بے تاب شہریوں کی اکثریت بلکہ اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خوشی اور اطمینان کا یہ احساس بتدریج مایوسی اور بعدازاں نفرت میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
ایوب خان 1958ء میں نمودار ہوئے تھے۔ مایوسی ان کی بابت دوسال بعد ہی شروع ہوگئی ۔ بعدازاں 1964ء میں جو صدارتی انتخاب ہوا اس میں عوام کی اکثریت اور سیاسی جماعتیں اپنے باہمی اختلافات بھلا کر مادرِ ملت کی قیادت تلے اکٹھا ہوگئیں۔ ایوب خان یہ انتخاب جیت گئے۔ انہیں اپنی جیت کے بارے میں لیکن شدید احساسِ ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے نجات پانے کے لئے انہوں نے کشمیر کو آپریشن جبرالٹر کے ذریعے آزاد کروانا چاہا۔ کشمیر تو آزاد نہ ہوا البتہ 1965ء والی جنگ ہوگئی جسے تاشقند معاہدے کے ذریعے ختم کرنا پڑا۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعدایوب خان کبھی سنبھل نہ پائے۔ کافی دل شکستہ ہوکر بالآخر ایوانِ صدر چھوڑ جانے پر مجبور ہوگئے۔
جنرل ضیاء کے اقتدار پر قبضے کے تین سال بعد ہی بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کے خواہش مند اصغر خان ، بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ بیٹھے تحریکِ بحالی جمہوریت چلانے کو تیار ہورہے تھے۔ ضیاء الحق کی خوش بختی کہ انہیں ’’افغان جہاد‘‘ نصیب ہوگیا۔ افغان عوام کو ’’آزادی‘‘ دلانے کی خاطر ضیاء الحق کو کئی برسوں تک اصغر خان کو ان کے ایبٹ آباد والے گھر میں نظر بند رکھنا پڑا۔’’انتخاب سے پہلے احتساب‘‘ کا نعرہ لگاکر ضیاء الحق کے ابتدائی دور کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والے ولی خان بھی ’’جہاد‘‘ کے دنوں میں اکثر اپنے گائوں تک محدود کردئیے جاتے۔ بالآخر روسی افواج افغانستان سے بھاگ گئیں۔ امریکہ نے سرد جنگ کو ہمارے خطے میں کلاشنکوف اور مذہب کے نام پر جنون پھیلاکر ’’گرم‘‘ جنگ میں تبدیل کردیا۔ اس کی جیت ہوئی مگر اس جیت کے اصل ’’غازی‘‘ ایک طیارے کے حادثے کی نذر ہوکر شہید ہوگئے۔
مٹھائیاں جنرل مشرف کے آنے پر بھی بٹی تھیں۔ سات نکاتی ایجنڈے کے ساتھ اس ملک کو ’’ٹھیک‘‘کرنے کا عہد کرنے والے کمانڈو مگر جس انداز میں رخصت ہوئے اس کا ذکر ضروری نہیں کیونکہ یہ تو گویا گزرے کل ہی کی بات ہے۔ان دنوں موصوف پاکستانی عدالتوں کی نظر میں ’’اشتہاری‘‘ ہوا کرتے ہیں۔ہمارا مستعد میڈیا بھی ان کا کھوج لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ قندیل بلوچ کو فوزیہ عظیم ثابت کرنے میں زیادہ مستعدی دکھاتا ہے۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرنا چاہتا۔اندھی عقیدت ونفرت میں تقسیم ہوئے معاشروں میں تاریخ کو اسی لئے خود کو دہرانا پڑتا ہے۔ میں ہرگز حیران نہیںہوں گا اگر ہمارے ہاں بھی تاریخ اپنا تازہ ایڈیشن متعارف کروانے کو تیار بیٹھی ہو۔ اس تازہ ایڈیشن کے امکانات کو مٹھائیاں بانٹنے والی فروعات تک محدود کردینا بھی تو مناسب بات نہیں۔اندھی عقیدت ونفرت سے ذرا بچ کر  بگ پکچرپر غور کرلینے میں بھی کوئی ہرج نہیں۔ آغاز میں مٹھائیاں مگر انجام؟ اس پر غور کرلینا بھی ضروری ہے۔
بشکریہ نوائے وقت
khushabnews
;
اب تو مٹھائیاں بٹ ہی جائیں اب تو مٹھائیاں بٹ ہی جائیں Reviewed by Khushab News on 2:16:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.