صحافی کا قلم اور حجام کا استرا



ناتمام۔۔۔۔۔ ہارون الرشید

مشتری ہشیار باش

جہاد اکبر! جناب والا، جہاد اکبر۔مسلمان کے لیے احمق اور جذباتی ہونا ضروری نہیں۔ مشتری ہوشیار باش!
نواب زادہ نصراللہ خان احراری تھے، پکے احراری۔ کشمیر مگر ان کے دل میں بستا تھا۔نواب زادہ کی ''شامِ غریباں‘‘ اختتام کو پہنچ رہی تھی۔شب گیارہ بجے ہوں گے۔ خالد کشمیری، رئوف طاہر اور ان کے ایک دوست شوخی پر آمادہ تھے۔ بار بار ان سے پوچھتے: کس زمانے میں آپ روزنامہ آزاد کے سب ایڈیٹر تھے۔ فلاں واقعہ کیا کب رونما ہوا تھا۔ سن کر نہ دیا اور حقہ گڑ گڑاتے رہے۔ سننے کی جو نہ ہو، سنتے ہی نہیں تھے۔ کہنے کی جو کبھی نہ کہتے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ شعر برمحل پڑھتے۔ سننے والے تڑپ اٹھتے۔ کمال یہ تھا کوئی غریب لفظ کبھی ان کی زبان سے نہیں نکلتا تھا۔ کبھی کبھار کا شدید ترین طنز بھی بس اتنا ہی ہوتا کہ مسلم لیگیوں کو ''آلِ جناح‘‘ کہہ دیتے۔ ایک بزرگ مدیر نے زِچ کیا اور عناد کے ساتھ کرتے ہی رہے تو بس اتنا کہا:اخبار نویس کے قلم اور حجام کے استرے میں فرق ہونا چاہیے۔ اخبار میں الزام لگا تھا کہ جتنی اور جس قدر زرعی زمین پچاس برس میں سیاست کی نذر ہوئی ہے، اتنی ہی فرزند کے وزیر مال بننے کے بعد خرید لی گئی ہے۔ انہیں فون کیا اور فرمایا: زمین کی خرید و فروخت کا ریکارڈ کچہری میں ہوتا ہے، گواہ ہوتے اور انگوٹھے ثبت کیے جاتے ہیں۔ ان کا عکس چھاپ دیجیے اوراس Scoopeپررپورٹر کو انعام عطا فرمائیے۔ وہ کیا کہتے: خدا واسطے کا بیر تھا۔ 
فرزندباپ کے راستے پر نہیں تھے، مگر نواب زادہ کا اپنا دامن صاف تھا۔ 1950ء کے عشرے میں گاڑیوں کا ایک پورا بیڑہ رکھنے والے کا آخر آخر یہ حال تھا کہ ایک دوست کی کار استعمال کیا کرتے۔ مدتوں لاہور کے سب سے کشادہ فلیٹیز ہوٹل کے کمرے میں مقیم رہنے والے، اب کرایے کے چھوٹے سے مکان میں تھے۔ وہی ان کی جماعت کا صدر دفتر بھی ۔
عرض کیا: کیا آپ کے والد کیا احرار سے وابستہ تھے؟ بولے:''پنجاب وچ ہکاّ پاگل آئی‘‘۔ پنجاب کے زمین داروں میں دیوانہ ایک ہی تھا۔
اپنی ڈگری اور عمر کبھی نہ بتاتے۔ تعلیم ادھوری تھی اور عمر زیادہ؛اگرچہ بڑھاپا ان کا کچھ بگاڑ نہ سکا تھا اور اہل علم کی صحبت نے ذہن کے آفاق روشن کر رکھے تھے۔ اردو، سبحان اللہ، فارسی پر دسترس، انگریزی میں روانی۔
حاضر باش اخبار نویسوں کی سنتے رہے، زیرلب فقط یہ کہا: ایہہ کوئی گل اے جناب، کوئی سیریس سوال پچھو۔ میرے ذہن میں برق سی چمکی۔ عرض کیا:احرار کی تحریک کشمیر کا آغاز کب ہوا تھا۔ بتا دیا۔ عرض کیا۔ آپ غالباً 1936ء میں پہلی بار گرفتار ہوئے۔ کہا:کیا بات کرتے ہیں آپ، یہ 1932ء تھا۔
عمر کا مسئلہ حل ہو گیا۔ لیاقت بلوچ سے بات کی تو تصدیق کی مہر انہوں نے ثبت کر دی۔ کہا:میرے چچا کے ہم جماعت تھے۔
اسلام آباد میں ان کے مکان پرگیا تو دکھ بھرے لہجے میں کہا:بالشت بھر کا آزاد کشمیر ہے، مظفر گڑھ سے کم آبادی، بلوچستان کے ایک ضلع سے کم رقبہ۔ پارلیمانی نظام کی اسے کیا ضرورت ہے۔ بے نظیر بھٹو نے منت سماجت کی تو حکومت کا حصہ بننے پر آمادہ ہوئے‘کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہو گئے۔ برسوں ایک مقصد کے لیے نون لیگ کی دشنام بھی سہی، سب سے زیادہ شیخ رشید کی۔ایک مزدور کی طرح اس کے لیے مشقت کرتے رہے۔ اس موضوع پر بات کرتے تو دلائل کے انبار لگا دیتے۔ 
مرعوبیت چھو کر نہ گزری تھی۔ وزیر اعظم سے پدرانہ جلال کے ساتھ بات کرتے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ناچتے گاتے لڑکے لڑکیوں کا ویسا مخلوط اجتماع دکھایا گیا، جیسا آج کل عام جلسوں میں ہوتا ہے۔ فون اٹھایا اور وزیر اعظم کو ڈانٹا: یہ کیا مذاق ہے؟ اشارۃً مجھ سے کہا:اس طرح کی چیزوں کو کبھی برداشت نہ کرنا چاہیے۔ اقبالؔ نے کہا تھا ؎
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
آزادی میں ایسا کیوں ہوا؟ آزادی فقط اپنے پرچم، سکّے اور خود اپنے لیڈروں کی حکمرانی ہی کا نام نہیں۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہوتی ہے۔ مولانا محمد علی جوہر، حسرت موہانی، ظفر علی خان، نہرو، گاندھی اور محمد علی جناح غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر آزاد تھے۔ ہم آزاد ہیں مگر غلام۔ مغرب سے تو مرعوب تھے ہی کہ غالب تہذیبوں کی ایک دہشت ہوا کرتی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ دنیا کی واحد مشرک قوم سے دب گئے‘ اکیسویں صدی میں جو بت پرستی کی لعنت میں گرفتار ہیں۔ این جی اوز کے بھک منگے۔ 
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
موٹروے پر ایک مشہور ریستوران سے کھانا خریدا۔ نیم خواندہ چھوکرے نے کہا:یہاں DINE کریں گے یاTake away کریں گے؟ ارے بھائی ارے بھائی۔ کل شام گلبرگ کی ایک چھوٹی سی، بالشت بھر کی دکان میں یہی ماجرا تھا۔ ڈرائیور سے ایک دن کہا:کیلے خرید لائو، بولا:یعنی Bananaz۔ غیر حاضر دماغی کے عالم میں، ایک دن، اس سے سوال کیا: دیکھو میری عینک کہاں ہے۔ بولا:آپ کے Hand میں۔انہی پر کیا موقوف، بہت سے دانشوروں کا عالم یہی ہے۔برصغیر کا المناک احساس کمتری!آزادی‘ اصل میں ذہنی آزادی ہے۔ جو لوگ یہ فرما رہے ہیں کہ آزادیِٔ کشمیر کے لیے حالات سازگار نہیں، درصل وہ یہ ارشاد کرتے ہیں کہ آدمی کو عالمِ اسباب کا اسیر بن کر رہنا چاہیے۔ جدوجہد اور تگ و تاز سے زندگی کو بدلنے اور بالیدگی عطا کرنے کی کوشش کبھی نہ کرنی چاہیے۔ آدمی اور جانور میں فرق کیا رہے گا، اگر وہ اپنی امید کھو دے۔ شاید وہ جانور سے بھی بدتر ہو جائے۔ آدمی پنپتا ہی آزاد فضا میںہے۔ اس کی بہترین صلاحیت حرّیتِ فکر بروئے کار آتی ہے۔
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی
خدانخواستہ یہ آرزو ہرگز نہیں کہ کشمیر کی نئی نسل، ایک جنون کے عالم میں بھارتی ٹینکوں سے ٹکراتی رہے۔ زندگی بہت قیمتی ہے اور وحشت کی نذر نہیں کی جا سکتی۔ سرکارؐ کا فرمان یہ ہے کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ حدیث قدسی یہ ہے: عقل کو اللہ نے پیدا کیا تو اس سے کہا : چل پھر کے دکھا۔ پھراس پر ناز فرمایا اور یہ کہا:جو کچھ بھی کسی کو دوں گا، اس کے طفیل دوں گا۔ جو کچھ بھی کسی سے لوں گا، اس کی وجہ سے لوں گا(مفہوم) حدیث قدسی وہ ہوتی ہے، جس کے الفاظ بھی عرش بریں سے نازل ہوں۔ یوں بھی فرمان یہ ہے کہ وماینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ۔اپنی آرزو سے آپ کچھ نہیں کہتے، بلکہ وہ جو‘ ان پر نازل کیا جاتا ہے۔
عوامی تحریکیں کبھی نہیں مرتیں۔ کشمیریوں کے خیرہ کن ولولے کا اعجاز یہ ہے کہ بھارت کے قلب سے بے شمار آوازیں ان کی حمایت میں اٹھی ہیں۔ بھارتی فوج کے سابق جنرلوں تک نے کہا:جو کچھ ہم کر سکتے تھے، کر ڈالا، سرکاری دہشت گردی سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ کشمیریوں کی نئی نسل کا ولولہ بے کراں ہے۔ مگر یہ کہ جنگ فقط جذبے سے نہیں لڑی جا سکتی۔ چھرے دار اسرائیلی رائفلوں نے سینکڑوں کی بینائی چھین لی ہے۔ سوپور میں تیسری جماعت کے بچے بھارتی فوج کی ایک گاڑی لے اڑے اس پر پاکستان کا پرچم گاڑا اور شہر میں گھومتے رہے۔ نصف صدی سے مقتل میں کھڑے سید علی گیلانی اس پر شاد نہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ پولیس سٹیشنوں اور فوجی کیمپوں پر حملوں سے گریز کیا جائے۔ نقصان اس کا عام آدمی کو پہنچے گا۔ دو چار دن کی بات نہیں کہ سول آبادی کا دان دے کر منزل مراد حاصل کرلی جائے۔ یہ ایک طویل جنگ ہے۔ پاکستان کے بعض مستقل مزاج عناصر جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں، مثلاً حافظ سعید، ان کی خدمات رہی ہوں گی، مگر تنہا ممبئی والے واقعے سے پاکستان کو اس قدر نقصان پہنچا کہ ہزار برس میں وہ اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ تازہ ترین ارشاد ان کا یہ ہے کہ وہ ایک کاررواں لے کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جائیں گے۔ اخبار نویس نصرت جاوید نے اس موضوع پر لکھا تو خود ان کے اخبار میں ان پر تبریٰ کیا گیا۔ افسوس، ہزار بار افسوس۔ نصرت جاوید سے کتنا ہی اختلاف ہو، وہ ریاکار ہے اور نہ کشمیری حریت پسندوں کی محبت سے خالی۔وہ اننت ناگ کی ماں کا فرزند ہے۔مقبوضہ کشمیر میں حافظ سعید داخل کیا خاک ہوں گے۔ دکھاوا بھی کریں تو ساری دنیا میں پاکستان کی رسوائی کا سامان مہیا کریں گے۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر کے بارے میں، اس ناچیز کی رائے ڈھکی چھپی نہیں، مگر ان کے بیان سے تحریکِ آزادی کو زیادہ تقویت ملی۔
ہوش مندی حضور، ہوش مندی، حکمت، جناب والا حکمت۔ کشمیر اینٹ روڑے کا مکان نہیں کہ برباد ہو تو پھر سے تعمیر کر لیا جائے۔ 70لاکھ جیتے جاگتے آدمی ہیں۔
جہاد برحق بلکہ لازم نہیں لیکن وہ صرف قتال تو نہیں۔ جہاد پر قرآن کریم میں 28 آیات ہیں۔ ان میں سے صرف 8 کا تعلق قتال سے ہے‘ باقی تزکیہ نفس۔ اللہ کے آخری رسولؐ نے اسے جہاد اکبر کہا۔
مسلمان کے لیے احمق اور جذباتی ہونا ضروری تو نہیں۔ مشتری ہوشیار باش!
بشکریہ دنیا
khushabnews
;
صحافی کا قلم اور حجام کا استرا صحافی کا قلم اور حجام کا استرا Reviewed by Khushab News on 8:11:00 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.