میرا شہر خوشاب







آج سے تیس سال پہلے سرسبزو شاداب جنگلات میں گھِرا گویا جنت کا ایک ٹکڑا ہوا کرتا تھا۔ جب ہم دریا سے واپس آیا کرتے تو شہر دکھائی نہ دیتا تھا۔اس لیے کہ ہماری بیتاب نگاہوں کے راستے میں گھنے درختوں کے جھنڈ تھے جنہیں ہم اپنی بولی میں ’’جھنگیاں‘‘ کہا کرتے۔ شہر کے مضافات میں کوئی سڑک ایسی نہ تھی جس کے اطراف میں درختوں کی دو رویہ قطاریں سڑک پر سایہ فگن نہ ہوتیں۔کچے میں جامن کے صحت مند اور عظیم الجثہ درختوں پر پکنے اور پک کر گرنے والے جامنوں کا ذائقہ، خوشبْو اور مٹھاس میں اب بھی محسوس کرسکتاہوں۔ کھجور اور بیری تو جھاڑیوں کی طرح اُگا کرتے۔

’’گْوندی‘‘ کے درخت جس کے پھل کے ذائقے کی شان سے کم ہی لوگ واقف ہیں خوشاب کے گھروں اور مضافات میں عام تھے۔حتیٰ کہ خوشاب کے قبرستان برگد اور پیلہْوں کے درختوں سے ڈھکے رہتے۔ شہر کے مشرقی مضافات کا جنگل اتنا گھنا تھا کہ دریائے جہلم ہمیشہ چادردیکھ کر پاؤں پھیلاتا۔ دریا کا کٹاؤ ایک شرح سے آگے نہ بڑھتا۔ خوشاب سے جوہرآباد تک اتنے گھنے جنگلات تھے کہ باقاعدہ خوف آتا تھا۔ حتٰی کہ اْن جنگلات میں درندوں کی موجودگی تک کی باتیں مجھے یاد ہیں، کہ ہمارے بزرگ کیا کرتے تھے۔

یہ سرسبزوشاداب شہر دنیا کی حسین ترین وادی، وادیء سْون کے قدموں میں گویا کسی مخملیں قالین کی طرح بچھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اِس کے جنگلات رنگا رنگ کے پرندوں کی آماجگاہ تھے۔ پیلی پشت والی بْلبلوں کی اتنی بہتات ہوا کرتی کہ ہم سْرخ پشت والی بلبل کو ڈھونڈا کرتے۔۔۔۔۔۔۔ کہ وہ کمیاب ہے فلہذا زیادہ اہم ہے۔طوطے ہمارے درختوں پر عام ہوتے۔ ہر دوسرے دن طوطوں کی ڈاریں ہمارے صحنوں
کے اْوپر سے ٹیں ٹیں کا شور مچاتے ہوئے گزرتیں۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ مناظر مجھے آج کی طرح یاد ہیں۔

پھر کیا ہوا کہ جنرل ضیاالحق آگیا۔ ذولفقار علی بھٹو جیسے قوم کے دیوانے لیڈر کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ اور افغانستان سے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد میرے دیس میں پھیل گئی۔ میرا شہر خوشاب بھی کثیرالنسل افغان مہاجرین سے بھرنے لگا۔ مہاجریں کی تو خیر تھی لیکن افسوس کے اْن کے شوق اور پیشے قاتلانہ تھے۔

چند ہی دن میں درخت کٹ کٹ کر بکنے لگے۔ پرندوں کے سَر اور غلیلے۔۔۔۔ جگہ جگہ پڑے ملنے لگے۔ جوہرآباد کے جنگلات کٹ گئے۔ مضافات کی سڑکیں شادابی سے محروم ہوگئیں۔ دریا سے واپسی پر شہر صاف دکھائی دینے لگا۔ پیڑوں کے جھنڈ کے جھنڈ بے دردی سے قتل کردیے گئے۔ جامن کے تنومند پیڑ زیادہ مہنگے بِکے۔ ’’کٹھہ ‘‘ کی پہاڑی سے نظر آنے والا مخلمیں قالین جیسا خوشاب شہر، خیاباں سے بیاباں ہوتا گیا۔ بلبلیں مفقود ہوگئیں۔ طوطے خاموش ہوگئے۔

آج جب کالے بادل آتے اور بِن برسے گزر جاتے ہیں، حبس اور گرمی سے ہارٹ اٹیک ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ ہوائیں معدوم ہیں اور فضائیں آلودہ و دلگیر۔ آج جب آکسیجن کی کمی سے ہمیں اپنی سانسیں رْکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں تو بے اختیار میرے دِل سے جنرل ضیاالحق کے لیے بددعائیں
نکلنا شروع ہوجاتی ہیں۔( ادریس آزاد)

ادریس آزاد


ادریس آزادؔ، کا تعلق خوشاب شہر سے ہے پاکستان کے معروف لکھاری ، شاعر ، ناول نگار، فلسفی ، ڈرامہ نگار اور کالم نگار ہیں ۔ انہوں نے فکشن، صحافت ، تنقید، شاعری ، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا پیدائشی نام "ادریس احمد" ہے لیکن اپنے قلمی نام "ادریس آزادؔ" سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔
انکی یہ تحریر سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے لی گئی ہےاورمحض قارئین کی دلچسپی کی خاطر شائع کی جارہی ہے
khushabnews


میرا شہر خوشاب میرا شہر خوشاب Reviewed by Khushab News on 6:12:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.