ڈسٹرکٹ پریس کلب میں میت


لواحقین چودہ سالہ مریم کی میت کو لیکر ڈسٹرکٹ پریس کلب جوہرآباد  میں موجود

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جوہرآباد میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث چودہ سالہ بچی کی ہلاکت پر متوفیہ کے لواحقین اور شہری سراپائے احتجاج بن گئے‘ متوفیہ کے ورثاء نے بچی کی نعش ہسپتال کے سامنے رکھ کر دو گھنٹے احتجاج کیا اور ہسپتال انتظامیہ کیخلاف شدید نعرہ بازی کی‘ بعد ازاں میت کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب پہنچے اور وہاں احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر مظاہرین نے ڈسٹرکٹ پریس کلب جوہرآباد میں موجود ڈی سی او خوشاب کنزہ مرتضیٰ ‘ قومی اسمبلی کے رُکن ملک شاکر بشیر اعوان اور سینیٹر ڈاکٹر غوث محمد نیازی کے سامنے ہسپتال انتظامیہ
اس خبر کو بھی پڑھیں : ای ڈی او ہیلتھ کا تبادلہ اور ڈاکٹر زبیری کا مطالبہ
 کے رویہ کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے۔متوفیہ چودہ سالہ مریم کے والد شیر محمد کے مطابق مریضہ کو علاج کیلئے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جوہرآباد کے شعبہ ایمرجنسی میں پہنچایا گیا لیکن وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا جس کی وجہ سے بچی نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ ڈی سی او خوشاب نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اُدھر ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جوہرآباد کے ایم ایس ڈاکٹر قاضی آصف محمود کا کہنا ہے کہ بچی ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھی اُسے شعبہ ایمرجنسی میں ڈاکٹروں نے باقاعدہ چیک اپ کرنے کے بعد ہسپتال داخل کیا اور اُسے ادویات فراہم کی گئیں۔ بچی کا انتقال شعبہ حادثات میں نہیں بلکہ وارڈمیں ہوا۔

khushabnews
ڈسٹرکٹ پریس کلب میں میت ڈسٹرکٹ پریس کلب میں میت Reviewed by Khushab News on 11:04:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.