وزیر اعظم کی مدد کرنے کی خاطر نوٹس تیار کررہا ہوں،مشرف



برملا۔۔۔۔۔ نصرت جاوید

مشرف ایم کیو ایم…ریکارڈ درست ہو گیا


اس کالم پر جو تبصرے مختلف صورتوں میں مجھ تک پہنچتے ہیں، ان کا ذکر کرنے سے میں ہمیشہ اجتناب برتتا ہوں۔ تعریف ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ایسی گالیاں بھی سننے کو ملتی ہیں جنہیں ’’نوائے وقت‘‘ ایسے روایت پرست اخبار میں اشارتاََ بھی بیان نہیں کیا جاسکتا۔

25اگست کے روز مگر جو کالم چھپا،اسے پڑھ کر میرے بہت ہی محترم اور بزرگ صحافی جناب سعود ساحر صاحب نے ایک تفصیلی خط بذریعہ ای-میل بھجوایا ہے۔ میں اس خط کا تذکرہ سعود صاحب کے محض احترام ہی میں نہیں بلکہ تاریخی ریکارڈ کو درست رکھنے کے لئے بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

ان کے خط کی طرف لوٹنے سے قبل مجھے ڈرتے ڈرتے یہ بات بھی کہہ لینے دیجئے کہ ’’آتش جوان تھا‘‘وغیرہ کے دنوں میں سعود صاحب بہت سخت گیر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں میں جو ’’دائیں‘‘ والے صحافی سمجھے جاتے تھے،ان میں سے یہ بہت ہی بلندآہنگ تھے۔ میں ’’بائیں‘‘ والوں کی قربت میں زیادہ راحت محسوس کیا کرتا۔

دائیں اور بائیں کے درمیان تفریق اب عرصہ ہوا ختم ہوچکی ہے۔ صحافی بھی صحافی نہیں رہے۔خبر نہیں بھاشن دیتے ہیں۔ خدا نے جنہیں عقل سے زیادہ خوب صورت شکل عطا کی ہے وہ ٹیلی وژن سکرینوں کے سٹاربن گئے ہیں۔قلم گھسیٹنے پر مجبور لوگوں کو اشرافیہ کے کسی نہ کسی گروہ کا منشی بن کر رزق چلانا پڑرہا ہے۔

صحافت مگر جب تک صحافت رہی،اس میں ’’دائیں‘‘ اور ’’بائیں‘‘ بازو والے بھی بڑی توانائی کے ساتھ موجود رہے۔ ان دونوں کے مابین تفریق کبھی کبھار ایسے جھگڑوں کی صورت بھی نظر آتی جو مختلف فرقوں کے انتہاپسندوں کے مابین ہوا کرتے ہیں۔’’بائیں‘‘والوں کا کئی حوالوں سے ایک متحرک چمچہ ہوتے ہوئے بھی میں سعود صاحب کی سخت گیری سے ہمیشہ محفوظ رہا۔ ذاتی طورپر میرے ساتھ وہ مستقلاََ ایک شفیق بزرگ والا رویہ ہی برتتے رہے۔

25اگست کے روز چھپے میرے کالم کو پڑھ کر جو کچھ انہوں نے لکھا اس کا آغاز بھی بہت محبت وشفقت سے ہوا ہے۔ مجھ بے ہنر کو انہوں نے اس میں ’’کالم نگار‘‘تسلیم کیا ہے اور میرے اندازِ تحریر کو بھی بزرگانہ انداز میں سراہا۔

ان کے خط کی ریکارڈ کو درست رکھنے والی بات مگر زیادہ اہم ہے۔میں نے 25اگست کے روز چھپنے والے کالم میں یاد کیا تھا کہ ٹویٹر ایجاد ہونے سے پہلے ہماری عسکری قیادت آئی ایس پی آرکے ذریعے صحافیوں سے براہِ راست ملاقاتوں کو ترجیح دیا کرتی تھی۔ان ملاقاتوں میں تلخ سوالات بھی ہوتے جن کا آف یا آن دی ریکارڈ جواب فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوتی نظر آتی۔ اسی ضمن میں سب سے اہم تقریب وہ ہوا کرتی تھی جو ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آئی ایس پی آردعوتِ افطار کے نام پر منعقد کیا کرتی تھی۔آرمی چیفس اس دعوتِ افطار میں بہت اہتمام کے ساتھ تشریف لاتے۔ صحافیوں سے فرداََ فرداََ تعارف یا بے تکلفانہ گپ شپ کے مراحل سے فارغ ہوکر بالآخر پریس کانفرنس جیسا ماحول بنادیتے۔اس ماحول کی بدولت دوسرے دن کے اخبارات کے لئے ’’چوندی چوندی‘‘خبریں بھی مل جایا کرتیں۔
اس خبر کو بھی پڑھیں :تم نہیں یا ہم نہیں والی وحشت
میں نے اپنے کالم میں ذکر کیا تھا کہ نومبر 1998ء میں آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے جس پہلی دعوتِ افطار میںشرکت کی تھی وہاں انہوں نے ایم کیو ایم کو ’’میری نظر میں غدارِ وطن ہے اور کچھ نہیں‘‘ کہا تھا۔ مجھ تک یہ فقرہ ایک اور محترم وبزرگ صحافی جناب محمد ضیاء الدین صاحب کی وساطت سے پہنچا تھا۔ میں نے فرض کرلیا کہ ضیاء صاحب بذاتِ خود اس دعوتِ افطار میں موجود تھے۔

سعود صاحب نے اپنے خط کے ذریعے تصحیح فرمادی ہے۔ تصیح سے زیادہ اہم بات اس خط میں یہ بھی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے ایم کیوایم کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہارآئی ایس پی آر کی روایتی دعوتِ افطار جسے میں ’’صحافیوں کے لئے لنگرِ عام‘‘ کہا کرتا تھا، کے دوران نہیں کیا تھا۔

سعود صاحب نے بلکہ وضاحت کی ہے کہ ’’آئی ایس پی آرکی (روایتی) افطارپارٹی ہوچکی تھی کہ ایک دن بریگیڈئر(ر)صولت رضا کا فون آیا کہ آج آپ ہمارے ہاں افطار پر آرہے ہیں۔یہ معمول کے خلاف بات تھی کہ آئی ایس پی آر دو دن بعد پھر افطار پارٹی کررہا ہے‘‘۔

بہرحال مقررہ وقت پر جب سعود صاحب پنڈی کے مال روڈ پر واقع آرمی میس پہنچے تو وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ یہ دعوتِ عام نہیں تھی۔ ان کی یادداشت کے مطابق حامد میر،زاہد ملک،افتخار عادل اور نسیم زہرہ بھی اس خاص دعوت میں موجود تھے۔سعود صاحب کے مطابق انہیں ’’(یہ بھی)بتایا گیا کہ محترمہ ملیحہ لودھی بھی مدعو ہیں۔ اگرکراچی سے بروقت پہنچ گئیں تو ضرور آئیں گی‘‘۔

پاک فوج کی طرف سے بریگیڈئر صولت رضا کے علاوہ جنرل پرویز مشرف، جنرل عزیز احمد اور اس وقت میجر جنرل احسان الحق بھی وہاں موجود تھے۔ نظر بظاہر اس دعوت کا مقصد ہمارے محترم صحافیوں کو سمجھانا تھا کہ فوج نواز حکومت کو واپڈا کے معاملات سلجھانے میں مدد کیوں کررہی ہے۔چند صحافیوں نے اس ملاقات میں بھی لیکن جنرل پرویز مشرف کو سمجھانا چاہا کہ واپڈا عوام کی بے پناہ اکثریت سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ اس کے معاملات بہتر کرتے ہوئے فوجی افسروں کی واپڈا کی شکایات کرتے گروہوں سے تلخیاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں تو فوج کے  مجموعی امیج کو نقصان پہنچے گا۔بقول سعود صاحب، جنرل مشرف اس وقت’’عجب موڈ‘‘ میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’آپ واپڈا کی بات کرتے ہیں۔ میں تو کئی اور شعبوں میں بھی وزیر اعظم کی مدد کرنے کی خاطر نوٹس تیار کررہا ہوں‘‘۔سعودصاحب اپنے خط میں اعتراف کرتے ہیں کہ یہ فقرہ سننے کے باوجود وہاں موجود صحافیوں میں سے کسی ایک کے ’’حاشیہ خیال‘‘میں بھی یہ بات نہ آئی کہ جنرل صاحب وزیر اعظم کی مدد کرنے کے نام پر درحقیقت ’’اپنا مستقبل کا منشور پیش کررہے ہیں‘‘۔

سعود صاحب نے اپنے خط میں میری اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ملاقات میں ایم کیو ایم اور اس کے طرز سیاست پر بھی بات ہوئی تھی اور پرویز مشرف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’ایم کیو ایم میری نظر میں غدارِ وطن ہے اور کچھ نہیں‘‘۔

سعود صاحب نے یاد دلایا کہ ’’محترم ضیاء الدین صاحب غالباً ان دنوں لندن میں تھے اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ انہوں نے مجھ سے فون پر بات کی اور اس بات کی تصدیق چاہی کہ کیا واقعی پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو غدارِ وطن کہا تھا؟ میں نے محترم ضیاء الدین کے سوال کے جواب میں تصدیق کی کہ پرویز مشرف نے ایسا ہی کہا تھا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے (روزنامہ) ڈان میں یہ واقعہ لکھا بھی!‘‘۔

سعود صاحب کا شکریہ کہ ان کے خط لکھنے کی وجہ سے ریکارڈ درست ہوگیا۔ مجھ سے شفقت فرماتے ہوئے انہوں نے اپنی پرویز مشرف سے ایک ایسی ملاقات کا ذکر بھی کردیا جو موصوف کی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد سعودصاحب سے اکیلے میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے حوالے سے جو باتیں اس خط کی وجہ سے مجھ تک پہنچی ہیں انہیں میں کسی مناسب موقع پر ’’چسکہ فروشی‘‘ کے لئے استعمال کروں گا۔اپنی دکان چلانے کے لئے سعود ساحر صاحب کی جانب سے فراہم کردہ مال کوبنیوںکی طرح گرمیٔ بازار دیکھ کر اس کالم میں آئندہ کبھی استعمال کروں گا۔’’الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے‘‘ والا معاملہ۔

khushabnews
وزیر اعظم کی مدد کرنے کی خاطر نوٹس تیار کررہا ہوں،مشرف  وزیر اعظم کی مدد کرنے کی خاطر نوٹس تیار کررہا ہوں،مشرف Reviewed by Khushab News on 3:54:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.