جو بھی ہوگا دسمبر کے بعد ہوگا





قلم کمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد میر

نواب صاحب بھی چلے گئے
کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ وقت ملے تو لاہور جاکر سید انور قدوائی صاحب اور روزنامہ جنگ کے دیگر ساتھیوں کیساتھ شفیق مرزا صاحب کی تعزیت کروں گا۔ شفیق مرزا صاحب کی وفات پر سید انور قدوائی صاحب کا کالم پڑھا تو دل سے قدوائی صاحب کیلئے بہت دعائیں نکلیں کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ہمارے ایک اور بزرگ صحافی دوست زاہد ملک صاحب کی وفات پر بھی بہت اچھا تعزیتی کالم لکھا تھا۔قدوائی صاحب اگلے جہان کو سدھارنے والے دوستوں اور ساتھیوں کو ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔ میرے والد وارث میر کی وفات 1987ء میں ہوئی۔ قدوائی صاحب ان کی برسی کو ہمیشہ یاد رکھتے۔9جولائی کو ان کے یوم وفات پر اکثر کالم لکھا کرتے اور اگر کوئی دوسرا کالم لکھ دیتا تو کہا کرتے میں اگلی دفعہ لکھ دوں گا۔ شفیق مرزا صاحب پر کالم میں قدوائی صاحب نے لکھا کہ پیدائش کے وقت بچے کے کان میں جو اذان دی جاتی ہے وہ اس کی نماز جنازہ ہوتی ہے لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زندگی کا سفر اس حسن کے ساتھ بسر کرتے ہیں کہ جب واپس جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ بچھڑ گیا جیسے ایک خلا پیدا ہوگیا ہو۔ شفیق مرزا صاحب بھی ایسی ہی خوبصورت شخصیات میں شامل تھے۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ کچھ ہی دن میں سید انور قدوائی بھی بچھڑنے والے ہیں اور ان کیساتھ شفیق مرزا صاحب کی تعزیت کا موقع نہیں ملے گا۔ جمعہ کی شام چھوٹے بھائی عمران میر کا پیغام ملا کہ لاہور پریس کلب کے تاحیات رکن سید انور قدوائی انتقال کرگئے ہیں۔ یقین نہیں آیا، قدوائی صاحب جیسے بزرگ صحافیوں نے ہمیں سکھایا کہ ہر خبرکو ہمیشہ ڈبل چیک کرو۔ سوچا قدوائی صاحب کو فون کرتا ہوں، پھر خیال آیا کہ اگر انہوں نے فون اٹھالیا تو کیا پوچھوںگا؟ سوچا پرویز بشیر صاحب کو فون کرتا ہوں لیکن ہمت نہ ہوئی لہٰذا روزنامہ جنگ لاہور کے ایڈیٹوریل سیکشن میں قدوائی صاحب کے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی لقمان صاحب کو فون کیا تو انہوں نے ہمارے بزرگ کے انتقال کی تصدیق کر دی قدوائی صاحب اپنے ہم عصروں کیلئے نواب صاحب لیکن ہمارے لئے قدوائی صاحب تھے۔ ایک زمانے میں وہ اپنے سر پر ایک خوبصورت ٹوپی نوابوں کے انداز میں سجا کر لاہور شہر میں رپورٹنگ کیا کرتے۔ وہ اکثر پان بھی چبایا کرتے اور ان کے نستعلیق انداز گفتگو میں نوابوں جیسا رعب و دبدبہ بھی جھلکتا تھا شاید اسی لئے انہیں نواب صاحب کہا جاتا تھا۔ جب میں نے میدان صحافت میں قدم رکھا تو قدوائی صاحب نوائے وقت کے چیف رپورٹر ہوا کرتے تھے اور لاہور شہر کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ شروع شروع میں یہ ناچیز ’’نواب صاحب‘‘ کے ظاہری رعب و دبدبے کی وجہ سے ان سے کچھ فاصلے پر رہتا اور دور دور سے سلام دعا کرلیا کرتا لیکن قدوائی صاحب آگے بڑھتے اور کھینچ کر سینے سے لگاتے۔ 1996ءمیں وہ’’جنگ‘‘ میں آئے تو یہ خاکسار روزنامہ پاکستان اسلام آباد کا ایڈیٹر تھا۔ لاہور میں ان سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ مجھے اپنے ماضی کے قصے سنایا کرتے جو زیادہ تر ذوالفقار علی بھٹو ، پیر پگارو، مولانا شاہ احمد نورانی ا ور نواز شریف کے متعلق ہوا کرتے۔
1997ءکے انتخابات کے بعد نواز شریف پنجاب میں چودھری پرویز ا لٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے لیکن شہباز شریف بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے ۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی گرما گرمی ابھی شروع نہ ہوئی تھی۔ تمام اخبارات نے پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے ہاٹ فیورٹ قرار دے دیا تھا۔ ایک دن شہباز شریف صاحب نے مجھے اور قدوائی صاحب کو اپنے ماڈل ٹائون والے گھر کے عقب میں بنائی گئی انیکسی میں ناشتے پر مدعو کیا۔ اس خصوصی ناشتے میں پائے اور نہاری کا اہتمام بھی تھا۔ واضح رہے کہ پائے اور نہاری کا شوق شہباز شریف کو ہے، نواز شریف صاحب کے کچن میں یہ لوازمات نہیں پکتے۔ اس ناشتے کا اصل مقصد مجھے اور قدوائی صاحب کو یہ بتانا تھا کہ شہباز شریف نے مسلم لیگ(ن) اور جمہوریت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو محض اس لئے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ شہباز شریف کے بڑے بھائی کا نام نواز شریف ہے۔ ہم شہباز شریف کی باتیں سن رہے تھے کہ اچانک نواز شریف انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے ادھر آنکلے۔ انہوں نے مجھے اور قدوائی صاحب کو شہباز شریف کیساتھ محو گفتگو دیکھا تو فوراً سمجھ گئے کہ کیا واردات ہورہی تھی۔ انہوں نے ایک نظر میز پر موجود لوازمات پر ڈالی اور دوسری قدوائی صاحب پر ڈالی۔ پھر مجھے کہا کہ آپ نے اپنی آمد کے بارے میں مجھے تو بتایا ہی نہیں۔ میں نے شہباز صاحب کی طرف دیکھا تو وہ باقاعدہ بوکھلا گئے اور قدوائی صاحب ہنسنے لگے۔ نواز شریف مسکرائے اور ہم سے ہاتھ ملا کر چلے گئے۔ ہمیں سمجھ آگئی کہ فی الحال شہباز شریف اکیلے ہیں لیکن شام تک شہباز شریف کے والد مرحوم بھی ان کی حمایت کا اعلان کر چکے تھے اور نواز شریف اپنے والد کے حکم کے سامنے سر خم تسلیم کر چکے تھے کیونکہ شہباز صاحب نے صرف خاندان کے اندر نہیں بلکہ مسلم لیگ(ن)کے اندر بھی اپنے حامیوں کا ایک مضبوط گروپ پیدا کرلیا تھا۔قدوائی صاحب کے ساتھ جب بھی ملاقات ہوتی تو ہم شہباز شریف صاحب کے اس ناشتے کو یاد کرکے ہنسا کرتے۔
قدوائی صاحب کی وفات کی خبر سن کر میں ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔ جمعہ کی شام پتہ چلا کہ ان کا نمازجنازہ اگلے روز دو بجے دوپہر ہے۔ ہفتہ کی صبح اسلام آباد سے لاہور کے لئے روانہ ہوا تو اندازہ نہیں تھا کہ موٹر وے کا یہ سفر زندگی کے خطرناک ترین سفروں میں سے ایک ہوگا۔ دھند کے باعث موٹر وے جگہ جگہ بند تھی لیکن پھر بھی پانچ گھنٹے کا سفر طے کرکے میں قدوائی صاحب کے جنازے میں شامل ہوگیا۔ یہ ایک بڑا جنازہ تھا اور شہر میں سید انور قدوائی کی قدرو منزلت کا آئینہ دار تھا۔ میرے کانوں میں بار بار قدوائی صاحب کی آواز گونج رہی تھی۔ 30 مئی 2016کو میں نے’’مائنس تھری‘‘ کے عنوان سے کالم بھیجا تو قدوائی صاحب نے فون پر پوچھا کہ سارا زمانہ کہتا ہے جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تم کہتے ہو انہوں نے توسیع خود مانگی لیکن نواز شریف نے توسیع سے انکار کردیا۔ اب سارا زمانہ کہتا ہے نواز شریف کا چل چلائو ہے تم کہتے ہو کہ مائنس تھری کا منصوبہ ضرور بنا ہے لیکن کامیاب نہ ہوگا۔ برخوردار ذرا دیکھ لینا۔ ڈبل چیک کرلینا، میں نے کہا اطمینان رکھیں جو بھی ہوگا دسمبر کے بعد ہوگا جب راحیل شریف نہیں ہوں گے۔ کچھ ہی دن بعد میں نے نواز شریف کیساتھ لندن کے اسپتال میں ملاقات کے بعد کالم لکھا۔ یہ وہ دن تھے جب نواز شریف کو پیغام دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان واپس نہ آئیں لیکن وہ واپس آگئے۔ ان کی واپسی کے بعد میں نے لکھا کہ نواز شریف کو کوئی دوسرا نہیں صرف نواز شریف ہی نکال سکتا ہے تو مجھے قدوائی صاحب کو ایک لمبی وضاحت پیش کرنی پڑی۔ اب مجھ سے فون پر وضاحتیں لینے والے قدوائی صاحب دنیا میں نہیں رہے۔ ورنہ میں انہیں بتاتا کہ کچھ دن پہلے آصف علی زرداری کو بھی پاکستان واپسی سے روکا گیا لیکن وہ گرفتاری کے لئے تیار ہو کر پاکستان واپس آپہنچے ہیں۔ قدوائی صاحب سے بہت سے لوگوں کو بہت سا اختلاف تھا۔ کبھی کبھی میں بھی اختلاف کرتا لیکن وہ ایک نیک دل انسان تھے۔ موت کے بعد ہمیں ان کی غلطیوں کو نہیں صرف خوبیوں کو یاد رکھنا چاہئے۔ وہ کسی ریاست یا سلطنت کے نہیں بلکہ اپنے دل کے اور اپنے دوستوں کے نواب تھے۔ نواب صاحب دنیا سے چلے گئے لیکن ہمارے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گے
۔۔۔۔۔ بشکریہ جنگ
جو بھی ہوگا دسمبر کے بعد ہوگا جو بھی ہوگا دسمبر کے بعد ہوگا Reviewed by Khushab News on 3:11:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.