ضلع میں کرپشن برداشت نہیں کرینگے


خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ضلع کونسل خوشاب کی چیئرپرسن محترمہ سمیرا ملک نے کہا ہے کہ ضلع خوشاب کے کسی سرکاری ادارہ میں کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی ‘تمام محکموں کے افسران اور ملازمین کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں گے اور جہاں حکومتی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہوئی وہاں سخت ایکشن لیا جائے گا۔ وہ جوہرآباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ اس موقع پر ضلع کونسل کے وائس چیئرمین ملک مسعود نذیر راجڑ‘ بلدیہ جوہرآباد کے چیئرمین حاجی اشرف اعوان اور وائس چیئرمین اکرم شہزاد بھی موجود تھے۔ محترمہ سمیرا ملک نے کہا کہ صحافی معاشرہ کی آنکھ اور کان ہیں ‘ صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے ۔میں ہمیشہ میڈیا سے راہنمائی حاصل کرتی رہوں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ میں ضلع کونسل خوشاب کو ایک پروقار ‘ فعال ‘ معتبر اور مثالی ادارہ بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کروں گی ‘وزیراعلیٰ پنجاب سے ضلع خوشاب کے دیہی علاقوں کی تعمیر و ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کئے جائیں گے۔ وہ صحافیوں ‘ وکلاء ‘ دانشوروں اور تاجروں سے ضلع کونسل کی کارکردگی کو بہتر سے
بہتر تر بنانے کیلئے مشاورت کرتی رہیں گی۔ محترمہ سمیرا ملک نے کہا کہ ضلع کونسل خوشاب کی قیادت اور پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی و صوبائی قیادت میں مکمل آہنگی ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب کی مجھے بھرپور سرپرستی حاصل ہے اور میں اُن کے وژن کے تحت عوام کے مسائل حل کرنے کا عزم رکھتی ہوں۔ مخالفین شکست کو تسلیم کر کے اپنا اور ضلعی ایوان کا مزید وقت ضائع نہ کریں انتخابات میں ہار جیت جمہوریت کا حصہ ہے اور شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرنا بھی جمہوریت کی ایک اچھی روایت ہے۔ چیئرپرسن نے کہا کہ ملک شاکر بشیر اعوان نے ایک سال سے اپنے بھائی عمران بشیر اعوان کو ضلعی چیئرمین شپ کا اُمیدوار بنائے رکھا اور وقت آنے پر ایک سرمایہ دار کی حمایت شروع کر دی ۔
ہم ضلع خوشاب کی سیاست میں خرید و فروخت کا سلسلہ ختم کریں گے میرے گروپ کے ارکان ضلع کونسل نے بھاری رقوم کو ٹھکرا کر ثابت قدمی کا ثبوت دیا۔ ہم آئندہ بھی پیسوں کے بل بوتے پر سیاست کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں گے
محترم قارئین اگرکلک کرنے پر اسطرح کا پیج نظر آئے اور آپ کو خبر کی تفصیلات پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہے تو نیچے دیئے گئے طریقہ کار پر عمل کریں

;
ضلع میں کرپشن برداشت نہیں کرینگے ضلع میں کرپشن برداشت نہیں کرینگے Reviewed by Khushab News on 7:23:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.