حوصلہ افزائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدنعیم یاد

تما م پڑھنے والوں کی خدمت میں سلام پہنچے!ہمارے ہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو زندگی کے بعض مقابلوں میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں، یہ لوگ نہ تو کوئی مقصد بناتے ہیں اور نہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے کام کرتے ہیں ان لوگوں سے بعض اوقات ایسے لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں جو کام کرنے والے ہو تے ہیں۔یہ لوگ ان لوگوں کا جذبہ بھی ختم کردیتے ہیں اور ان کو ایسی باتیں سنائی جاتی ہیں کہ جس کی وہ تاب نہیں لا سکتے اور وہ بے چارے ایک اچھے بھلے رستے سے نکل گمراہی کی دلدل میں جا گرتے ہیں۔ان میں بعض لوگ کسی بات کا بہت گہرا اثر بھی لے لیتے ہیں کہ ان کو ایسا کہا کیوں گیا مولانا شبلی نعمانی ؒ کے دادا تھے جو ہندو ذات سے تعلق رکھتے تھے ایک دن کام کر کے گھر آئے، کھانا کھانے لگے تو اچانک ایک جوتا اتر گیا اب ہندو لوگ جوتے اتار کر نہیں کھاتے تھے کہ یہ مسلمانوں کی عادت ہے ،تو ان کا جوتا جونہی اترا ان کی بیوی بولی کہ ’’ابے کہیں مُسلا تو نہیں ہو گیا‘‘ ۔اب وہ کام سے تھکے ہوئے تھے ایک دم سے غصے میں آگئے اور کہا ہاں ہو گیا ہوں مسلمان اور زور سے کلمہ پڑھنے لگے اور پھر ایک علامہ صاحب کے پاس گئے کہ میں مسلمان ہوناچاہتا ہوں۔
 
اس طرح ہم لوگ بعض اوقات یہ نہیں جانتے کہ ہم جو دوسرے کو بات کَہ رہے ہیں اگلا اس کا کیا اثر لے گا؟ایک بچہ سکول کی کسی کتاب میں پڑھتا ہے کہ اس پر نماز فرض ہے تو وہ نماز پڑھنا شروع کردیتا ہے۔ اب جب وہ سر پر ٹوپی پہن کر آتا ہے تو آگے سے اس کو چند الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ یہ دیکھو آیا بڑا نمازی ہمارے ہاں اکثر لوگ یہاں کہتے ہیں کہ پتہ نہیں وضو بھی کیا ہے کہ نہیں، اب اس کے اندر ایک سوچ پیدا ہوتی ہے کہ وہ نماز پڑھے گا تو یہ لوگ اس کو نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات وہ باتوں کے پیشِ نظر نماز پڑھنا چھوڑ دیتا ہے اب جب وہ نماز نہیں پڑھتا تو اسے کہا جاتا ہے بس یہی کچھ تھا دودن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات۔تو پھر ایسا بچہ پھر پوری عمر اس بات کواپنی زندگی کا روگ بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس کی اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے۔
کچھ عرصہ قبل مشہور کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں اس حوالے سے بڑاخوبصورت واقعہ سنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ اپنے ایک انگریز دوست کے پاس بیٹھا تھا اور ان کے ساتھ ایک اور انگریز بیٹھا تھا تو اچانک ایک چھوٹی سی بچی آئی جس نے ہاتھ میں ایک کتاب پکڑی ہوئی تھی ،تووہ میرے دوست کے پاس آئی اور بولی ابو دیکھیں میں نے کیسی ڈرائنگ بنائی تو میں نے بھی دیکھا کہ ایک صاف صفحے پر ٹیڑھی میڑھی لکیریں لگی ہوئی تھیں لیکن جو انگریز ساتھ بیٹھا تھااس نے دیکھ کر تالیا ں بجانی شروع کردیں اور جونہی ایک صفحہ آگے جاتا وہ زور سے اٹھتا اور تا لیاں بجانا شروع کر دیتا اور بچی کو داد دیتا ۔تھوڑی دیر بعد جب وہ بچی وہاں سے چلی گئی تو میں اس سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ وہ ڈرائنگ کوئی اتنی خاص نہیں تھیں لیکن پھر بھی تم اس کو داددے رہے تھے۔ تو وہ کہنے لگامیں جانتا ہوں کہ وہ ڈرائنگ اتنی اچھی نہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ میرے اس سراہنے سے ،اس کی حوصلہ افزائی کرنے سے کل وہ ایک مشہور آرٹسٹ بن جائے۔
ہم لوگ اس بات میں بھی بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔ہم لوگوں میں جانے کیوں اتنا حوصلہ نہیں کہ ہم لوگ کسی کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔میرے ایک دوست مجھ سے کہنے لگا کہ جب میں مسجد جاتا ہوں نمازپڑھنے ،تو وہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھ کر میرادل کرتا ہے کہ ان کو سب سے اگلی صف میں کھڑا کروں کیونکہ ہمارے اکثر لوگ ان بچوں کو دیکھ کر بہت غصے سے پیچھے دھکیلتے ہیں۔تو اگر ہم ان بچوں کی حوصلہ افزائی کریں نہ یہ کہ ان کی دل شکنی کریں تو ہو سکتا ہے کہ آنے والی زندگی میں ایک پکے نمازی بن جائیں۔ہم اپنی زندگی میں ایسی چھوٹی چھوٹی سی باتوں کو Ignoreکردیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ہوسکتا ہے کہ ہماری کسی بات پر اگلے کی ساری زندگی بدل جائے۔ہمارے ہاں اکثر لوگ بجائے کسی کی حوصلہ افزائی کرنے کے ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ ہی ختم کردیتے ہیں۔ایک درخت کے نیچے کام کرتا ہو ا موچی جو محنت سے روزی کما رہا ہوتا ہے ایک ڈاکٹر جب اس کے پاس جائے گا تو وہ موچی اس کی لاکھ خدمت کرے گا کہ جی آیا نوں، پھر چائے پانی وغیرہ پوچھے گا پھر سارے کام چھوڑ کر اس کا جوتا پہلے سلائی کردے گا۔ لیکن جب وہی موچی اس ڈاکٹر کے پا س جاتا ہے اس کے کلینک تو وہاں اس کو پہلے کئی گھنٹے ڈاکٹر صاحب کا انتظار کرنا پڑے گا پھر کہیں جا کر اس کی باری آئے گی کیوں کہ ہم لوگ دولت کو انسانیت کے جانچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ فلاں بندے کے پاس پیسہ ہے وہ زیادہ عزت والا ہے۔ اب ہمارے سکولوں میں اکثر ایسے لوگوں کے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہوتی ہے جو پہلے سے ہی مالدار ہوتا ہے ہم اس موچی کے بچے کو کیوں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں کہ اگر اس کی حوصلہ افزائی کی تو کہیں خدانخواستہ وہ زندگی کی دوڑ میں ان امراء کے بچوں سے آگے نہ نکل جائے اور ویسے بھی وہ غریب آدمی ہمیں بدلے میں کیا دے گا ۔ 
مجھے اکثر پاکستا نی بارڈر پر جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کی حفاظت کرنے والے فوجیوں پر پڑتی ہے تو بہت دکھ ہو تا ہے کہ لوگ ان کے ساتھ کتنی ناانصافی کر رہے ہیں ۔اس بات کا اندازہ لگائیں کہ ایک بندہ اپنے ماں باپ ،اپنے بیوی بچوں سے دور ملک کی حفاظت کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر کھڑا ہے اور بدلے میں اس کو کیا دیا جارہا ہے زیا دہ سے زیادہ چند ہزار روپے تنخواہ اور ایک کرکٹ ٹیم کو جو نہ جانے کتنی مرتبہ ملک کانام ڈبو کر آتی ہے ان کو کئی کئی لاکھ روپے ۔
آج بڑی ضرورت ہے کہ کسی کی کامیابی کومان کر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ہم لوگ یہ نہ سوچیں کہ وہ مجھ سے بڑا ہے اس کو میری حوصلہ افزائی کرنی چاہیے بلکہ ہم یہ سوچیں کہ ہم بھی تو کسی سے بڑے ہیں۔ ایک چھوٹی سی گلی میں کبھی گزرتے ہوئے ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو کھیلتے دیکھتے ہوئے تھوڑا کھڑا ہو جائیں اور ان کودیکھیں کہ وہ کیسے کھیلتے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تو اس کا سب سے بڑ ااثر ان کی زندگی پر یہ پڑے گاکہ کل جب وہ اسی طرح گزررہے ہوں گے تووہ بھی اسی طرح کسی دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔تو اگر ہم میں سے ہر ایک یہی سوچ لے کہ یا میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے کہ کیوں نہ میں کبھی کسی سکول میں جاؤں اورکہوں کہ جناب آپ کے سکول میں تعلیمی معیا بہت اعلیٰ ہے لیکن آپ کی فیس بہت زیادہ ہے ایک غریب آدمی جو سارا دن محنت کرتا ہے لیکن بے چارا اتنا نہیں کما سکتا کہ اپنے بیٹے کو آپ کے سکول میں پڑھا سکے تو میں یہ آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری جانب سے یہ کچھ امداد ہے کہ آپ کے سکول میں ایک کوٹہ مخصوص ہونا چاہیے کہ جس میں میرے جیسے بندے ماہانہ یا سالانہ اتنا کچھ تو جمع کرا دیں کہ کم ازکم آپ کے تعلیمی ادارے میں ایک غریب آدمی ان پیسوں سے اپنے بچے پڑھاسکے ۔تو اس قسم کے کام سے ہوسکتا ہے کہ اس غریب کا بچہ لکھ کر ایسے کئی چراغ روشن کرے کہ جو اپنے سے غریب بچوں کی حوصلہ افزائی کرسکے۔
َ اللہ آپ کو اس دیے سے دیا جلانے کی توفیق دے(آمین)


حوصلہ افزائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدنعیم یاد حوصلہ افزائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   محمدنعیم یاد Reviewed by Khushab News on 9:32:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.