مذہبی شخصیت گرفتاری و رہائی ناخوشگوار واقعہ

پروفیسر جاوید کھارا۔۔۔ فائل فوٹو

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)مدینتہ النبی یونیورسٹی نوشہرہ وادی سون کے پرنسپل،و معروف مذہبی سکالر پروفیسر محمد جاوید کھارا کی گرفتاری ا و ر بعد ازاں اعلی شخصیت کی مداخلت یا معافی پررہائی۔ 30 مارچ بروز جمعرات کو پروفیسرجاوید کھارا جو کہ اپنے دیگر گیارہ ساتھیوں کے ہمراہ تھانہ صدر جوہرآباد کے ایک اے ایس آئی کیخلاف آئی جی پنجاب کے حکم پر ہونیوالی انکوائری کے سلسلہ میں ڈی پی او آفس جوہرآبادآئے ہوئے تھے کومبینہ طور پر سماجی
 رابطے کی ویب سائٹ پر بعض نیوز نیٹ ورکس کے نام پر اکانٹس سے ٹویٹس) پولیس س افسران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے اور کارسرکار میں مداخلت کے الزام میں ساتھیوں سمیت حوالات میں بند کردیا گیا اور بعد ازاں اپنے روئیہ پر شرمندگی کا اظہار کرنے اور معافی ( ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق تحریری) مانگنے پر رہا کردیا گیا۔دوسری جانب پروفیسر جاوید کھارا نے پونے چار بجے شام سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ’’ڈی پی او نے علماء کے وفد کو مجھ سمیت بند کردیا‘‘ اور ایک منٹ کے بعد پھر لکھا کہ ’’انکوائری کے لیے بلاکر علماو مشائخ جو 12 عدد ہیں جن میں مولانا منصب خان صاِہی ہیں انڈر ارسٹ کردیا‘‘ پندرہ منٹ بعد پھر لکھا گیا کہ’’آئی جی کو شکائت کیوں لگائی‘‘اور ایک منٹ کے بعد چوتھا اور اسٹیس اپ ڈیٹ کیا گیا کہ ’’ اس پر علما و مشائخ کو ننگی گالیاں اور زیر حراست‘‘۔ اصل معاملہ کیا ہے اس بارے پولیس کی جانب سے تاحال کوئی 
 یہ خبر بھی پڑھیں جو اس واقعہ کی بنیاد بنی صدر پولیس پر رشوت وبدتمیزی کا الزام 
باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔جبکہ پروفیسر جاوید کھا را جو کہ وفاقی وزیر پیر امین الحسنات کے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف ضلع سرگودھا سے فارغ التحصیل ہیں اور انجمن طلباء اسلام کے رہنماء رہ چکے ہیں۔ دوسری جانب ڈی پی او خوشاب وقاص حسن ایک دیانتدار ، فرض شناس اور انتہائی متحرک پولیس آفیسر کی شہرت رکھتے ہیں۔

;
مذہبی شخصیت گرفتاری و رہائی ناخوشگوار واقعہ  مذہبی شخصیت گرفتاری و رہائی ناخوشگوار واقعہ Reviewed by Khushab News on 11:54:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.