شیخ مکتب ہے اک عمارت جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

محترم جناب پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ صاحب کا موبائل پہ میسج آیامیں نے ایک نظر میسج پہ ڈالی ’’خوشاب تھنکر فورم‘‘پروفیسر چودھری محمدصدیق مرحوم کی یادمیں تعزیتی ریفرنس منعقدکررہاہے۔ضرورحاضری دیجیے گا۔‘‘میں نے فوراًاپنے ادبی دوست محمدعلی اسدبھٹی صاحب کو فون کیااوران سے پروگرام میں شرکت کے حوالے سے بات کی۔چونکہ پروگرام اتوارکو تھااس لیے مجھے خوشی تھی کہ پروگرام میں حاضری ضروردے سکوں گا۔دوسری خوشی پروگرام کا موضوع تھا۔گومیں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج جوہرآباد کا طالب علم نہیں رہامگر مجھے آج بھی قبلہ شیر محمدڈھڈھی مرحوم سے سنی ہوئی ڈگری کالج کی کہانی یاد ہے کہ یہ کالج ہمارے ضلع میں کیسے بنایاگیا تھا۔پروگرام پہ کچھ غورکیا تووہی کہانی کے مناظر سامنے آنے لگے کہ کس طرح سے ابتدائی مراحل میں مشکلات کا سامناکرکے اس کالج کوشروع کیاگیا تھااورآج یہ کالج جس مقام پرہے اس کی سب سے بڑی وجہ یقیناپروفیسر چودھری محمد صدیق مرحوم جیسے لوگ ہی تھے ۔حقیقت میں استاد کی حیثیت ،اہمیت اور مقام مسلّم ہے وہ اس لیے کہ استاد نہ صرف معمار قوم ہے بلکہ نونہالان قوم کی تعلیم و تربیت کاذریعہ بھی ہوتا ہے۔استادہی قوم کے نوجوانوں کو علوم و فنون سے آراستہ کرتا ہے اور اس قابل بناتا ہے کہ وہ ملک و قوم کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں۔استاد جہاں نوجوانوں کی اخلاقی روحانی اور دینی تربیت کرتا ہے وہاں ان کی مختلف علمی ،سائنسی ،فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا سامان بھی کرتا ہے۔والدین بچے کی جسمانی پرورش کرتے ہیں جب کہ استاد کے ذمہ بچے کی روحانی تربیت ہوتی ہے اس لحاظ سے استاد کی حیثیت اور اہمیت والدین سے کسی بھی طرح کم نہیں بلکہ ایک لحاظ سے بڑھ کر ہے کیوں کہ روح کو جسم پر فوقیت حاصل ہے۔استادجب ایسی خصوصیت کا حامل انسان ہوتو یقیناحضرت سلطان باہوؒ نے انہی کے بارے میں لکھا تھا:’’نام فقیر انہاں داباھو،قبر جنہاں دی جیوے ھو‘‘۔

پروگرام میں حاضری کے لیے پہنچے توکافی علمی وادبی شخصیات وقت پر اپنی اپنی جگہوں پر پراجمان تھیں۔تلاوت اورنعت کے بعدجب پروفیسرمحمدصدیق مرحوم کے حوالے سے بات چیت سنی تب احساس ہواکہ ہماراعلاقے سے کتنی بڑی ہستی کاسایہ اُٹھ گیا۔
آگے کوئی گیاکوئی پیچھے چلاگیا
جاناضرورہے کوئی جیسے چلاگیا
لیکن اسے بلاؤوہ کیسے چلا گیا
دل کو ہزارزخم جو دے کے چلا گیا
میں پروفیسرمحمدصدیق کی شخصیت کے حوالے سے اتنانہیں جانتاپر خوشاب تھنکر فورم نے جویہ پروگرام منعقد کیاخصوصاًملک اعظم راجڑایڈووکیٹ اورپروفیسرخالد جیلانی ٹوانہ صاحب جواپنی گوناں گومصروفیات سے وقت نکال کر ایسے پروگرام کا اہتمام کررہے ہیں ان کے بارے میں یہ ضرورکہوں گاکہ بلاشبہ آج جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب پوری دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو گئی ہے اور اس عالمی گاؤں میں صارفیت کے نظام کا بول بالا ہو گیا ہے جس کے سبب انسان مشین بن کر رہ گیا ہے۔ بے حسی، خود غرضی، نفسانفسی، بے ایمانی اور بے راہ روی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ظلم و جبر نے دہشت گردی کو ہوا دی ہے اور دہشت گردی پھیل کر سپرپاور کی ایک ایسی طاقت بن گئی ہے جو دہشت گردی کی دہائی دے کر خود اس کے بل بوتے پر اپنی طاقت آزماتا رہا ہے۔ فرقہ پرستی کا زہر پوری فضا میں ہر جگہ پھیل گیا ہے ،ایسے حالات میں استادکے کردارکو عوام الناس کے سامنے پیش کر ناکسی جہادسے کم نہیں۔میں سمجھتاہوں کہ یہ صرف تعزیتی ریفرنس نہیں تھابلکہ ہال میں بیٹھے تمام اساتذہ کرام اورپروفیسرحضرات کے لیے ایک ایساپروگرام تھا جس میں ان کو پروفیسر محمد صدیق کی شخصیت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملاہوگاکہ جس بنیادپر وہ نئی نسل کو وقتِ حاضر دے درپیش چیلنجزکو سامنا کرنے کے قابل بنا سکیں گے۔آج پروفیسرمحمد صدیق ہم میں نہیں ہیں مگر ان کے الفاظ ان کے شاگردوں کی زبانوں پہ روشن ہیں اوراپنے گردوپیش کو تابندگی دے رہے ہیں اورآنے والے کے لیے اس میں اُمید کی کرن اورروشنی کی نوید ہے۔
ذکر ان کا ابھی ہوبھی نہ پایا زباں سے
دل میں یہ اُجالے اتر آئے کہاں سے
شیخ مکتب ہے اک عمارت جس کی صنعت ہے روحِ انسانی شیخ مکتب ہے اک عمارت جس کی صنعت ہے روحِ انسانی Reviewed by Khushab News on 8:11:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.