پنجابی افسانچے کی روایت ۔۔۔ محمدنعیم یاد

کہانی انسان کیلئے کوئی نئی چیز نہیں۔ اپنے اجتماعی زندگی کے بالکل ابتدائی دور سے کہانی سننا انسان کا مشغلہ رہا ہے اس کی مختلف شکلیں جیسے داستان، حکایت، روایت، قصہ وغیرہ ہمارے سامنے آتی رہی ہیں۔ افسانچہ بھی انہی داستانوں کا حصہ ہے جس طرح داستان کے بطن سے ناول، ناول کے بطن سے افسانہ پیدا ہوا ہے اسی طرح افسانے سے افسانچہ وجود میں آیا۔ ہماری زندگی انہی افسانوں افسانچوں سے بھری پڑی ہے۔اس زندگی کے بحر میں مچھلیوں کی طرح داستانوں کی بھرمار ہے اور ہر انسان روزِ ازل سے ان داستانوں اور قصوں کا حصہ بنتا آ رہا ہے۔کچھ اہلِ ادب حضرات ان داستانوں کو مختلف طرزِ تحریر سے ان داستانوں کو ناول، افسانوں اور افسانچوں وغیرہ کی صورت پیش کرتے آ رہے ہیں۔کسی مصنف کی ایسی تحریروں کا مقصد قاری کو صرف وقت گزاری یا وقت پر گرفت حاصل کرنے کا بہانہ دینا نہیں ہوتا بلکہ لکھنے والے کا تحریر میں کوئی نہ کوئی نقطۂ نظر پوشیدہ ہوتا ہے۔

اردو میں منٹو نے سب سے پہلے سیاہ حاشیے کے عنوان سے مختصر ترین افسانے لکھ کر اس صنف کی بنیاد ڈالی۔ اب یہ الگ بحث ہے کہ منٹو کو اس کی تحریک مغرب سے ملی ہو کیونکہ منٹو کی ادبی زندگی کا آغاز ہی روسی کہانیوں کے مترجم کی حیثیت سے ہوا تھا۔ ہوسکتا ہے اس زبان یا دیگر مغربی زبانوں کے زیر اثر انھوں نے لکھا ہو۔ لیکن افسانچہ کو سرے سے صرف مغرب سے متاثر ہونے کا نتیجہ سمجھنا قطعی مناسب نہیں ہے کہ افسانچہ بھی اردو کی خالص اپجی صنف ہے۔ اس سلسلے میں جو نظریات ملتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس نظریے کے تحت افسانچہ کی روایت پرانی حکایات اور خلیل جبران کے مقولوں سے شروع ہوتی ہے۔سید محمد عقیل کہتے ہیں کہ خلیل جبران کے فکر پارے کو عالمی ادب میں سب سے چھوٹی کہانی یعنی افسانچہ کا نام دیا گیا ہے۔ عربی ادب میں بھی باقاعدہ اس صنف کی روایت موجود ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اردو والوں نے قصیدہ کی طرح اس صنف کی ایجاد میں عربی ادب سے استفادہ کے نتیجے میں راہ ہموار کی ہو۔البتہ ہندی میں بھی لگوکتھا اور مرہٹی زبان میں شنک کتھا کے نام سے افسانچہ کی یہ روایت ملتی ہے۔
پنجابی میں بھی بہت پہلے سے افسانچے لکھے جا رہے ہیں لیکن وہاں اسے لطیفے سے قریب کر دیا گیا ہے۔اوریوں پنجابی ادب میں کوئی بھی افسانچہ نگارکے طور پر اپنا نام پیدانہ کرسکا۔
اُردوافسانچے پہ میری دوکتب ’’اِک خواب جو ٹوٹ گیا‘‘،اور’’پتھرروتے ہیں‘‘ شائع ہوچکی تھیں اوراہلِ ادب کی طرف سے خوب پذیرائی بھی ملی۔بزمِ سانجھ ہڈالی کی طرف سے ایوارڈ بھی دیاگیا۔ایسے ہی سرگودھایونیورسٹی کے ایف ایم پہ پنجابی پروگرام ’’سانجھ سنگت ‘‘میں نسیم اقبال بھٹی صاحب نے میری خوب حوصلہ افزائی فرمائی اورمجھے پنجابی میں افسانچے لکھنے کی طرف راغب کیا۔مجھے ان کا مشورہ پسند آیا اوریوں میں نے پنجابی افسانچوں پہ کام کرنا شروع کردیا۔
ریڈیوکے اگلے پروگرام میں میرے ساتھ مہمان شخصیت شریف فیاض وزیرآبادی تھے۔میں نے جب پروگرام میں پنجابی میں چند افسانچے پڑھے تو وہ بہت خوش ہوئے اورواپسی پہ ان سے افسانے اورافسانچے میں فرق کے موضوع پہ خوب گفتگو ہوئی۔جس کے بعدمیں نے سوچاکہ کیوں نہ قارئین کی آسانی کے لیے میں اپنی کتاب میں افسانچوں کے ساتھ چند افسانچے بھی شامل کردوں۔یوں میں اپنے دس افسانوں اورکئی افسانچوں کو شامل کرکے پنجابی کا ایک مسودہ تیارکرکے نسیم اقبال بھٹی صاحب کی خدمت میں پیش کردیا۔انھوں نے اپنے قیمتی وقت سے وقت نکال کر اس کی اصلاح کردی۔اوریوں اللہ کے فضل وکرم سے میں پنجابی زبان میں پہلی کتاب شائع کرنے میں کامیاب ہوگیا۔نسیم اقبال بھٹی صاحب کے ساتھ ساتھ دونام اوربھی ایسے ہیں جنھوں نے پل پل میری راہنمائی فرمائی جن میں ملک شاہسوارعلی ناصر اورمحمد علی اسد بھٹی صاحب ہیں۔اس کے علاوہ محترمہ پروین ملک صاحبہ(صدرپنجابی ادبی بورڈ)،محترمہ سیدہ ظل ہمابخاری صاحبہ (لاہور)،محترم سید تاثیر مصطفی صاحب(لاہور)،محترم نازاکاڑوی صاحب،(لاہور)اورتنویر ظہور صاحب جیسی شخصیت کی طرف سے جو حوصلہ افزائی ملی میں لفظوں میں لکھنے سے قاصرہوں۔تنویر ظہورصاحب نے جونہی کتاب دیکھی انھوں نے اسی وقت مجھے مبارک باد کا فون کیا۔اوردودن بعد مجھے اپنے رسالہ ’’سانجھاں‘‘کی دوکاپیاں ارسال کیں ساتھ میں ایک مبارک بادکاخصوصی خط بھی لکھا۔میں ان کا ازحدمشکورہوں۔
پنجابی زبان کی بدقسمتی ہے کہ یہ دنیاکی بولی جانے والی زبانوں میں ہزاروں زبانوں میں چودھویں نمبر پرہے پر پڑھنے اورلکھنے میں یہ کتنے ہزارویں نمبرپرہوگی ؟یہ بس سوچتے جائیں اورشرمندہ ہوتے جائیں۔میرے لیے یہ امر باعثِ فخرہے کہ پنجابی زبان نے میرے لیے کچھ حصہ نکالا ہے۔کوئی بھی لکھاری معاشرے سے کٹ کرزندگی نہیں گزارتابلکہ وہ معاشرے میں رہتے ہوئے اوراپنے خیالات کی رو میں بہہ کرمعاشرے کے گردوپیش حالات وواقعات کو قلم کے ذریعے پیش کرتا ہے۔اس لیے کتاب کے زیادہ تر افسانچوں میں آپ کو سیاسی،سماجی اورعالمی صورتِ حال کی جھلک ملے گی اورجہاں تک افسانچوں کے موضوعات کا تعلق ہے تو یہ ابتداء سے ہی اپنے عصر اور سماج سے جڑا ہوا ہے۔ آج جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب پوری دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو گئی ہے اور اس عالمی گاؤں میں صارفیت کے نظام کا بول بالا ہو گیا ہے جس کے سبب انسان مشین بن کر رہ گیا ہے۔ بے حسی، خود غرضی، نفسانفسی، بے ایمانی اور بے راہ روی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ظلم و جبر نے دہشت گردی کو ہوا دی ہے اور دہشت گردی پھیل کر سپرپاور کی ایک ایسی طاقت بن گئی ہے جو دہشت گردی کی دہائی دے کر خود اس کے بل بوتے پر اپنی طاقت آزماتا رہا ہے۔ فرقہ پرستی کا زہر پوری فضا میں ہر جگہ پھیل گیا ہے۔ اقتدار کی بے جا ہوس میں ہمارے لیڈروں نے اسے اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔ انسانوں کے بیچ ذات پات، مذہب، زبان اور علاقائی تقسیم کے نام پر اپنی دوکانیں خوب چمکائی ہیں۔ اعلیٰ قدروں کی ٹوٹ پھوٹ ہو چکی ہے اور تہذیبوں کے تصادم کے نتیجے میں انسان اپنے سماج اور معاشرے سے کٹ کر صرف اپنے گھر کی حد تک ، اکثر صورتوں میں اپنی ذات کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اسے سوائے اپنے کچھ نظر نہیں آتا۔ اس طرح خونی رشتوں کی بھی شکست و ریخت ہو چکی ہے۔ مفلسی، غریبی، بے روزگاری نے کئی مسئلوں کو جنم دیا ہے وہیں اس کے عفریت نے اخلاقی قدروں اور تہذیب کی اعلیٰ بلندیوں کو نگل کر کئی برائیاں پیدا کر دی ہیں جس کی ایک بڑی مثال آج معاشرے میں پھیلی جنسی بے راہ روی سے دی جاسکتی ہے۔ جھوٹ مکر و فریب، وعدہ خلافی اور اس قبیل کی بہت ساری برائیاں معاشرہ کا روز مرہ بن چکی ہے۔ معاشرے میں جہیز کی بیماری لاعلاج مرض بن کر وبا کی طرح پھیل گئی ہے۔بے ایمانی ہمارا ایمان بن چکی ہیں۔ لوٹ مار، رشوت خوری عام ہو چکی ہیں۔ دھوکہ دہی فیشن ہو گیا ہے۔ منافقت تہذیب بن گئی ہیں۔ غرض یہ تمام برائیاں عام ہو کر رفتہ رفتہ ہمارے معاشرے کا چلن بنتی جا رہی ہیں اور پھر رہی سہی کسر ذرائع ابلاغ نے پوری کر دی ہے۔ اس نے تو نئی نسل کی اخلاقی اور معاشرتی تہذیب کا جنازہ نکال دیا ہے۔ پورے معاشرے کے ساتھ میڈیا کا کھلواڑ بڑی شدت سے جاری ہے۔ ان تمام حالات اور ان تمام عوامل کو اس کے وسیع تر پس منظر میں تقریباً سبھی افسانچہ نگاروں نے اپنے اپنے افسانچوں میں پیش کیا ہے اور عصری آگہی، عصری حسیت کی اصطلاح ان معنوں میں وسیع سے وسیع تر ہو کر ان تخلیقات میں جا بجا نظر آتی ہے۔ جو پڑھنے والوں کو اپنے اختصار اور ایجاز کے سبب متاثر کرتی ہے اور متوجہ بھی۔ اس طرح اب اس بات کی قوی امید کی جاسکتی ہے کہ ان مختصر تحریروں کے حوالے سے ایک بار پھر پرنٹ میڈیا سے نئی نسل کا ایک بڑا حلقہ جڑ سکتا ہے۔ جو آج کے میڈیا کے دور میں یقیناً اپنی اہمیت منوانے میں کامیاب ہو گا۔
پنجابی افسانچے کی روایت ۔۔۔ محمدنعیم یاد پنجابی افسانچے کی روایت ۔۔۔   محمدنعیم یاد Reviewed by Khushab News on 5:23:00 PM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.