آوازایک ادبی سفرکی۔۔۔آخری حصہ

پنجابی ادبی بورڈ سے پریس کلب لاہورکی جانب ہماراسفر جاری تھا۔پاکستان پنجابی ادبی بورڈ کی یادیں لیے ہم اگلی منزل کی طرف گامزن تھے۔جونہی پریس کلب کے سامنے اُترے۔پینٹ شرٹ میں ملبوس سرجھکائے ایک باوقارشخصیت گیٹ سے نکل کر باہر جارہی تھی۔بھٹی صاحب نے دیکھتے ہی کہا کہ جانتے ہو کون جارہاہے؟میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھااورپہنچانتے ہوئے ان کی طرف تیزی سے پہنچا،وہ تاثیر مصطفی صاحب تھے۔
تاثیر مصطفی صاحب سینئیر کالم نگارہیں اورآج کل روزنامہ ’’نئی بات ‘‘میں کالم لکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘میں بھی باقاعدگی سے ان کا کالم شائع ہوتا ہے۔تاثیر صاحب سے میری پہلی ملاقات ایک سال قبل ہوئی تھی جب خوشاب سے محترم ملک شاہ سوارعلی ناصراورہڈالی سے محترم محمدعلی اسدبھٹی کے ساتھ میں پہلی دفعہ مسعودکھدرپوش ٹرسٹ کی سالانہ تقریب میں گیاتھا۔جیساکہ میں نے پہلے بتایاتھاکہ بھٹی صاحب لاہورکے ہر سفر کو ادبی رنگ دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں اس دن بھی بھٹی صاحب نے مختلف شخصیات سے ملاقات کا پوراشیڈول بنایاہواتھاجن میں ایک شخصیت سیدتاثیر مصطفی صاحب بھی تھے۔اتنا بڑانام اوراتنی عاجزانہ شخصیت اورپھرچہرے پہ ہلکی مسکراہٹ ۔۔۔ان سے ملنے والے ہر ایک کو اپنے حصارمیں کھینچ لیتی ہے۔ 
اس بار بھی ہمیں دیکھتے ہی وہ مسکرائے اوربولے میں نمازپڑھنے جارہاتھا۔ہم نے کہاہم بھی چلتے ہیں۔نمازسے فارغ ہوئے تو تاثیر صاحب کے ہمراہ پریس کلب پہنچے۔استقبالیہ روم میں ایک شخصیت ہماراانتظارکررہی تھی۔تاثیر انھیں دیکھتے ہی ہم سے بولے’’آپ کے ایک مہمان حاضر ہیں‘‘۔
وہ تنویر ظہور صاحب تھے۔ہمیں دیکھتے ہی بڑے پڑتپاک طریقے سے گلے ملے۔تنویر ظہورصاحب سے میراتعلق صرف اتنا تھاکہ میں ان کی تحریروں کاقاری تھا۔خالقِ کائنات نے انھیں قلم کاکون ساذوق نہیں بخشا۔ایک طرف سے کالم نگار اوردوسری طرف اُردو پنجابی کے مشہورشاعر،محقق اورایک بہت بڑے ادیب۔جب میری پنجابی افسانچوں پہ مشتمل کتاب’’نیناں سے سُفنے‘‘شائع ہوئی تو میں نے بہت سی اہم ادبی شخصیات کو اپنی کتاب بھیجی مگر تنویر ظہور صاحب وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے کتاب وصول کرتے ہی مجھے فون کیا اورمبارک باد دی اورپھر مجھے مبارک باد کا خط لکھاساتھ اپنی شاعری کی ایک خوبصورت کتاب ’’آنکھ،حسن اورخوشبو‘‘بھی بھیجی۔اس کے علاوہ ماہنامہ رسالہ ’’سانجھاں کی دوکاپیاں بھی یہ کہتے ہوئے ارسال فرمائیں کہ یہ رسالہ آپ کاہے آپ جو لکھنا چاہیں ہمارارسالے میں آپ کو پوراحصہ دیا جائے گا۔
ان سے بالمشافہ ملاقات اب پہلی دفعہ ہورہی تھی۔تاثیر مصطفی صاحب سب کوکھانے کے لیے کینٹین لے گئے۔کھانے کے دوران ہی عقیل شافی صاحب کا فون بھی آگیاکہ وہ خارجی گیٹ پہ کھڑے ہیں۔بھٹی صاحب ان کو لینے گئے یوں ہماراگروپ پوراہوگیا۔
میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھا
جہاں پردے پہ اک فلم کے کردار
زندہ جاوید نظرآتے ہیں
کھانا کھانے کے بعدپریس کلب تاثیر مصطفی صاحب نے تقریب کا انتظام کررکھا تھا۔بھٹی صاحب نے بزمِ سانجھ کا تعارف کروایا اوراس کے تحت ہر سال دیے جانے والے ایوارڈکی تفصیل بتائی۔تنویرظہورصاحب کو اُن کی کتاب’’اقبالؒ اورپنجابیت‘‘،عقیل شافی صاحب کو ان کی کتاب’’تارے عربی چن دے‘‘اورسید تاثیر مصطفیٰ صاحب کو ان کی اعلیٰ صحافتی خدمات کے اعتراف میں سانجھ ایوارڈ سے نوازاگیا۔تقریب میں پریس کلب کے کئی سینئرصحافی اس موقع پر موجودتھے جنھوں نے تقریب کو بہت سراہا۔ایوارڈزکی تقسیم کے بعد بھٹی صاحب نے میری دونوں کتابوں’’بے نام مسافتیں‘‘اورنیناں دے سُفنے‘‘کاتعارف کروایا ۔تاثیر مصطفی صاحب،عقیل شافی اورتنویر ظہور صاحب نے بھی کتابوں پہ میری حوصلہ افزائی فرمائی اوربزمِ سانجھ کے صدرمحمد علی اسدبھٹی صاحب کاشکریہ اداکیا۔
کہتے ہیں وقت بہت تیزی سے گزررہاہے۔اس بات کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ اتنی بڑی شخصیات کے پاس بیٹھے ہوں ان سے بات چیت چل رہی ہو۔اورآپ کے دل سے آوازآرہی ہوکاش یہ وقت یہیں تھم جائے پر ایسانہیں ہوتا۔وقت آپ کو اگلی منزل کے لیے خبردارکررہا ہوتا ہے ۔ایسے ہی ان علم وفن کے روشن ستاروں کے جھرمٹ میں محسوس ہورہاتھا کاش یہ وقت تھم جائے پر ہم تو مسافر تھے اوراگلی کئی منزلیں ہماراانتظارکررہی تھیں۔تاثیر مصطفی صاحب،تنویر ظہورصاحب اورعقیل شافی صاحب سے رخصتی کی اجازت لیتے ہوئے جب ہم خارجی گیٹ سے نکل رہے تھے تو پریس کلب لاہورکوایک نظر دیکھتے ہوئے بے اختیارمیری زباں پہ شعرجاری ہوگیا:
تھوڑے جئے غمخواربچاکے رکھے نیں
میں تے اپنے یاربچاکے رکھے نیں
آوازایک ادبی سفرکی۔۔۔آخری حصہ آوازایک ادبی سفرکی۔۔۔آخری حصہ Reviewed by Khushab News on 4:43:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.