آوازایک ادبی سفرکی۔۔۔


محمدعلی اسد بھٹی میرے بہت ہی دیرینہ ادبی دوست ہیں۔جب بھی لاہورجانے کاکوئی پروگرام بنتا ہے وہ اسے ادبی رنگ میں ڈھالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ابھی کچھ دن قبل جب ہمارالاہورکاپروگرام بناتو انھوں نے مجھے بتایاکہ بزمِ سانجھ کی طرف سے لاہورکی کچھ ادبی شخصیات کوایوارڈزدیناطے پائے تھے میں نے پریس کلب میں پروگرام طے کردیاہے اس لیے آپ تیاررہیے گا۔صبح بروقت ہم لاہورپہنچے تو انھوں نے بتایا کہ ہم نے پہلے پاکستان پنجابی ادبی بورڈ کے دفتر جاناہے۔وہاں محترمہ پروین ملک صاحبہ کو ان کی کتاب’’کسیاں داپانی‘‘اورمحترمہ ظلِ ہمابخاری صاحبہ کو ان کی کتاب’’مِٹی دے ساہ‘‘پہ ایوارڈ دیناہے۔پاکستان پنجابی ادبی بورڈ میں جب بھی ہم جاتے ہیں میری دلچسپی بڑھ جاتی ہے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے ساتھ سبزہ زاردرختوں کے جھرمٹ میں پنجابی ادبی بورڈ کی عمارت اپنی مثال آپ ہے پھران درختوں پہ گیت گاتی کوئلیں،رس بھرتی فاختاؤں اورچڑیوں،کووں کی آوازیں ایک ایساتاثر پیداکرتی ہیں جو وہاں جانے والے کو اپنے حصارمیں کھینچ لیتی ہیں۔دفتر پہنچے تو پروین ملک صاحبہ کا فون آیاکہ آپ تھوڑی دیرانتظارفرمائیے گامیں کچھ ہی دیر میں پہنچتی ہوں۔سیدہ ظل ہمابخاری صاحبہ بھی کچھ دیرمیں تشریف لائیں گو میراان سے ٹیلی فونک اورفیس بک پہ رابطہ ضرور رہتاہیمگر ملاقات پہلی تھی۔پروین ملک صاحبہ کے آنے تک چند لمحوں کی ملاقات ہی میرے لیے یادگارتھی سیدہ ظل ہمابخاری صاحبہ سے گفتگو کے دوران معاشرتی پہلوؤں پہ ان کی بات چیت سن کر اندازہ ہواکہ واقعی وہ ایسی دردمند خاتون ہیں جو معاشرے کا دکھ درداپنے سمیٹی ہوئی ہیں اورکسی بھی عمدہ لکھاری کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے چھوٹے چھوٹے دکھ دردکو اپنے اندر سمیٹ کر انھیں قلم کی سیاہی میں ڈبو کر صفحہ قرطاس پر بکھیرتاہے۔

’’کیہ کریے جیناپیندااے

رات دی لمی شوک دے اندر
ساہ وی لیناپیندااے
کدی چوفیرے کنڈیاں اُتے
پیروی دھرناپیندااے
راہواں ڈکڈیاں ڈیناں اگے
ڈٹ کے رہناپیندااے
میں ان کی گفتگوسے ان کی کتاب ’’مٹی دے ساہ‘‘میں ان کی لکھی گئی نظموں کا اندازہ لگارہاتھااورساتھ ہی محترم بھٹی صاحب کی فہم وفراست کوداددے رہاتھا جنھوں ایسی کتاب کو ایوارڈ کے لیے منتخب کیاتھا۔کچھ ہی دیر بعد محترمہ پروین ملک صاحبہ ہمیشہ کی طرح دھیمی سی مسکراہٹ لیے تشریف لائیں اوردیرسے آنے کی معذرت کی ۔چائے بسکٹ کے ساتھ اتنی بڑی ادبی شخصیات کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وہ چند لمحے میرے لیے یارگاررہیں گے۔پروین ملک صاحبہ میرے ساتھ ہمیشہ سے ہی شفیق رہی ہیں خاص طور پہ جب سے انھیں مرحوم منشاء یادصاحب اورمیرے تعلق کا پتہ چلاہے وہ باتوں باتوں میں ان کاتذکرہ ضرورکرتی ہیں۔اس دن بھی جب ہم باتیں کررہے تھے تو کھڑکی سے کووں کی آوازسن کر مجھے منشاء یادصاحب کاکوے پہ افسانہ یادآگیا میں نے پروین ملک صاحبہ کے سامنے ذکر کیاتو کہنے لگیں’’منشاء یادصاحب دی تے کیہ گل سی،انہاں داہر افسانہ پڑھ کے میرے دل وچ ایہوخیال آنداسی کہ ایہہ افسانہ کدے میں لکھیاہوندا‘‘۔۔۔۔چائے کے بعدبھٹی صاحب نے بزم سانجھ کا تعارف کرواتے ہوئے ایوارڈ پیش کیے ۔پروین ملک صاحبہ کو ان کی کتاب ’’کسیاں داپانی‘‘اورسیدہ ظل ہمابخاری صاحبہ کو ان کی کتاب’’مِٹی سے ساہ‘‘پہ سانجھ ایوارڈ پیش کیاگیاجس پہ انھوں نے شکریہ اداکیا۔کچھ دیربعدسیدہ ظل ہمابخاری صاحبہ نے اجازت لی تو ہم نے پروین ملک صاحبہ سے اجازت لی کیونکہ ہماراسفر ابھی باقی تھا۔۔۔۔۔۔
آوازایک ادبی سفرکی۔۔۔ آوازایک ادبی سفرکی۔۔۔ Reviewed by Khushab News on 2:48:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.