فرزانہ ناز ’’شہیدِ کتاب‘‘ ہے

اگر کوئی انسان اور آکسیجن کے باہمی تعلق کے بارے میں پوچھے تو دلیل کے ساتھ بحث کی جاسکتی ہے لیکن اگر کوئی انسان اور کتاب کے باہمی تعلق کے بارے میں پوچھے تو اُس کی ذہنی حالت پر شک ہوتا ہے۔ کوئی بھی فرد یا قوم کتاب سے تعلق جوڑے بغیر صرف ایک وجود، وزن یا ڈھیر ہوسکتی ہے۔ کتاب فرد اور قوم کی زندگی کی علامت ہے۔ کتاب سے ہی انسانیت اپنے لاکھوں برس پرانے ماضی سے جڑی ہے، اپنے اسلاف کو پہچان سکتی ہے، اپنے پُرکھوں کے کارناموں پر فخر کرسکتی ہے یا اُن کی حرکتوں پر شرمندہ ہوسکتی ہے۔ کتاب سے تعلق کے بغیر کوئی فرد یا قوم ایسی ہی ہے جیسے کہ اُس کے باپ کے نام کا پتہ نہ ہو۔ کتاب ایک تہذیب ہے، ایک کلچر ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، موبائل فونز اور الیکٹرانک آلات کی بھرمار کی وجہ سے یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ آج کا انسان کتاب سے دور ہورہا ہے۔ خاص طور پر پاکستانی معاشرے کو ڈپریس کرنے کے لئے یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ کتاب سے تعلق توڑ بیٹھے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور وغیرہ میں بُک فیسٹیولز نے ایسے پراپیگنڈوں کو جھٹلا دیا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے زیرانتظام 22 تا 24اپریل 2017ء کو اسلام آباد میں ہونے والا آٹھواں نیشنل بُک فیسٹیول تھا۔ اس میں بیشمار علمی وادبی سرگرمیوں کے علاوہ ملک بھر کے تقریباً 150 سے زائد چھوٹے بڑے پبلشروں نے اپنے بُک سٹال لگائے جہاں کتابوں کی خریداری پر پچاس فیصد تک رعایت تھی۔ قومی کتاب میلے میں ادب، سیاست، معاشرت، سائنس، تحقیق، تنقید وغیرہ سمیت ہر موضوع کی کتابیں موجود تھیں۔ یہاں تک کہ ننھے منے روشن کھلونوں یعنی بچوں کی دلچسپی کی کتابیں بھی سجائی گئی تھیں۔ اس قومی کتاب میلے کو بہت زیادہ عوامی پذیرائی حاصل ہوئی جس کا ثبوت تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد کا ہر روز اس میلے کو وزٹ کرنا تھا۔ کتابوں کی شوقین اس بھیڑ میں اپنی تنہائی سے بیزار صرف بوڑھے ہی نہیں تھے بلکہ زندگی کی چمک دمک سے اٹکھیلیاں کرتے نوجوان بھی تھے، یہاں ماؤں کی انگلیاں پکڑے اور ٹافیاں کھاتے پیارے بچے بھی تھے، سیکورٹی گارڈز رکھے وی آئی پی بھی آئے، کمتر درجے کالباس پہنے لوئر مڈل کلاس بھی آئی، پان چباتے نستعلیق لوگ بھی موجود تھے اور کھلی ڈلی تہذیب کے افراد بھی نظر آئے۔ گویا قومی کتاب میلہ کسی ایک طبقے کو متوجہ کرنے کے لئے نہیں سجا تھا بلکہ سب کی دلچسپی کا باعث تھا۔ اس کتاب میلے میں نہ صرف طرح طرح کی کتابیں تھیں بلکہ جانے پہچانے چھوٹے بڑے بہت سے لکھاری بھی حاضر تھے جنہیں سفیرانِ کتب کا نام دیا گیا۔ یہاں رعایتی قیمتوں پر فروخت ہونے والی کروڑوں روپے کی کتابوں کو دیکھ کر پاکستان کے خلاف کیا جانے والا وہ پراپیگنڈہ اپنی موت آپ مرتا نظر آیا جس میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے باعث غیرمحفوظ ہے۔ اس کتاب میلے کی تعریف و تحسین کے بعد کچھ سوالات ذہن میں آتے ہیں کہ پاکستان میں تمام تر سرگرمیوں کا مرکز بڑے شہروں کوہی کیوں بنایا جاتا ہے؟ سیاسی جلسے ہوں، کانفرنسیں ہوں یا علمی وادبی پروگرام ہوں، سب کے سب اسلام آباد، کراچی یا لاہور جیسے شہروں میں ہی کئے جاتے ہیں۔ صرف بڑے شہر میں ہی اپنے جلوے دکھانا عموماً این جی اوز کا مزاج ہوتا ہے جو پاکستان کے غریب علاقوں اور غریب لوگوں کے نام پر فنڈز حاصل کرتی ہیں لیکن اُن کے تمام فنکشن اور چمکیلے شیشوں والے تمام دفاتر بڑے شہروں میں ہی ہوتے ہیں۔ کیا اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ چھوٹی جگہوں کے لوگ کتابوں سے محبت نہیں کرتے؟ نیشنل بُک فاؤنڈیشن اور اس جیسے سرکاری ادارے اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، گلگت یا مظفر آباد کے ساتھ ساتھ غریب علاقوں میں جاکر غریب مگر اصل پاکستانیوں کے لئے کیا بُک فیسٹیول نہیں لگاسکتے؟ کیا کتابوں سے متعلق سرکاری ادارے ہرسال ضلع کی سطح پر بُک فیسٹیول نہیں سجاسکتے؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو کیا یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستان کے لوگ تو کتاب سے محبت کرتے ہیں لیکن کتابوں کا انتظام کرنے والے صرف بڑے شہروں سے محبت کرتے ہیں جہاں سے اُن کی براہِ راست پبلک ریلیشننگ قائم ہو۔ انہی سوالات کے ساتھ جب یہ آٹھواں قومی کتاب میلہ اختتام پذیر ہورہا تھا تو ایک المناک حادثے نے کچھ چہروں کا بہروپ ظاہر کردیا۔ راولپنڈی کی جواں سال شاعرہ ’’فرزانہ ناز‘‘ اپنی پہلی تازہ کتاب ’’ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ مہمانانِ خصوصی کو پیش کرنے کے لئے سٹیج پر چڑھی تو پڑھے لکھے کتاب دوست دانشوروں کے دھکم پیل سے وہ سٹیج سے کئی فٹ نیچے جاگری جس سے اُس کے سر میں شدید چوٹ لگی اور ریڑھ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔ اُس کے دو معصوم بچوں کو شاعرہ رخصانہ نازی نے گرنے سے بچایا۔ ایک رات ہسپتال میں گزارنے کے بعد موت اُس سے لپٹ گئی۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اگر فرزانہ ناز کو فوری طبی امداد مل جاتی تو اُس کی جان بچ جاتی لیکن فوری طبی امداد مہیا کرنے والی انتظامیہ اُس وقت اپنی نوکری کی شاباش اکٹھی کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ انہیں اس بات سے کیا غرض تھی کہ کروڑوں روپے کی کتابیں بیچ کر بھی ایک زندگی واپس نہیں لائی جاسکتی۔ اتنے بڑے قومی میلے میں کسی ایمبولینس کا انتظام نہیں تھا۔ کسی باشعور رائٹر یا بہترین منتظم نے ایمرجنسی نمبر 15 پر کال بھی نہیں کی۔ شدید زخمی فرزانہ ناز کو ایک گھنٹے کی تاخیر سے ٹریفک پولیس کی وین میں ہسپتال پہنچایا گیا جبکہ ہسپتال کا کل فاصلہ صرف دس منٹ کا ہے۔ موبائل فونز اور سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے فرزانہ ناز کے گرنے کی وجوہات اور تاخیر سے ملنے والی طبی امداد کی وجوہات معلوم کی جاسکتی ہیں۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے اس آٹھویں قومی کتاب میلے کا عنوان تھا ’’کتاب۔ زندگی، امید، روشنی‘‘۔ کیا فرزانہ ناز کی چھ سالہ بیٹی اور چار سالہ بیٹے کے لئے یہ کتاب میلہ زندگی، امید اور روشنی ہوگا؟ اُن کی ماں کی موت کی ذمہ دار کتابیں نہیں بلکہ کچھ بے حس کتاب والے ہیں۔ عموماً نقاد کتاب کی علمی درجہ بندی کرتے ہیں۔ کیا کتاب لکھنے والوں کی انسانیت کی درجہ بندی بھی نہیں ہونی چاہئے؟ اگر کتاب کو امن، دوستی اور محبت کا پیغام کہا جاتا ہے تو کیا کتاب لکھنے والے امن، دوستی اور محبت کا پیکر نہیں ہونے چاہئیں؟ کیا این بی ایف کو اس کتاب میلے کی آمدنی کا مناسب حصہ فرزانہ ناز کے بچوں کے نام نہیں کرنا چاہئے؟ فرزانہ ناز نے قومی کتاب میلے میں کچھ رائٹروں کی غفلت یا بے حسی کے سامنے مرکر اپنے آپ کو زندہ کرلیا۔ کیا فرزانہ ناز ’’شہیدِ کتاب‘‘ نہیں ہے؟ 
;
فرزانہ ناز ’’شہیدِ کتاب‘‘ ہے فرزانہ ناز ’’شہیدِ کتاب‘‘ ہے Reviewed by Khushab News on 6:09:00 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.