عشق لہر۔۔۔ لاہور




69واں سالانہ ’’عشق لہر‘‘پہ مشاعرے اورتقسیم ایوارڈ کی تقریب کی دعوت تھی۔محترم عقیل شافی نے دوتین دن پہلے دعوت دی تو ہم نے اپناپروگرام ترتیب دے لیا۔خوشاب سے ملک شاہ سوارعلی ناصر اورہڈالی سے محمد علی اسدبھٹی صاحب نے بھی جاناتھا۔صبح جب ہم گاڑی میں بیٹھے تو ملک صاحب نے بتایاکہ سرگودھاسے شاکرکنڈان صاحب بھی تشریف لارہے ہیں۔اُن سے رابطہ ہوامگر انھوں نے کہا وہ تھوڑی دیر سے آئیں گے۔جب ہم لاہورپہنچے تو واقعی تھوڑی دیر بعدان کا فون آگیاکہ وہ کچھ دیر میں پہنچنے والے ہیں۔آپ اتنی دیر میں چائے وغیرہ پی لیں۔چائے پینے کے لیے جب ہم قریبی ہوٹل پہ پہنچے تووہاں کئی طرح کے کھانوں کی دل لبھانے والی خوشبو پھیل رہی تھی۔ملک صاحب نے چائے کے ساتھ حلوہ پوری کا آرڈربھی دے دیا،جس سے چائے کا لطف دوبالاہوگیا۔کچھ ہی دیر میں شاکر کنڈان صاحب بھی پہنچ گئے تو ہم نے ناصر باغ کی طر ف رُخ کیا جہاں پہ تقریب منعقدہوناتھی۔ناصر باغ کے سامنے گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخی عمارت دیکھی جو اپناماضی آج بھی بیان کررہی تھی،کتنی بڑی شخصیات کو اس ادارے نے طالب علم ہونے کااعزازبخشاتھا۔ناصر باغ پہنچے تومحترم عقیل شافی اورنازاکاڑوی صاحب استقبال کرنے کے لیے کھڑے تھے۔نازاکاڑوی صاحب سے میراٹیلی فونک رابطہ ضرورتھامگر بالمشافہ ملاقات پہلی تھی۔بلکہ دوتین دفعہ ان سے ملنے کی خواہش لے کر گئے مگر ان کی مصروفیات کی وجہ سے ملاقات نہ ہوسکی۔نازصاحب بہت ہی شفیق اورمحبت بھرے انسان ہیں اورپھر اس سے بڑھ کر ان کی عاجزانہ کیفیت انسان کو اپنے حصارمیں کھینچ لیتی ہے۔مہمان وقفے وقفے سے تشریف لارہے تھے اورہال بھرتاجارہاتھا،ایک دوسرے سے تعارف ہوتا گپ شپ ہوتی،ایک خوبصورت ماحول بن گیا،کچھ ہی دیر بعد عقیل شافی صاحب نے پروگرام کا آغازکیا۔استادشاعر‘‘عشق لہر‘‘کاتعارف کروایا۔تلاوت اورنعت کے بعدمہمانانِ خصوصی الحاج صوفی یعقوب،مظہر جاویداوررانا اظہر فیروزکاان کی نشستوں پہ بیٹھنے کی دعوت دی گئی۔مہمانانِ اعزاز،پروفیسرعاشق راحیل،عمران سلیم،ظہیر احمد ظہیرصاحب جب اپنی اپنی نشستوں پہ براجمان ہوئے تو عقیل شافی صاحب نے رسمِ تاج پوشی کا آغازکیا۔جس میں عمران سلیم،رانااظہرفیروز،افضل پیرس،محمدافضل ،عقیل شافی اورہمارے ادب دوست محمدعلی اسدبھٹی صاحب کی تاج پوشی کی گئی ۔اس کے بعدمشاعرے کا باقاعدہ آغازہوا۔تمام شعراء اپنا اپناکلام سنا تے رہے اوردادوصول کرتے رہے،اس سے بڑھ کر عقیل شافی صاحب نقابت کرتے ہوئے خوبصورت اشعارسے تقریب کورونق بخش رہے تھے ۔مشاعرے کے بعدتقسیم ایوارڈ کا سلسلہ شروع ہواجس کا تقریباًسبھی کو بے صبری سے انتظارتھا۔استادعشق لہر کے اس میلے پہ پہلی دفعہ کتابوں پہ ایوارڈ دیے جارہے تھے۔عقیل شافی صاحب نے بتایاکہ ہمارے ہاں جن شخصیات کے نام پہ ایوارڈدیے جاتے ہیں اکثروہ شخصیات اس دنیاسے پردہ فرماچکی ہوتی ہیں مگرمیں نے ان شخصیات کے نام پرایوارڈبنائے ہیں جو ہمارے ہاں موجودہیں جس میں قابلِ ذکر پروفیسرعاشق راحیل ایوارڈ،نازاکاڑوی ایوارڈ شامل ہیں۔نثر میں جب پروفیسر عاشق راحیل ایواڑوصول کرنے کے لیے جب میرانام پکاراگیا تو میری خوشی قابلِ دید تھی۔اتنی بڑی شخصیت کے ہاتھوں ایوارڈملنامیرے لیے اعزازکی بات تھی۔تین ماہ قبل جب میری پنجابی کتاب ’’نیناں سے سفنے‘‘شائع ہوئی تھی تو مجھے یقین نہیں تھا کہ میری کتاب اتنی جلد پذیرائی حاصل کر پائے گی۔بلاشبہ یہ سب دوستوں کی محبت تھی جنھوں نے میری اس کاوش کو سراہاتھا۔ایوارڈ وصول کیا توہمارے علاقے کی ایک بہت بڑی ادبی شخصیت جوآج کل لاہورمیں ہی ہوتے ہیں، ولایت فاروقی صاحب نے کھڑے ہو کر مجھے گلے ملتے ہوئے مبارک باد پیش کی۔وہ اس وقت شریف اکیڈمی میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ملک شاہ سوارعلی ناصر صاحب اورشاکر کنڈان صاحب کو بھی ان کی کتابوں پہ ایوارڈ سے نوازاگیا۔تقریب اختتام کو پہنچی تو سب احباب آپس میں ملنے ملانے لگے۔عقیل شافی صاحب بہت دادکے مستحق ہیں جنھوں نے اتنی خوبصورت محفل سجائی تھی۔باہر بارش نے ماحول کو اورخوبصورت کردیا تھا۔فوٹوسیشن کے بعد جب ہم باہر نکلے تو ولایت فاروقی صاحب ہمیں پرانی انارکلی بازارلے گئے جہاں چائے کے ساتھ آلوکے پراٹھوں نے لطف دوبالاکردیا۔ولایت فاروقی صاحب سے اجازت لی تو ہم سب اپنی اپنی منزل کو روانہ ہوگئے۔محبتیں سمیٹے ملک کے جس کونے سے بھی جو بھی مہمان آئے تھے مجھے یقین ہے کہ یہ لمحے ان کے لیے ہمیشہ یادگاررہیں گے۔اس امید کے ساتھ کہ یارزندہ صحبت باقی۔۔۔۔ 

;
عشق لہر۔۔۔ لاہور عشق لہر۔۔۔ لاہور Reviewed by Khushab News on 9:28:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.