سانجھ سنگت

انھوں نے جونہی پروگرام کا آغاز کیا میں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
عزتاں والے سامعینِ کرام !جدوں نِمی نِمی وادے ،مِٹھے ،مِٹھے جھولے چلدے نیں،تے وادے انہاں ٹھنڈے مٹھے جھولیاں وچ پُھلاں دی بھِنی بھِنی خشبو رلدی ایہ،تے چارچوفیرے کھلردی اے،تاں اُس ویلے خشبودی مستی نال مورپیلاں پاندے نیں،بلبلاں نوں حال پہ جاندے نیں،تاں فیر ہر جانے ان جانے نوں ایس گل دی کیڑ ہوجاندی ایہ کہ بہار آگئی ایہ۔سامعین ایسراں ای جدوں ماں بولی دی پھلواڑی وچ کوئی نوجوان اپنے خیالاں دے تروکے ماردااے،اپنے اکھر اپنی زبان نوں دان کرداایہ،اپنی محنت تے ریاضت داپھل اپنی پنجابی زبان دی جھولی وچ پانداایہ،تاں سانوں ایس گل دے بھلیکے پین لگ پیندے نیں کہ خورے پنجابی زبان تے وی بہارآرہی ایہ ،کیوں جے جس کم وچ نوجوان ہتھ پالین اس کم دی بڑھوتری دے وچ کسے نوں وی شک نئیں ہوناچاہی دا۔سامعین اج ساڈے نال اک جئے نوجوان سانجھ سنگت کر رہے نیں کہ جنہاں اپنی قومی زبان نوں اپنی کتاباں دان کیتیاں اوتھے ای انہاں نیں اپنی ماں بولی نوں وی نثر ی لکھتاں دااک گلدستہ ’’نیناں دے سفنے‘‘ دے ناں توں دان کیتا ایہ۔اے نوجوان لکھاری نیں جناب نعیم 
یاد۔۔۔۔
میرے تعارف میں ان کی زبان سے یہ الفاظ بہت اہمیت کے حامل تھے جو ہمیشہ کے لیے یادرہ گئے اس لیے نہیں کہ اس میری تعریف تھی بلکہ اس لئے کہ یہ تعریف کرنے والی شخصیت کوئی عام نہ تھی۔مجھے یاد ہے آج دے ٹھیک سات آٹھ ماہ پہلے جب میں پہلی دفعہ ان کے ملا اورانھوں نے میری کتابیں دیکھیں گو وہ اُردومیں تھی مگر انھوں نے مجھے اپنے پنجابی پروگرام میں شامل ہونے کا موقع دیا اورمجھے پنجابی میں لکھنے کی تلقین بھی کی۔گو مجھے پنجابی سے کافی دلچسپی تھی مگر میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا کہ پنجابی میں لکھ سکوں مگر ان کی حوصلہ افزائی نے میری ہمت کو مزید بڑھایااورمیں نے پنجابی میں افسانے اورافسانچے پہ کام شروع کردیا۔چند ماہ بعد ان کا ایک دفعہ فون آیا اوربڑے محبت بھرے لہجے میں کہنے لگے ’’یاد صاحب ہم نے آپ کو ابھی تک یاد رکھا ہواہے اس اتوارآپ نے پھر میرے پروگرام میں شرکت کرنی ہے اوراس بار آپ سے افسانچوں پہ بہت سی باتیں کرنی ہیں۔‘‘میں اتوارکو جب ان کے پاس پہنچاتو انھوں نے اپنے پروگرام میں خوب حوصلہ افزائی فرمائی۔میں نے جب انھیں بتایا کہ میں نے پنجابی میں افسانچوں پہ کام شروع کردیاہے تو بہت خوش ہوئے اورمجھے دوبہت ہی خوبصورت کتابوں کا تحفہ دیا۔یہ کتب علی انوراحمد کی تھیں ۔مجھے کہنے لگے یہ کتب انھوں علی انورنے مجھے بہت عرصہ پہلے دی تھیں کہ انھیں اس شخص کو دینی ہیں جو ماں بولی کی خدمت کرنا چاہتا ہو۔۔۔۔اوریہ کتب میں آپ کو دے رہا ہوں ان کا مطالعہ ضرورکرناہے اورعلی انورصاحب سے فون پہ بات بھی کروائی کہ ان سے رابطے میں رہیے گا۔ان کی حوصلہ افزائی ان کی محبت میرے ساتھ رہی اوریوں میں کچھ ہی ماہ بعد میں نے ان کے آگے اپنی پنجابی کتاب کو مسودہ پیش کیاجسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اورپھر اس کی نہ صرف اصلاح کی بلکہ ساتھ اپنے خوب صورت تبصرے سے بھی نوازاجو میری کتاب کے ابتدائی اوراق کی زینت بنا۔
ایک ماہ بعد جب میں نے انھیں فون کرکے بتایا کہ میری کتاب شائع ہوگئی ہے تو بہت خوش ہوئے اورباربارمباک باد دیتے۔بلاشبہ میری اس کامیابی کے پیچھے ان کی محبت ان کی حوصلہ افزائی کا بہت بڑاہاتھ تھا۔آپ شاید جانناچاہتے ہوں اس شخصیت کا نام تو ان کانام جناب نسیم اقبال بھٹی ہے جو آج بھی یونیورسٹی ایف ایم 98.2پہ اپناپنجابی پروگرام سانجھ سنگت چلارہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پنجابی ادب میں ایک مہان کہانی کاربھی ہیں جن کی نہ جانے کتنی کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔بھٹی صاحب کی ابھی کوئی اپنی تصنیف نہیں ہے پر میں آج جب بھی اپنی کتاب کو دیکھتا ہوں اوران کے کہے گئے حوصلہ افزاالفاظ جب بھی یاد آتے ہیں مجھے اقبالؒ کی وہ بات یاد آتی ہے کہ جو انھوں نے اپنے استادِ محترم کے بارے میں کہی تھی کہ میں اُن کی زندہ تصنیف ہوں۔’’نیناں دے سفنے‘‘لکھ کر میں بھی آج کہوں گا کہ میں بھٹی صاحب کی زندہ تصنیف ہوں۔اللہ تعالیٰ انھیں 
اپنے کرم میں رکھے اورآسانیاں عطا فرمائے تاکہ وہ یونہی آسانیاں بانٹتے رہیں۔۔۔۔
سانجھ سنگت سانجھ سنگت Reviewed by Khushab News on 7:19:00 AM Rating: 5

No comments:

loading...
Powered by Blogger.