نیا قانون اور پرانا فیصلہ


حیرت کی بات ہے کہ ہمیں غیر محفوظ شے کی کبھی اتنی فکر لاحق نہ ہوئی جتنی اس دفعہ ’’ محفو ظ فیصلے ‘‘ کی ہو رہی تھی ۔ خیر مسئلہ بھی تو ملی یکجہتی کا تھا لہٰذا اس پر پریشان ہونا ہمارا ذاتی حق ہونے کے ساتھ ساتھ قومی فریضہ بھی بنتا تھا ۔ا نتظار کی شدت کے کیا کہنے بھئی !ہم نے تو خود کو اتنا بے قرار ومضطرب کبھی انتیس رمضان کی شام چاند کے لیے نہیں دیکھا جتنا فیصلے کے خاطر ہوئے ۔اور اس دردِ سر میں ہم اکیلے ہی نہیں بلکہ پوری قوم ہمارے ساتھ کھڑی تھی ۔حالانکہ جن لوگوں نے نواز شریف اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کہ بینرز اُٹھارکھے تھے یقین جانیے وہ بھی مجھے اپنے شانہ بشانہ محسوس ہو رہے تھے ۔ انتظار کی گھڑیاں قیامت کی گھڑیاں اس وقت بنی جب ہمیں معلوم ہوا کہ ’’محفوظ فیصلے‘‘کی رسمِ نقاب کشائی ۲۰ اپریل کو دو بجے ہونی ہے۔ہم نے اس گراں قدر اورتاریخی فیصلے کو عدالت عالیہ کی جانب سے’’ مدر آف آل جسٹس ‘‘ ہونے کی نوید سنائی مگر ہمارے یارِ خاص باجوہ کے مطابق محفوظ فیصلہ سامنے آنے کی وجہ بجلی ہے ۔اُس کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کے باعث عدالتِ عالیہ کے ریفریجریٹر ز کی کار گزاری متاثرہونے سے فیصلہ غیر محفوظ ہو جانے کا خدشہ ہے لہٰذا فیصلہ جلد سامنے آنے کا کارن بجلی ہی ہوئی ۔ ہم نے اُس کی رائے کو پھیکی جگت بازی سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے رد کیا اور مزید سنجیدگی سے نظریں نیوز سکرینز پر جما دی۔فیصلہ آنے میں ابھی نصف صد سے زائد گھنٹے باقی تھے اور ہماری حالت بقول امیر خسروؔ یوں تھی :

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ہمیشہ گریاں بہ عشق آں مے 
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آویں نہ بھیجے پتیاں

(میں عشق میں جلتی ہوئی شمع اور ذرہِ حیراں کی طرح ہمیشہ فریاد کر رہا ہوں۔۔۔نہ آنکھوں میں نیند ہے نہ تن کو چین ہے کہ نہ تووہ خود آتے ہیں اور نہ ہی ان کے پیغام آتے ہیں)
قارئین کرام! خوشی اور اطمینانِ قلب اس بات پر تھا کی پوری قوم کا حال یہی تھا۔دونوں پارٹیوں کے جیالوں اور جیالیوں نے کمر کس لی تھی ۔کپڑے کی مارکیٹ میں ایک دم سے ہرے لال دوپٹے لٹکنے لگے ،کھلونوں کی دکانوں سے شیر اور کھیل کی دکانوں سے بلے تک شارٹ ہو گئے ۔ڈھولیوں نے دونوں پارٹیوں سے ایڈوانس پکڑ لیے ۔ پارٹیوں نے ورکرز میں شرٹس ،بیجز اور بینرزبھی تقسیم کر دیے۔ایک خاتون نے تو یہاں تک بتایا کہ جب انھوں نے کسی پارٹی فنگشن پر تیار ہونے کے لیے بیوٹی پارلر رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ کل فیصلے کا دن ہے اور بیوٹیشن نے کسی سیاسی جماعت کے جشن کو چار چاند لگانے جانا ہے۔مٹھائی کی دکانوں پر حلوائیوں کو اوورٹائم لگانے پڑ گئے کیونکہ تاریخی فیصلے کے بعد مٹھائیوں کی تقسیم کے بغیر خوشی ادھوری تھی۔ ہر طرف سے ۲۰ اپریل کو حق کی فتح کا دن مانا جانے لگا ۔ہر نیوز چینل پر ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کے خصوصی نشریات برائے خصوصی فیصلہ کے پروگرام نے وہ سماں باندھ دیا کہ ہم تو انڈیا ،پاکستان کے کرکٹ میچ تک بھول گئے ۔سیاسی ، عدالتی اور مصالحتی تجزیہ نگاروں کی قیمتی رائے سے عوام اپنی رائے مضبوط کرنے لگے ۔سیاسی راہنما ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری ٹی وی سکرین پر اپنی اپنی پارٹی کی ترجمانی کررہے تھے ۔کسی کے نزدیک اس تاریخی فیصلے کے بعد ملک سے کرپشن اور بد عنوانی کا جنازہ اٹھنے والا تھا تو کوئی اس فیصلے کو ملک اور جمہوریت کی بقا کا ضامن بتا رہا تھا۔کئی لوگوں کے جوشِ خطابت کا یہ عالم تھا کہ وہ فیصلہ آنے کے بعد ملک کو دنیا کی سپر پاورز میں یقینی طور پر شامل کر چکے تھے۔ ملکی و علاقائی اخبارکے اداریوں سے لے کر کالمز اور بلاگز تک ، شہ سرخیوں سے لے کر اشتہارات تک ہر جگہ فیصلے فیصلے کا راگ الاپا جا رہا تھا۔ میڈیا سے بڑھ کے سوشل میڈیا نے ا پنے فرائضِ منصبی سے سبکدوش ہونے کی ٹھان لی تھی ۔فیس بک اور ٹویٹر کے دانش وروں نے بھی اپنی قیمتی رائے اور فیصلے سے وابستہ روشن امیدوں سے ٹائم لائنز سجا رکھیں تھیں۔فیصلے کی مناسبت سے کئی موسمی شعرائے کرام نے بھی بے تکی و بے وزنی شاعری سے ماحول کو گرمانے کی سعی کو آوازِانقلاب جانا۔ یقین جانیے انیس اور بیس اپریل کے شب و روز میں سب سے زیادہ بولے ،سنے، لکھے، اور چھپے جانے والا لفظ’’ فیصلہ ‘‘کے سوا کوئی اور نہ تھا ۔کئی صاحبانِ فہم و فراست نے امریکہ اوریورپ کی عدالتوں کے تاریخ ساز فیصلوں کے دفتر کھول کے رکھ دیے۔ تاریخ کے جھروکوں سے ایسی نادر مثالیں پیش کی گئیں کہ ہمارے لیے تو یہ انکار کرنا ہی ممکن نہ رہا کہ اس عظیم فیصلے کے بعد ملکِ عظیم کو کوئی ترقی سے روک سکتا ہے۔الغرض پو ری قوم قومی و ملی جذبے سے سرشار اس تاریخ ساز فیصلے کی منتظر تھی ۔معمول کے مطابق رات دیر تک غیر معمولی تبصرے اور تجزیے سننے کے بعد ہم بھی اک صبحِ نو کی امید لیے سو گئے۔صبح جو آنکھ میری دیر سے ہی کھلتی ہے ٹی وی کی آواز سے کھل گئی ۔ نیوز اینکر پورے زور و شور سے یہ بتا رہا تھا کہ ملک کی تاریخ میں اک اہم سنگ میل رکھے جانے کی گھڑیاں قریب ہیں اور اب سے صرف پانچ گھنٹے بعد عدالت اپنا فیصلہ سنانے جا رہی ہے ۔میرا بھائی جو میری خبر بینی سے تنگ ہے مجھ سے بھی پہلے ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا اور وہ بھی نیوز چینل ۔حیرت سے زیادہ مسرت ہو رہی تھی آخر یہ اسی فیصلے کی برکات تھیں جس نے عوام میں سیاسی شعور اور آگاہی پروان چڑھا دی ۔ورنہ ہمارے عوام کو توکسی ایسی سوچ سے کوئی سروکار ہی نہیں۔آج توہم خوب اہتمام کے ساتھ تیار ہو کہ کالج پہنچے ۔اس خشوع و خضو ع کے ساتھ کالج آنے کی دو وجوہات تھیں ایک تو ہمارے اَندر کے دانش ور اور تجزیہ نگار کو بحثنے کا مرض لاحق ہو رہا تھا اور دوسرا اس تاریخ ساز دن کو یونہی کمرے میں پڑے رہنا قطعاََ نامناسب تھا۔آج جو لائبریری پہنچے تو اُن لڑکیوں کو بھی اخبار ات پر اُمڈے پایا جن کے نزدیک اخبارصرف چاولوں کو دم لگانے کے کام آتا ہے ۔ کلاس کا منظر بھی پہلے سا نہیں تھا شہر سے باہر کے طالب علم اس وجہ سے نہ آئے کہ فیصلے کے بعد کہیں واپس جانے کا فاصلہ نہ بڑھ جائے ۔یوں آج کے دن میں ہونے والے لیکچرز بھی ادب سے سیاست کی طرف ایسے مڑے کہ ہم اس دن کے بعد تخلیق ہونے والے ادب کو ’’پوسٹ کورٹ ڈسیین لٹریچر ‘‘ کے زمرے میں دیکھنے لگے ۔جیسے ہی گھڑی نے دو بجائے ہر کوئی ایک دوسرے کی جانب جواب طلب نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔ہاں بھئی ! فیصلہ ؟، جی کیا بنا اُتر گیا کہ نہیں؟۔ بالآخر جب محفوظ فیصلے کوانتہائی محفوظ انداز میں پیش کیا گیا توکیا بتاؤں کہ دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے۔وہی زبانیں جو فیصلہ آنے کے بعد طرح طرح کے نقشے کھینچ رہے تھے سرکجھائے شرمندہ شرمندہ ہوئے ایک دوسرے سے یہ پوچھ رہے تھے بھئی یہ جے آئی ٹی کیا ہوتا ہے؟بس جی کیا بتائیں کہ کیسے منقار زیرِ پر کیے بوجھل قدموں کے ساتھ ہم کالج سے باہر نکلے : 

تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشہ نہ ہوا 

کالج سے باہر نکلے توایک ٹانگے پرنظر پڑی جوکا غذ لادے مال سے اُردو بازار کی جانب مڑ رہا تھا ۔گھوڑے کی سر پہ سجی کلغی اور کوچوان کی مونچھوں کا تاؤ دیکھ کر مجھے ’’اُستاد منگو‘‘ یاد آگیا۔منٹو کے اس مشہورافسانے ’’نیا قانون‘‘ کے کردار اُستادمنگو کوچوان سے شاید ہی کوئی واقف نہ ہو کیونکہ یہ افسانہ اردو کے علاوہ انگریزی ترجمے کی صورت میں بھی سلیبس میں شامل ہے جسے بیشتر طالب علموں نے پڑھ رکھا ہے ۔ افسانے کا مرکزی کردار استاد منگو ہے جس نے اپنی سواریوں میں ہونے والی گفتگو سے یہ بات اخذ کر لی کہ یکم اپریل کو ملک میں کوئی نیا قانون لاگو ہو رہا ہے ۔جس کہ بعد اُس جیسے غریب کا استحصال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا اور ملک کی تقدیر بدل جائے گی ۔اس بات کو لے کراستاد منگو نے ہندوستان سے انگریز سامراج کی ہمیشہ کے لیے رخصتی کاخواب سجا لیا۔یکم اپریل کو کسی بڑی تبدیلی کے دھوکے میں نیا قانون نیا قانون کہتے ہوئے اک گورے پر بَرس پڑا جس سے کبھی پہلے اس کی لڑائی ہو چکی تھی۔بلا شبہ’’نیا قانون‘‘ جیسے شاہکار افسانے کو کسی زمان و مکاں کی قید میں بند نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کلاسیک فن پارے ہمیشہ عالمگیر ہوتے ہیں اور وہ ہر زمانے کے لیے ایک سی معنوی اہمیت رکھتے ہیں۔ تقسیم سے پہلے لکھے گئے اس افسانے کا آج اپریل ۲۰۱۷ء میں مطالعہ کریں تو حرف بہ حرف یوں معلوم ہو گا جیسے یہ افسانہ یکم اپریل کے کسی نئے قانون کے علاوہ ۲۰ اپریل کو ہونے والے عدالتی فیصلے کی صورتحال پر بھی لکھا گیا ہے ہماری پوری قوم استاد منگو کوچوان کی طرح اپنی تقدیر بدلنے کی منتظر کھڑی ہے ۔اور چیخ چیخ کہ یہ پکار رہی ہے ’’ وہ دن گزر گئے۔۔۔ جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔۔۔ اب نیا فیصلہ آگیا ہے میاں۔۔۔ نیافیصلہ!‘‘ اور ایسے میں عدالت پوری قوم کو منگو کی طرح پکڑے جے ٹی آئی کے لتر سے چتھرول کر کے یہی کہہ رہی ہے’’نیا فیصلہ، نیافیصلہ ۔کیا بک رہے ہو۔۔۔فیصلہ وہی پرانا ہے‘
www.khushabnews.com
;
نیا قانون اور پرانا فیصلہ نیا قانون اور پرانا فیصلہ Reviewed by Khushab News on 6:54:00 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.