بکریوں کی فارمینگ

بکریوں کی فارمینگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے بکریوں کی فارمینگ کم پیسے سے بھی کی جا سکتی ہے
اور بکریوں کی افزائش ہمارے پیغمبروں کا پیشہ بھی رہا ہے
بکریوں کی فارمینگ دو قسم کی ہیں
۱- دودھ دینے والی قسم
۲- گوشت کی پیداوار والی قسم
دونوں اقسام کا کام منافع بخش کاروبار ہیں ۰
فارم بنانے کیلیے جگہ کا انتخاب:۰
فارم بنانے کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں پہ فارم کے شیڈ کے قریب قریب جنگل ہو جہاں سبز چارہ ،گھاس،جڑی بوٹیاں ، کیکر ، پھلائی ، بیری ، شہتوت ، جامن ، اور پیپل کے درخت ہوں
اگر یہ سہولت موجود نی ہے تو خود کے درخت لگائے
 اسکے علاوہ چراہ گاہوں کے ساتھ ساتھ پانی کی ندی نالے یا کسی نہر کا گزر ہو ایسی جگہ کا انتخاب کریں
چراہ گاہوں اور کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے وزن بڑھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے
 چراگاہوں میں جانے والی بکریاں اپنا وزن زیادہ بڑھاتی ہے کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے مقابلہ میں ۔
 اسکے علاوہ باہر چراگاہوں میں جانے سے بکریاں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں اور ہر قسم کا چارا کھانے سے مال مویشی بہت ساری بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۰
۱-بکریوں کے شیڈ کا طریقہ :۰
۱-بکریوں کے شیڈ کی تعمیر کے لے ہمیشہ جگہ اونچی ہو اور ایسی جگہ ہو جہاں قریب سیلابی پانی کے آنے کا خطرہ نہ ہو ۰
۲-شیڈ کی بنیادیں بھی زمین سے ۲ یا ۳ فٹ اونچی ہو تاکہ اندر کے پانی کی نکاسی اچھی ہو ۰
۳۳- شیڈ کی چھت صحن سے چھ انچ اونچی اور شیڈ کی پچھلی طرف چھ انچ نیچے ہو تاکہ بارشی پانی صحن میں نہ آئے ۰
۴- شیڈ کی چوڑائی کا رُخ شمالاً جنوباً ہو۰
۵- شیڈ کی چھت (7) سے (9) فٹ اونچی ہو۰
۶- شیڈ کی عمارت ہوا دار اور روشن ہو۰
۷- شیڈ کے ساتھ اور صحن میں سایہ دار درخت لگائے۰
۸- شیڈ کے اندر سردیوں میں دھوپ لگتی ہو۰
۹- شیڈ کے فرش پختہ ہو اگر فرش کچے ہے تو اندر کی دیواریں کم از کم (2) فٹ تک پختہ ہوں۰
۱۰- ٹیڈی بکری کیلے ۱۰ مربع فٹ چھتی جگہ ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کی ہو۰
۱۱- بڑی نسل کی بکریوں کیلے (12) مربع فٹ جگہ چھتی ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کے لے ہوو۰
۱۲- شیڈ کے اندر چارے کی کُھرلیوں کی تعمیر ۰
۱۳- شیڈ میں پانی کے حوض چوڑائی ایک فٹ گہرائی نو انچ اور لمبائی جانوروں کی تعداد کے مطابق۰
۱۴- شیڈ میں سردی اور گرمی کے مطابق انتظام  ۰
۲-بکریوں کا انتخاب :۰
بکریوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے اور اس کیلے اپ کو ان کا علم ہونا لازمی ہے کہ کس علاقہ کی نسل کدھر سے سستی ملے گئی ا س ک ے علاوہ اپ کو ان کی بیماریوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے جانور لیتے وقت مکمل تسلی کر لیں کہ کہیں بیمار تو نی ہے یا کسی متعدی بیماری تو نی ہے
 اس کے لے بکریوں کے کان کے اندر چیچڑ ، منہ اور کُھر کے اندر چھالے یا زخم نہ ہوں
تھن دو اور برابر ہوں زخمی یا سخت نہ ہو ں
پورا ھوانہ چیک کرے سخت یا سوجن نہ ہو
ھوانہ کا سائز بڑا ہو اور کم لٹکا ہو
ھوانہ میں دودھ ہو تو دودھ نکال کر چیک کرے
جانور کو دست کی بیماری نہ ہوں
بکریاں حاملہ ہوں یہ اپ کے لے سود مند ہوں گی
بکریاں جوان ہوں
ایسی بکریوں کا انتخاب کرے جو دو یا تین بچے پیدا کرنے والی ہوں
بکریاں اچھی نسل کی ہوں
بکریاں صحت مند ہوں
 بکریوں کا قد و کاٹھ اچھا ہوں
۳-نئے فارم کے لے انتظامات :۰
نیا فارم شروع کرنے کے لے چند انتظام لازمی عمل میں لائیں
فارم صاف و ستھرا ہو
فارم میں پانی اور خوراک کا انتظام ہو
فارم میں سردی اور گرمی کے لحاظ سے مناسب انتظام ہو
فارم کے فرش پر چونے کا چھڑکاؤ ہو
فارم میں بکریوں کو اُتے ہی حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
 فارم میں اگر پہلے سے جانور موجود ہوں تو نئے جانوروں کو دس دن تک الگ رکھے اور ویکسین کر کے شامل کرے
حاملہ بکریوں کے آخری ماہ ہونے پر سب سے الگ رکھے
تمام جانوروں کو دس دن کے بعد کرموں کی دوائی دیں
 جانوروں کی مینگنوں کو کسی لیبارٹری سے چیک کروا کر ان کی ہدایت کے مطابق کرم کش دوائی پلائیں
۴-کامیاب فارمینگ کے چند اہم نکات :۰
بکریوں کی فارمینگ کو کامیاب بنانے کیلے میں اپنے چند اہم نقطۂ نظر اپ کی پیش خدمت کرتا ہوں۰
جانوروں کا مکمل ریکارڈ رکھیں
بکریوں سے سال میں دو دفعہ بچے لیں
بکریوں سے حاصل ہونے والے ہر بچہ کی اچھی پرورش کریں
تمام بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
تمام جانوروں کو اندرونی و بیرونی کرم کش ادویات دیں
تمام شیڈ کی صفائی ہر روز کریں
تمام شیڈ کو ہر ماہ چونا لازمی کریں خاص کر سردیوں میں
 بکریوں کی اچھی پیداوار کے لے اچھی صحت کا ہونا اور اچھی صحت کے لے اچھی خوراک کا ہونا لازمی ہے
تمام جانوروں کے نمکیات اور منرل کا خیال رکھے
حاملہ جانوروں کو قبض سے بچائے
حاملہ جانوروں کو اپھارے سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
چھوٹے بچوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو آخری ایام میں ونڈا کا استعمال کرے
بکریاں (145/150) دن میں بچہ دیتی ہے
بچوں میں میل فروخت کرے اور فیمیل رکھیں
حاملہ بکریوں کے ھوانہ کو سوزش سے محفوظ رکھیں
نسل کشی 15 مارچ سے 15 اپریل اور 15 ستمبر سے 15 اکتوبر تک کریں
ماہ جولائی اور اگست میں بکریوں کا ملاپ نہ کریں
 ملاپ سے ایک ماہ پہلے بکریوں کو ونڈا استعمال کروائیں
30 بکریوں کے لے ایک بریڈر میل بکرا کافی ہے
اس کے علاوہ بھی اپ کے پاس بریڈر میل ہونے چاہیں
بریڈر میل کو نسل کشی کے موسم میں ہی ریوڑ میں چھوڑیں
نوکروں کے ساتھ خود بھی شیڈ میں کام کرے 
 جانوروں سے پیار اور محبت سے پیش انا لازمی شرط ہے

بکریاں پالنا :۰
بکریوں کی فارمینگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے بکریوں کی فارمینگ کم پیسے سے بھی کی جا سکتی ہے
اور بکریوں کی افزائش ہمارے پیغمبروں کا پیشہ بھی رہا ہے
بکریوں کی فارمینگ دو قسم کی ہیں
۱- دودھ دینے والی قسم
۲- گوشت کی پیداوار والی قسم
دونوں اقسام کا کام منافع بخش کاروبار ہیں ۰
فارم بنانے کیلیے جگہ کا انتخاب:۰
فارم بنانے کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں پہ فارم کے شیڈ کے قریب قریب جنگل ہو جہاں سبز چارہ ،گھاس،جڑی بوٹیاں ، کیکر ، پھلائی ، بیری ، شہتوت ، جامن ، اور پیپل کے درخت ہوں
اگر یہ سہولت موجود نی ہے تو خود کے درخت لگائے
اسکے علاوہ چراہ گاہوں کے ساتھ ساتھ پانی کی ندی نالے یا کسی نہر کا گزر ہو ایسی جگہ کا انتخاب کریں
چراہ گاہوں اور کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے وزن بڑھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے
چراگاہوں میں جانے والی بکریاں اپنا وزن زیادہ بڑھاتی ہے کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے مقابلہ میں ۔
اسکے علاوہ باہر چراگاہوں میں جانے سے بکریاں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں اور ہر قسم کا چارا کھانے سے مال مویشی بہت ساری بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۰
۱-بکریوں کے شیڈ کا طریقہ :۰
۱-بکریوں کے شیڈ کی تعمیر کے لے ہمیشہ جگہ اونچی ہو اور ایسی جگہ ہو جہاں قریب سیلابی پانی کے آنے کا خطرہ نہ ہو ۰
۲-شیڈ کی بنیادیں بھی زمین سے ۲ یا ۳ فٹ اونچی ہو تاکہ اندر کے پانی کی نکاسی اچھی ہو ۰
۳- شیڈ کی چھت صحن سے چھ انچ اونچی اور شیڈ کی پچھلی طرف چھ انچ نیچے ہو تاکہ بارشی پانی صحن میں نہ آئے ۰
۴- شیڈ کی چوڑائی کا رُخ شمالاً جنوباً ہو۰
۵- شیڈ کی چھت (7) سے (9) فٹ اونچی ہو۰
۶- شیڈ کی عمارت ہوا دار اور روشن ہو۰
۷- شیڈ کے ساتھ اور صحن میں سایہ دار درخت لگائے۰
۸- شیڈ کے اندر سردیوں میں دھوپ لگتی ہو۰
۹- شیڈ کے فرش پختہ ہو اگر فرش کچے ہے تو اندر کی دیواریں کم از کم (2) فٹ تک پختہ ہوں۰
۱۰- ٹیڈی بکری کیلے ۱۰ مربع فٹ چھتی جگہ ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کی ہو۰
۱۱- بڑی نسل کی بکریوں کیلے (12) مربع فٹ جگہ چھتی ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کے لے ہو۰
۱۲- شیڈ کے اندر چارے کی کُھرلیوں کی تعمیر ۰
۱۳- شیڈ میں پانی کے حوض چوڑائی ایک فٹ گہرائی نو انچ اور لمبائی جانوروں کی تعداد کے مطابق۰
۱۴- شیڈ میں سردی اور گرمی کے مطابق انتظام ۰
۲-بکریوں کا انتخاب :۰
بکریوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے اور اس کیلے اپ کو ان کا علم ہونا لازمی ہے کہ کس علاقہ کی نسل کدھر سے سستی ملے گئی ا س ک ے علاوہ اپ کو ان کی بیماریوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے جانور لیتے وقت مکمل تسلی کر لیں کہ کہیں بیمار تو نی ہے یا کسی متعدی بیماری تو نی ہے
اس کے لے بکریوں کے کان کے اندر چیچڑ ، منہ اور کُھر کے اندر چھالے یا زخم نہ ہوں
تھن دو اور برابر ہوں زخمی یا سخت نہ ہو ں
پورا ھوانہ چیک کرے سخت یا سوجن نہ ہو
ھوانہ کا سائز بڑا ہو اور کم لٹکا ہو
ھوانہ میں دودھ ہو تو دودھ نکال کر چیک کرے
جانور کو دست کی بیماری نہ ہوں
بکریاں حاملہ ہوں یہ اپ کے لے سود مند ہوں گی
بکریاں جوان ہوں
ایسی بکریوں کا انتخاب کرے جو دو یا تین بچے پیدا کرنے والی ہوں
بکریاں اچھی نسل کی ہوں
بکریاں صحت مند ہوں
بکریوں کا قد و کاٹھ اچھا ہوں
۳-نئے فارم کے لے انتظامات :۰
نیا فارم شروع کرنے کے لے چند انتظام لازمی عمل میں لائیں
فارم صاف و ستھرا ہو
فارم میں پانی اور خوراک کا انتظام ہو
فارم میں سردی اور گرمی کے لحاظ سے مناسب انتظام ہو
فارم کے فرش پر چونے کا چھڑکاؤ ہو
فارم میں بکریوں کو اُتے ہی حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
فارم میں اگر پہلے سے جانور موجود ہوں تو نئے جانوروں کو دس دن تک الگ رکھے اور ویکسین کر کے شامل کرے
حاملہ بکریوں کے آخری ماہ ہونے پر سب سے الگ رکھے
تمام جانوروں کو دس دن کے بعد کرموں کی دوائی دیں
جانوروں کی مینگنوں کو کسی لیبارٹری سے چیک کروا کر ان کی ہدایت کے مطابق کرم کش دوائی پلائیں
۴-کامیاب فارمینگ کے چند اہم نکات :۰
بکریوں کی فارمینگ کو کامیاب بنانے کیلے میں اپنے چند اہم نقطۂ نظر اپ کی پیش خدمت کرتا ہوں۰
جانوروں کا مکمل ریکارڈ رکھیں
بکریوں سے سال میں دو دفعہ بچے لیں
بکریوں سے حاصل ہونے والے ہر بچہ کی اچھی پرورش کریں
تمام بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
تمام جانوروں کو اندرونی و بیرونی کرم کش ادویات دیں
تمام شیڈ کی صفائی ہر روز کریں
تمام شیڈ کو ہر ماہ چونا لازمی کریں خاص کر سردیوں میں
بکریوں کی اچھی پیداوار کے لے اچھی صحت کا ہونا اور اچھی صحت کے لے اچھی خوراک کا ہونا لازمی ہے
تمام جانوروں کے نمکیات اور منرل کا خیال رکھے
حاملہ جانوروں کو قبض سے بچائے
حاملہ جانوروں کو اپھارے سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
چھوٹے بچوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو آخری ایام میں ونڈا کا استعمال کرے
بکریاں (145/150) دن میں بچہ دیتی ہے
بچوں میں میل فروخت کرے اور فیمیل رکھیں
حاملہ بکریوں کے ھوانہ کو سوزش سے محفوظ رکھیں
نسل کشی 15 مارچ سے 15 اپریل اور 15 ستمبر سے 15 اکتوبر تک کریں
ماہ جولائی اور اگست میں بکریوں کا ملاپ نہ کریں
ملاپ سے ایک ماہ پہلے بکریوں کو ونڈا استعمال کروائیں
30 بکریوں کے لے ایک بریڈر میل بکرا کافی ہے
اس کے علاوہ بھی اپ کے پاس بریڈر میل ہونے چاہیں
بریڈر میل کو نسل کشی کے موسم میں ہی ریوڑ میں چھوڑیں

اہم نوٹ:
نوکروں کے ساتھ خود بھی شیڈ میں کام کریں
جانوروں سے پیار اور محبت سے پیش آنا لازمی شرط ہے



ﺗﺤﺮﯾﺮ : ﺳﯿﺪ ﻣﺒﺸﺮ ﻋﻠﯽ 
ﻋﻨﻮﺍﻥ : ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﻮ ﺑﻄﻮﺭ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺑﺰﻧﺲ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﺎ

ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ : ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﺍﯾﺰ ﺍﮮ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﮐﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺌﮯ۔ 

ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﮔﻮﺷﺖ ﻟﯿﮯ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭘﺎﻟﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺌﮯ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻡ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺑﮑﺮﮮ ﺑﮍﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺌﮯ۔
ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻡ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﮑﺮﮮ ﻣﻨﮉﯼ ﺳﮯ ﻻﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﯾﻘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻋﺎﻡ ﻧﺴﻞ ﺟﯿﺴﮯ ﭨﯿﮉﯼ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﺮ ﻻﮐﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻣﺪﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ، ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ، ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ، ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﮉ ﮐﯽ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔ﻣﻨﮉﯼ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻻﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﮦ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﻝ ﮐﺮ ﻭﺯﻥ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮨﮯ ۔ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ، ﺻﺤﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﮉ ﮐﯽ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺠﭧ ﭘﭽﺎﺱ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﭽﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭘﭽﯿﺲ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺧﺮﯾﺪﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﯽ ﺻﺤﺖ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﺧﺮﯾﺪﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﺎ ﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮧ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ۔ ﺍ
ﮔﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﺎﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﺌﮯ۔ ﺟﻮ ﮐﮧ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮏ ﻓﯽ ﺑﮑﺮﺍ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﻋﺮﺻﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﭨﯿﮉﯼ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺑﮑﺮﮮ ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﮯ ﺑﯿﺲ ﮐﻠﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺼﺎﺋﯽ ﭨﯿﮉﯼ ﺑﮑﺮﮮ ﯾﺎ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺩﺱ ﺳﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﮐﻠﻮ ﮐﺎ ﺧﺮﯾﺪﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﯽ ﮐﻠﻮ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﮨﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺎﺭﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﺴﻞ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻓﺎﺭﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﮮ ، ﻭﻧﮉﮮ ، ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ، ﻣﻼﺯﻡ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ۔
ﺑﮑﺮﮮ ﯾﺎ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﻮﺭ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ ﮔﺌﮯ ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﭼﺮﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭼﺮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭼﺮﺍﮔﺎﮦ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺩﻭ ﺳﮯ ﭼﺎﺭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﭼﮩﻞ ﻗﺪﻣﯽ ﯾﺎ ﭼﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﻭﺍﻧﯽ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﺑﮍﮬﻮﺗﺮﯼ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﮔﯽ۔ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﺮ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﺑﺮﯾﮉﺭ ﻻﺯﻣﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﯽ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﺮﯾﮉﺭ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻣﺪﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻥ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﭽﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻣﺪﻥ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﺮ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﺮﯾﮉﺭ ﮐﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﺨﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﺑﺎﺭ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺖ ﺧﺮﯾﺪﯾﮟ ، ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺧﺮﯾﺪﯾﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﻓﺎﺭﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺌﮯﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺗﻨﺨﺎﺏ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ۔ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﯽ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ : ﺁﭖ ﺟﺐ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻡ ﺍﯾﺰ ﺍﮮ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺑﺰﻧﺲ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﺑﮭﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﮨﻢ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﮔﺮ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﮔﯽ ﺗﻮ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮍﯼ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺷﯿﮉ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﺷﯿﮉ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮨﻢ ﮨﮯ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﺎ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﯿﮉ ﮐﯽ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﭨﺮﮮ، ﭘﺎﻧﯽ، ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ، ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ، ﺑﮑﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ، ﺑﺮﯾﮉﺭ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ : ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﺩﯾﻨﺎ، ﺣﻔﺎﻇﺘﯽ ﭨﯿﮑﮯ ﻟﮕﺎﻧﺎ، ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﮐﯿﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﮐﯿﮍﮮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮈﯼ ﻭﺍﺭﻣﻨﮓ ﮐﺮﻧﺎﺷﯿﮉ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮨﯽ ﺍﺻﻞ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮨﮯ ۔ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﻟﮕﯿﮟ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻋﻤﻠﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺩﺭﺳﺖ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﮐﻨﺴﻠﭩﻨﺴﯽ : ﺍﮔﺮ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﺟﺴﭩﺮ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﮞ ۔ ﺟﺲ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﮐﮧ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﻟﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﮨﮯ۔ ﻋﻠﻢ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﮔﺮ ﻋﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﮔﺮ ﻓﺎﺭﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﻻﮐﮫ ﮐﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻭﮦ ﮈﻭﺏ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﯿﺼﺪ ﮐﻨﺴﻠﭩﯿﻨﺴﯽ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮ۔
ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻨﺴﻠﭩﯿﻨﺴﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﻨﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺎﻝ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﯽ ﺿﺮﺭﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺳﮑﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻟﮕﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﻨﺴﻠﭩﯿﻨﺴﯽ ﻓﯿﺲ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺭﮨﺌﻨﻤﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﻓﺎﺭﻡ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﭦ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﺍﯾﺰ ﺍﮮ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺑﺰﻧﺲ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﮔﺎﺭﻡ ﺑﻨﮯ ، ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﮐﺎﻡ ﮐﺴﯽ ﮐﻨﺴﻠﭩﻨﭧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺸﺎﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﻮﺭ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ ۔ﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﭘﻮﺳﭧ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺗﯽ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎ ﮞ ﻧﺼﯿﺐ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎ ﮞ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ، ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﺁﻣﯿﻦ
ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻋﺎ ﮔﻮ : ﺳﯿﺪ ﻣﺒﺸﺮ ﻋﻠﯽ ﺷﺎﮦ
ﺍﺱ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﺷﯿﺌﺮﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﺎﻧﺎﻡ ﻣﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﺪ ﺩﯾﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ۔




Copy
ڈیری فارم کو منافع بخش بنانے کے نقطے

‏1) ڈیری فارم میں بھنس کے بجاۓ گاۓ ذیادہ رکھنے ہیں. 2 گاۓ اور 1 بھنس ذیادہ مناسب ہے. بھنس جتنا چارہ، ونڈا کھاتا ہے، اتنے پیسوں کا دودھ دیتی ہے. اور 6، 7 مہینوں میں نقصان پر اکر رک جاتی ہے. اس کا دوبارہ گھبن کرانا مشکل ہے. اگر بھنس رکھنا بھی ہے تو سانڈ اور بھنسوں کو کھولا چھوڑنا ہے. اس سلسلے میں بانس یا لوہے کے 3 یا 4 انچ موٹے پائپ چاروں طرف لگاکر جانوروں کو 4*20 فٹ مربع فی جانور قید کیا جاۓ. بھنس اکتوبر میں 
ذیادہ گھبن ہوجاتے ہیں جبکہ گائے سال 12 ماہ ماسوائے شدید سردی اور شدید گرمی کے مہینے جس میں کم کم گھن ہوجاتے ہیں،
‏2) ایک ساتھ جانوروں کی خریداری نہ کرے اس کے بجاۓ 5، 5 یا ‏10، 10 جانور جو 1 ماہ کے تازہ سوھۓ ہوۓ ہو اور جن کا پہلا یا دوسرا سواھ ہو خریدنا. فارم کے جانوروں کو 6 سے 8 ماہ میں قسط وار پورا کرنا ہے. یکدم سارے جانور خرید کے لانے سے ذیادہ دودھ آے گا اس طرح دودھ مارکیٹ میں فروخت کرنا مشکل ہو گا جبکہ 8، 9 ماہ بعد تقریبا سارے جانور ایک ساتھ خشک ہوجاتے ہیں. دونوں صورتوں میں ما لک کو پریشانی ہوگی.
‏3) جانوروں کے لیے اپنا ونڈا خود‎ ‎‏ تیار کرنا، اگرچہ سادہ ونڈا کیوں نہ ہو ( مکئ ، گندم ، کھل بنولہ یا سرسوں) اس طرح سلیج اپنا تیار کرنا. جو فارمر کمپنیز کا سلیج استعمال کرتے ہیں ان کا خرچہ دگنا ہوکر نقصان کی صورت میں نکل آتا ہے.
‏4) تازہ گاۓ کو سوھۓ ہوۓ 60 سے 90 دن بعد گرم کرنے والے ‏LUTALASE ‎‏ یا ‏Dalmazine‏ انجکشن کا 2 تا 3 سی سی ٹیکا لگایا جاۓ. ملائی کے ساتھ ہی ‏CONCEPTAL‏ کا 5 سی سی ٹیکا لگانا ضروری ہے. اسطرح فارمرز کے پاس ہر سال بچھڑا پیدا ہوکر فارم کا منافع بڑھتا رہے گا
‏5) جانوروں کے گوبر، خون اور دودھ کا ٹیسٹ ہر 3 مہینے بعد کرایا جاۓ. جس جانور کو مسئلہ ہو اس کو بروقت ٹیکے لگائیں جاۓ تو نقصان سے بہت حد تک بچا جاسکتاہے
‏6) دودھ یا خون سے بروسلہ کا تشخص کرکے ‏‎ BRUCELLA‏ سے متاثرہ جانور کو فارم سے ختم کیا جاۓ، تاکہ فارم کے گاۓ ، بھنس کچا بچھڑے نہ گراۓ اور دوبارہ گبن ہونے کا مسئلہ نہ رہے.‏
‏7) نمکیات جس کو منرل مکسچر کہتے ہیں کا استعمال کیا جاۓ تاکہ سوتک کا بیماری نہ آۓ اور جانور دودھ اپنے حساب سے پورا دے. اس طرح یوریا ملا توڑی یا بھوس کا استعمال کرو.
8) چقندر کا بگاس یا سیلج جو 1 تا 2 روپے ملتاہے. اچھی طرح سٹور کر کے 8 تا 10 کلو فی جانور کھلایا جاۓ. تو خرچہ کم ہوکر منافع بڑھاتا ہے‎.‎‏ جانور کو ادھا کپ سے ایک کپ سرسوں کا تیل ہر دوسرے تیسرے دن دینے سے دودھ میں ملائی ذیادہ آۓگی اور گاۓ کے دودھ پر اعتراض نہ ہوگا. ‏Ruma pro ‎‏ ان گاۓ کو دو جن کا دودھ بہت پیلا رنگت کا ہو. اس طرح گائے کو بائی پاس فیٹ دینے سے جانور کا صحت اور دودھ دونوں برقرار رہے گا.
‏9) دودھ کو دودھ خریدنے والے کمپنیز کے بجاۓ شہروں اور دیہاتوں کے قریب اپنی دودھ کے دکان اور مراکز کھول کر فروخت کیا جاۓ. اس کے لیے دیانت دار لوگ رکھے جاۓ کہ پانی کا ملاپ نہ ہو. دکان پر مالک کا خود ہونا بہتر رہے گا. کیمرے لگانا یا جاسوس رکھنا مالک کا ہرگز متبادل نہیں


9‏) اگر اپنا دکان نہیں کھول سکتے تو دودھ کو میٹائیوں اور دودھ بیچنے والے دکانوں کو براہ راست بیچ دینا بہتر ہے. اس کے لیے اپنا گاڑی رکھنا ذیادہ بہتر ہے. میڈل مین سے ہر صورت دور رہنا بہترہے.
‏10) سب سے اچھا اور محنتی مزدور ، مالک ہی ہے. کوشش کرے کہ آپ فارم کا ذیادہ کام خود کرو، اس طرح دودھ فروخت کرنے کا کام خود ہی کرے. پیسوں کے لین دین میں دوسروں پر کم سے کم انحصار کریں. مارکیٹ کے ادھار اور سپلائی پر ہر وقت نظر رکھیں. لوگ چور نہیں ہوتے آپ کے لاپرواہی اور سستی ان کو چور بننے کا موقع دلواتا ہے جس میں قصور صرف اورصرف مالک کا ہوتاہے
‏12) اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لیبر اور منیجر پر شک کرنے لگو. آپ کو سارے بندوں پر آزمائش کرنا چاہیے اور اس کے بعد اعتماد کرنا ہے. آزمائش کے بغیر کسی صورت لوگوں پر ذمہ واری اور اعتماد کرنا بہت بڑا خطرہ مول لینے والا معاملہ رہے گا
‏13) لیبر کو تنخواہ اور کھانا وقت پر دو. ان کو ذکواہ اور خیرات بھی دینا چائیے
‏14) زکوات اور عشر و اور نادروں غریبوں کا خیال کرو.
‏15) جانوروں کو منہ کھر، گھل گھوٹو، سٹ، چوڑی مار کے حفاظتی ٹیکے وقت پر لگایا کریں.
‏16) چیچڑ اور مچھر سے پھیلنے والے بخار ( تیلریا اور رت موترا) کے ٹیکے وقت پر لگایا کرو
‏17) دودھ والے جانوروں کے ساتھ ساتھ قربانی اور گوشت کے لیے جانور تیار کیا کرو
تحریر: ڈاکٹر سرتاج خان

py paste post 
جانوروں کو ماٹا یا فربہ کرنا: --
بکروں کو موٹا/ فربہ کرنے کے لئے مناسب جانور کا انتخاب:--

وو تمام حضرات جو جانوروں کو موٹا یا فربہ کر کے عید پے فروخت کرنے ک خواہاں ہیں انکے لئے یہ وقت انتہائی مناسب ہے۔ جانوروں کا ریٹ مارکیٹ میں اس وقت نارمل ہے۔ لہٰذا اس وقت آغاز کرنا انتہائی مناسب ہو گا۔ جانور کا انتخاب کرتے وقت درج ذیل چند باتوں کا لازماً خیال رکھیں۔ 
1۔ اچھی نسل کے جانور کا انتخاب کریں تاکہ قد اچھا بنے۔ 
2۔ جانور دیکھنے میں خوبصورت۔ 1 یا 2 رنگ میں ہو۔ 
3۔ جانور کی عمر اس وقت کم سے کم 2 دانت لازمی ہو۔ 
4۔ جانور کی کھال ڈھیلی اور لچکدار ہو۔
5۔ جانور چنتے وقت جانور کا قد مناسب ہو۔ جانور صحتمند اور چارو ہو۔ لاغر جانور سے اجتناب کریں۔

جانوروں کو موٹا/فربہ کرنے کے آسان طریقے۔
سب سے پہلے یہاں سب دوستوں کو بتاتا چلوں ک یہاں بیان کیا گیا ہر طریقہ اور عمل اپنے فارم پے اپنایا گیا اور تجربات سے حاصل کیا گیا نچوڑ ہے۔ یہاں صرف وہی لکھ رہا ھوں جو خود آزما چکا ھوں۔ آپ سب کو روٹین ک مطابِق چلنا ہو گا۔ اب یہاں فربہ کرنے والے جانوروں کے لئے کیا چیزیں درکار ہیں یہ بیان کریں گے۔
سب سے پہلے جن جانوروں کو موٹا کرنا درکار ہے انکو دوسرے جانوروں سے علیحدہ کر لیں۔ جانوروں کی ڈیوارمنگ کریں۔ اسکے بعد جانوروں کو مقررہ جگہ میں کھلا چھوڑ دیجیے۔ اب ہمیں مندرجہ ذیل چیزیں درکار ہیں۔ 
1- ثابت نمک کا ٹکڑا
2- توڑی
3- گندم
4- چوکر گندم
5- مکس دانا(اجزا آخر میں لکھے ہیں)
6- ونڈا
7- ہاضم مسالحہ 
8- ڈی سی پی 
9- منرل مکسچر 
10- ماسیگر وی سیرپ
11- تازہ پانی۔
12- بائی پاس فیٹس
13- سرسوں کا تیل۔ 
14- دہی۔
15- کالے چنے
15- مکئ۔
16- کھل بنولہ

مکس دانا کے اجزا:--
1۔ سویابین میل۔۔۔۔۔۔۔۔۔8 کلو
2۔ گندم دلیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔10 کلو
3۔ ٹوٹا چاول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔8 کلو
4۔ کالہ چنا دلیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5 کلو
5۔ مکئ دلیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5 کلو
6۔ جوئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7 کلو
ان تمام اجزا کو ایک خاص روٹین کے ساتھ استمال کرنا ہے۔ روٹین اور مقدر کا خیال رکھیں گے تو جانور تیزی سے وزن بڑھائے گا اور آپکو دنوں میں رزلٹ ملے گا انشاء اللّه۔

استعمال کا طریقہ اپنی اگلی پوسٹ میں شیئر کروں گا۔ دعاوں میں یاد رکھیے۔ 
تحریر: - محمد چوھدری۔

No automatic alt text available.


ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﭨﺎ ﯾﺎ ﻓﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﺎ : --
ﺑﮑﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﭨﺎ / ﻓﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ --:
ﻭﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺟﻮ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﭨﺎ ﯾﺎ ﻓﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻋﯿﺪ ﭘﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮎ ﺧﻮﺍﮨﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﯾﭧ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻻﺯﻣﺎً ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔
1 ۔ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻗﺪ ﺍﭼﮭﺎ ﺑﻨﮯ۔
2 ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ۔ 1 ﯾﺎ 2 ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ۔
3 ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ 2 ﺩﺍﻧﺖ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ۔
4 ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﮈﮬﯿﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﭽﮑﺪﺍﺭ ﮨﻮ۔
5 ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﭼﻨﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﻗﺪ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﻮ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺻﺤﺘﻤﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭﻭ ﮨﻮ۔ ﻻﻏﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺁﺳﺎﻥ ﻃﺮﯾﻘﮯ۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺐ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﭼﻠﻮﮞ ﮎ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﺮ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﮯ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻧﭽﻮﮌ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﻭﮨﯽ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮬﻮﮞ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺁﺯﻣﺎ ﭼﮑﺎ ﮬﻮﮞ۔ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮎ ﻣﻄﺎﺑِﻖ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺍﺏ ﯾﮩﺎﮞ ﻓﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻦ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮈﯾﻮﺍﺭﻣﻨﮓ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺠﯿﮯ۔
ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺫﯾﻞ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔
-1 ﺛﺎﺑﺖ ﻧﻤﮏ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ
-2 ﭼﻮﮐﺮ ﮔﻨﺪﻡ
-3 ﻣﮑﺲ ﺩﺍﻧﺎ ‏( ﺍﺟﺰﺍ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ‏)
-4 ﻭﻧﮉﺍ
-5 ﮨﺎﺿﻢ ﻣﺴﺎﻟﺤﮧ
-6 ﮈﯼ ﺳﯽ ﭘﯽ
-7 ﻣﻨﺮﻝ ﻣﮑﺴﭽﺮ
-8 ﻣﺎﺳﯿﮕﺮ ﻭﯼ ﺳﯿﺮﭖ
-9 ﺗﺎﺯﮦ ﭘﺎﻧﯽ۔
-10 ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺎﺱ ﻓﯿﭩﺲ
-11 ﺳﺮﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﯿﻞ۔
-12 ﺩﮨﯽ۔
-13 ﮐﺎﻟﮯ ﭼﻨﮯ
-14 ﻣﮑﺊ۔
-15 ﮐﮭﻞ ﺑﻨﻮﻟﮧ
ﻣﮑﺲ ﺩﺍﻧﺎ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍ 《--:
1 ۔ 《 ﺳﻮﯾﺎﺑﯿﻦ ﻣﯿﻞ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8 ﮐﻠﻮ
2 ۔ 《 ﮔﻨﺪﻡ ﺩﻟﯿﮧ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 ﮐﻠﻮ
3 ۔ 《 ﭨﻮﭨﺎ ﭼﺎﻭﻝ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8 ﮐﻠﻮ
4 ۔ 《 ﮐﺎﻟﮧ ﭼﻨﺎ ﺩﻟﯿﮧ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5 ﮐﻠﻮ
5 ۔ 《 ﻣﮑﺊ ﺩﻟﯿﮧ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5 ﮐﻠﻮ
6 ۔ 《 ﺟﻮﺉ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 7 ﮐﻠﻮ
ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺳﺘﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﺭ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻭﺯﻥ ﺑﮍﮬﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﮑﻮ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠّﻪ۔
ﺍﺏ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻤﺎﻝ ﮎ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﻓﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺍِﺳﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ 7 ﺩﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﮈﯾﻮﺭﻣﻨﮓ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮈﯾﻮﺭﻣﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﯿﮕﺮ ﻭﯼ ﺳﯿﺮﭖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺻﺒﺢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ 10 ﻣﻠﯽ ﻟﯿﭩﺮ 7 ﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﮈﯾﻮﺭﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺩﻥ ﺍﯾﻮﺭﻣﯿﮑﭩﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ 2 ﺳﯽ ﺳﯽ ﺯﯾﺮ ﺟﻠﺪ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﻥ 7 ﺩﻥ ﮎ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ 1 ﺑﮑﺮﮮ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮎ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮑﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﺑﮍﮬﺎ ﻟﯿﺠﯿﮯ۔ ☆☆☆
-1 ☆ ﺷﺎﻡ 6 ﺑﺠﮯ 100 ﮔﺮﺍﻡ ‏( ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ 100 ﮔﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ 50 ﮔﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ‏) ﮐﺎﻻ ﭼﻨﺎ ﺍﻭﺭ 100 ﮔﺮﺍﻡ ﻣﮑﯽ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮕﻮ ﺩﯾﮟ۔
-2 ☆ ﺻﺒﺢ 6 ﺑﺠﮯ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﺻﻒ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺋﯿﮟ۔ 1 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﯿﻠﺌﯿﮯ ﭼﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺌﯽ ﺑﮭﯿﮕﻮ ﺩﯾﮟ۔
-3 ☆ ﺁﺩﮬﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﮑﺲ ﺩﺍﻧﺎ 300 ﮔﺮﺍﻡ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ 10 ﺑﺠﮯ ﺗﮏ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﻨﮯ ﮎ ﻟﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ۔
-4 10 ﺑﺠﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ 11 ﺑﺠﮯ 3 ﺳﮯ 4 ﮐﻠﻮ ﺳﺒﺰ ﭼﺎﺭﺍ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ۔
-5 ☆ ﮈﯾﮍﮪ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ 12:30 ﭘﺮ ﺳﺒﺰ ﭼﺎﺭﺍ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ 4 ﺑﺠﮯ ﺗﮏ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﯾﮟ۔ 300 ﮔﺮﺍﻡ ﮐﮭﻞ ﺑﻨﻮﻻ ﺻﺎﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮕﻮ ﺩﯾﮟ۔
6 ۔ ☆ 4 ﺑﺠﮯ ﺑﮭﯿﮕﻮﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮭﻞ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ 100 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﻮﮐﺮ ﻣﮑﺲ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﺩﯾﮟ۔
☆7 - 6 ﺑﺠﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﮟ ۔
☆-8 ۔ 7 ﺑﺠﮯ ﺑﮭﯿﮕﻮﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﮑﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺎ ﮐﮭﻼ ﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ 8 ﺑﺠﮯ ﻣﮑﺲ ﺩﺍﻧﺎ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﺏ ﺩﺍﻧﮯ ﮐﮯ 2 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭨﺐ ﻣﯿﮟ ﻭﻧﮉﺍ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ ﺟﻮ ﺻﺒﺢ 6 ﺑﺠﮯ ﺗﮏ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﮯ۔
-9 1 ﺩﻥ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ 1 ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ 50 ﮔﺮﺍﻡ ﮨﻀﻢ ﻣﺴﺎﻻ ﺩﯾﮟ۔
-☆10 ﮨﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﻮ 3 ﺑﺠﮯ 500 ﮔﺮﺍﻡ ﺩﮨﯽ ﻣﯿﮟ 250 ﮔﺮﺍﻡ ﺳﺮﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﯿﻞ ﻣﮑﺲ ﮐﺮ ﮎ ﭘﻼ ﺋﯿﮟ۔ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺳﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﯿﻞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﺘﮭﺎ ﮐﺎ ﺗﯿﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔
-☆11 ﺟﺲ ﺩﻥ ﺣﺎﺿﻤﮧ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻏﮧ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺩﻥ 50 ﮔﺮﺍﻡ ﻣﻨﺮﻝ ﻣﮑﺴﭽﺮ ﻣﯿﮟ 20 ﮔﺮﺍﻡ ﮈﯼ ﺳﯽ ﭘﯽ ﻣﮑﺲ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮟ۔
-☆12 ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ 100 ﮔﺮﺍﻡ ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺎﺱ ﻓﯿﭩﺲ ﺩﯾﮟ۔ ﮨﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ 50 ﮔﺮﺍﻡ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ 200 ﮔﺮﺍﻡ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺑﮍﮬﺎﻧﺎ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﮟ
♡ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺍﺟﺰﺍ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ ﮐﺎﺭﺁﻣﺪ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻟﻠّﻪ ﭘﺎﮎ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﺁﻣﯿﻦ۔


;
بکریوں کی فارمینگ بکریوں کی فارمینگ Reviewed by Khushab News on 8:51:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.