ضلع کونسل بجٹ اجلاس، ہنگامہ آرائی، تلخ کلامی، نعرے بازی


خوشاب نیوز ڈاٹ کام) چیئرپرسن ضلع کونسل خوشاب سمیرا ملک نے ضلع کونسل کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں فنڈز کا زیادہ حصہ ترقیاتی منصوبوں کے لیئے اور کم حصہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیا ہے انہوں نے کہا کہ ضلع کونسل کے تمام ممبران معززاور قابل احترام ہیں اس لیے ضلع کونسل کے اجلاسوں کے انعقاد کے لیے ایک بڑا ا سمبلی ہال بھی تعمیر کیا جائیگا جس 
میں معزا اراکین ضلع کونسل کی سرگرمیوں کو امن طریقے سے انجام دے سکیں گے ۔سمیرا ملک نے کہاکہ عوام نے ہمیں فلاحی کاموں اور علاقے کی ترقی کے لیے منتخب کیا ہے لہذا میں عوام کی خوشحالی اور ان کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گی ۔اجلاس میں وائس چیئرمین مسعود نذیر راجٹر جو ضلع کونسل کے ایوان میں سپیکر کی فرائض انجام دے رہے ۔علاوہ ازیں چیئرمین امیر مختار سنگھا ،رضوان مختار رندھاوا اور دیگر 
ممبران بھی موجود تھے ۔ڈی او فنانس امین اقبال شیخ نے سپیکر اسمبلی کی اجازت سے امسال 35 کروڑ 96لاکھ 66 ہزار کا بجٹ پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔اجلاس میں امین اقبال شیخ نے سابقہ چھ ماہ کے بجٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع کونسل کی کل آمدنی 12 کروڑ 10 لاکھ 84 ہزار روپے تھی جن میں ڈو یلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ پر سات کروڑ 71 لاکھ 24 ہزار اور چار سو روپے خرچ ہوئے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے خلاف جے آئی ٹی رپورٹ ہر عدم اعتما د کی قرار دار پیش کی ۔دیگر معزز اراکین نے میاں نوازشریف پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہاکہ فیصلہ کوئی بھی ہو ہم وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا مکمل ساتھ دیں گے ۔
اجلاس میں چیئر پرسن سمیت سمیرا سمیت ضلع کونسل کے پچپن ارکان شریک تھے، تینتیس ارکان نے شو آف ہینڈ کے ذریعے بجٹ کی منظوری دی اوربجٹ فنانس کمیٹی کےکنوینیئرہادی بخش نے پیش کیا ڈی اوفنانس شیخ امین نےمعاونت کی
 جبکہ چیئر پرسن سمیرا ملک کےنمائندہ ناصرٹمن کےاجلاس میں بیٹھنےپرہنگامہ،اپوزیشن ارکان نےبجٹ کی کاپیاں پھاڑدیں اورایوان سےباہرچلےگئےضلع کونسل کے بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری کے بعد امیر حیدر سنگھا کی قیادت میں اپوزیشن ارکان کی ایوان سے باہرشدید نعرہ بازی





ضلع کونسل بجٹ اجلاس، ہنگامہ آرائی، تلخ کلامی، نعرے بازی ضلع کونسل بجٹ اجلاس، ہنگامہ آرائی، تلخ کلامی، نعرے بازی Reviewed by Khushab News on 9:17:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.